اسرائیلی جوابی کارروائی، چار فلسطینی ہلاک

Israeli Army

Israeli Army

غزہ پٹی (جیوڈیسک) اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ چار فلسطینی ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج پر حملے کے بعد کی گئی جوابی کارروائی میں یہ ‘دہشت گرد‘ مارے گئے۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے دن بتایا ہے کہ غزہ پٹی کی سرحد کے نزدیک اس کے فوجیوں پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد جوابی کارروائی کی گئی۔ اسرائیلی دفاعی افواج کی طرف سے جاری کیے بیان کے مطابق اس فوجی کارروائی کے نتیجے میں چار فلسطینی ‘دہشت گرد‘ ہلاک کر دیے گئے۔

غزہ پٹی اور اسرائیل کی سرحد پر اسرائیلی فورسز اور فلسطینی مظاہرین کے مابین تصادم ایک معمولی سی بات ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ہفتے کے دن بھی ایسی ہی جھڑپوں کے دوران ایک فلسطینی نے ہینڈ گرینڈ سے اسرائیلی فوج پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

اسرائیلی فوج کے ٹوئٹر ہینڈل پر شائع کیا گیا ہے کہ حملہ کرنے والے چار جنگجو حملہ آور رائفلز، اینٹی ٹینک میزائلز اور دستی بموں سے مسلح تھے۔ تاہم ان جنگجوؤں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ اس کارروائی میں اسرائیلی فوج کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

اسرائیل نے حماس کے زیر قبضہ غزہ پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ تاہم دوسری طرف غزہ پٹی کے محاصرے سے وہاں سکونت پذیر فلسطینیوں کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔

مغربی کنارے میں رواں ہفتے کے آغاز پر ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس واقعے میں ایک انیس سالہ اسرائیلی فوجی اور طالب علم کو ایک حملہ آور نے چاقوؤں کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ ابھی تک اس حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

یہ تازہ پرتشدد واقعات کے ایک ایسے وقت پر رونما ہوئے ہیں، جب اسرائیل میں سترہ ستمبر کو عام انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ فلسطینی جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اور سخت پالیسی اختیار کریں۔