fbpx

جماعت اسلامی اور پاکستان میں دوسری سیاسی جماعتوں کا تقابلی جائزہ

Jamaat-e-Islami

Jamaat-e-Islami

تحریر : میر افسر امان

سیاسی جماعتوں کے اندرونی اسٹریکچر، اقتدار میں آکر کارکردگی اور پاکستان کی اساس کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تومایوسی کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیںآتا۔جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ ساری سیاسی جماعتوں مورثی ہیںاورکچھ اسٹبلشمنٹ کی بنائی ہوئی ہیں۔ صرف جماعت اسلامی آل انڈیا مسلم لیگ ڈھاکہ میں قائم ہوئی۔پھر اس کی قیادت قائد اعظم نے سنمبھالی ۔ کنونشن مسلم لیگ ڈکٹیٹر ایوب خان نے بنائی۔پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو نے بنائی۔ اس کی بعد بیٹی بے نذیر بھٹو ، آصف علی زرداری اوراب نواسے بلاول زرداری جس نے سیاسی فاہدہ کے لیے زرداری سے بھٹو بننا پسند کیا، کی ہے۔ نون لیگ جرنل جیلانی،ڈکٹیٹر ضیا ء الحق اور نواز شریف، شہباز شریف اور مریم صفدر ،جس نے بھی سیاسی فاہدہ کے لیے مریم صفدر کے بجائے مریم نواز بننا پسند کیا ،کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بنائی یہ بھی مورثی نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام مفتی محمود کے بعد ان کے بیٹے فضل الرحمان کی ہے اور آگے بیٹے تیار بیٹھے ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی پہلے عبدالغفار خان، ولی خان، اسفند یار ولی اور اب ایمل ولی خان کی ہے۔ ق لیگ ڈکٹیٹر پرویز مشرف اور اب چوہدری برادران کی ہے۔ ایم کیو ایم علاقائی لسانی تنظیم غدار پاکستان دہشت گرد فاشسٹ الطاف حسین، جیو سندھ علیحدگی پسند تنظیم غلام مصطفےٰ شاہ( جی ایم سید) اور پشتون تحفظ موومنٹ منظور پشین نے بنائی۔ یہ لسانی اور قومیت پسند تنظیم کھلم کھلا پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف مہم چلائی ہوئی ہے۔ سب پارٹیاں اپنے قریبی رشتہ داروں کو الیکشن میں ٹکٹ دیتی ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کو نوازتیں ہیں، غیر جمہوری ہیں۔، قومی خزانے سے اسراف کرتی ہیں۔ عوا م کی خدمت نہیں کرتیں۔ اسلامی نظریاتی جماعت اسلامی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے بنائی۔جو مورثی جماعت نہیں۔ جماعت اسلامی قائئد اعظم کے اسلامی وژن اور دو قومی نظریہ کی حقیقی جانشین ہے۔ جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔

آل انڈیا مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی لیڈر شپ میںپاکستان مذہب کے نام سے بنایا تھا۔ مسلم لیگ پاکستان بننے کے بعد ملکِ پاکستان کو متفقہ آئین نہ دے سکی۔ جس سے ملک میں اتحاد واتفاق کا فقدان رہا۔ ١٩٥٦ء کامتفقہ آئین تو بنا ،مگر سکندر مرزا اور ایوب خان نے مارشل لا لگا کر اسے منسوخ کر دیا۔( کہا جاتا ہے کہ سکندر مرزا غداروں کی اولاد میں سے تھا) مسلم لیگ کے دور میں اتنی وزاتیں بدلیں کہ ہمارے ازلی دشمن وزیر اعظم بھارت نہرو کو یہ کہنے کا موقع ملاکہ پاکستان میں جتنی وزارتیں بدلتیں ہیں اتنی میں دھوتیاں بھی نہیںبدلتا۔قائد اعظمنے بھی کہا تھا میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ قائداعظم محترم نے پاکستان کا مطب کیا” لا الہ الاا للہ ” کے نام سے پاکستان بنایا تھا۔پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم کو اللہ نے جلد اپنے پاس بلا لیا۔ اس کے بعد مسلم لیگ نے قائد اعظم کے اسلامی وژن سے رو گردانی کرتے ہوئے کہا کہ” چودہ سو سالہ پرانہ نظام اسلامی” اِس دور میں نافذ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی بانی مسلم لیگ کئی ٹکڑوں میں بٹتی رہی ۔ایوب خان نے ١٩٥٨ء میں مارشل لا لگا کر پاکستان کے متفقہ آئین جس میں پاکستان کا نام” اسلامی جمہوریہ پاکستان” اوراُردو کو قومی زبان تسلیم کیا گیا تھامنسوخ کر دیا۔ ایوب خان نے امریکا کی ایما پر سب سے پہلے قائد اعظم کے اسلامی وژن اور پاکستان کی اسلامی اساس سے غداری کر کے مارشل لا لگا کر اسلام کا راستہ روکا۔

پاکستان میں اسلامی نظام کے لیے جد و جہد کرنے والی جماعت اسلامی پر پابندی لگائی۔ مسلم لیگ میں سے کنونشن مسلم لیگ نکالی۔سیاستدانوں پر ایبڈو پابندیاں لگائی۔ امریکا کے کہنے پر اسلامی کے عالی قوانین میں ردو بدل کیا جو آج تک رائج ہیں۔١٩٦٢ء کا عبوری آئین دیا۔پاکستان میں بنیادی جمہورتوں کا نظام رائج کیا۔ ٨٠ ہزار حلقوں میں پی ڈی ممبر چنے گئے۔ پھر ٨٠ ہزار بی ڈی ممبران سے ووٹ لے کر صدر بن بیٹھا۔ پاکستان کے ١٩٥٦ء کے متفقہ آئین کو منسوخ کر کے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد رکھی۔غداروطن شیخ مجیب پر اگر تل سازش کیس قائم کیا۔ ایوب خان نے جمہوریت دشمنی کر کے ڈکٹیٹر شب کو راستہ دکھایا۔ ایوب خان دور کی کارکردگی یہ ہے کہ اس کے دور میں پاکستان نے ریکارڈ صنعتی ترقی کی۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں کارخانے لگے۔صنعتوں کی وجہ سے مزدروں کو نوکریاں ملیں۔تربیلہ اور منگلہ ڈیم بنے۔ ملک نے ترقی کی اور عوام نسبتاً خوشحال تھے۔بے روزگاری کم تھی۔١٩٦٥ء ی پاک بھارت جنگ میں بھارت کو شکست فاش دی۔ پھر وزیر خارجہ بھٹو نے تاشقند پاک بھارت جنگی معاہدے میں کیڑے نکال کر ایوب خان کے خلاف سیاست کی۔ مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہو ئے۔ مجیب کو اگر تلہ کیس میں گرفتار کیا۔ گول میز کانفرنس کے مطالبہ پر شیخ مجیب کو رہا کیا گیا۔ ملک میں ایوب خان کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ ایوب خان دوسرے ڈکٹیٹر یخییٰ خان کو اقتدار کر رخصت ہوا۔

پاکستان پیپلز پارٹی ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے جسد سے پیدا ہوئی۔متحدہ پاکستان میں١٩٧٠ء کے الیکشن میں قائد اعظم کے اسلامی وژن اور پاکستان کی بنیادی

٢
اساس کیخلاف وردی کرتے ہوئے کرتے ہوئے روٹی کپڑا مکان اسلامی سوشل ازم کے نعرے پر مغربی پاکستان میںاکثریت حاصل کی۔ چاہیے تو تھا کہ باقی پاکستان میں نئے الیکشن ہوتے ۔ جو پارٹی الیکشن جیتتی وہ پارٹی اقتدار میں آتی۔ یخییٰ خان اور بھٹو نے مل کر پاکستان توڑا۔ بھٹوتاریخ میں پہلی مرتبہ سول ماشل لا ایدمنسٹیٹر بنا۔ پاکستان کے سارے اداروں کو نیشنل لائزکیا۔ پاکستان میں فسطائی طرز کی حکومت کی۔ سیاسی اختلاف پر ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر نذیر کو اور کوئٹہ میں عبدالصمد اچکزئی کو کو شہید کرایا۔ قصور کے محمد احمد خان کے قتل کے مقدمے میں عدالت سے پھانسی کی سزا پائی۔ملک میں فحاشی کا زور تھا۔ بھٹو نے ایک دفعہ خود کہا کہ شراب پیتا ہوں غریبوں کا خون نہیں پیتا ۔ ایجنسیوں کی رپورٹ پر ١٩٧٧ء کے انتخابات کرائے۔ ان اتخابات میں ریکارڈ دھاندلی کرائی۔ لاڑکا نہ سے جماعت اسلامی کے قومی اسمبلی کے امیدار جان محمد عباسی کو اغوا کیا۔ اس کے خلاف ٩ جماعتوں کامتحدہ قومی اتحاد بنا۔ قوم نے نظام ِمصطفےٰ کے پھر پور مہم چلائی ۔ ایک بار امریکا کے کہنے پر اس ملک میں اسلام کا راستہ روکنے کے لیے مارشل لا لگا دیا گیا۔ضیاء الحق ذاتی طور پر اسلام پسند تھا۔اس نے ضرورکچھ اسلامی نظام کے لیے کام کیے۔مگر جب تک اسلامی نظام کے لیے ٹیم نہ ہو اکیلے شخص کا کام نہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بھٹو بیگم نصرت بھٹو پیپلز پارٹی کی چیئرمین بنی۔ ٢٢ ستمبر کا اخبار گار ڈین کے نمائندے سائمن کو انٹرویو میں” پاکستان کے سخت اسلامی قوانین کے نفاذ کے بارے میں اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا۔کہا میں نہیں سمجھتی کہ پاکستانی عوام فی الحقیقت یہ بات پسند کریں گے کہ ان پر یہ ڈاڑھی والے بوڑھے ملا حکومت کریں۔ وہ نہیں چایتے ہاتھ کاٹے جائیں، لوگوں پر کوڑے برسائے جائیں یا انہیں سنگسار کیا جائے۔ اور جہاں تک میرا تعلق ہے میں شراب پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں۔ بند شدہ نائٹ کلب دوبارہ کھلنا چاہییں۔ لوگ سمجھدار ہیں کہ وہ اپنی پسند کاخود تعین کریں”(حوالہ پرفیسر غفور احمد کی کتاب” اور الیکشن نہ ہو سکے ” صفحہ ٨٧۔٨٨)۔اس کے بعد پیپلز پارٹی ہمیشہ بھٹو کے نام سے عوام میں جاتی اور اقتدار میں آتی رہی ہے۔ اقتدار کی لالچ میں زرداری خاندان کو بھٹو خاندان میں مصنوی طور پر تبدیل کر دیا گیا۔بے نذیربھٹو کی شہادت کے بعد اس کا بیٹا بلاول زرداری ایک مصنوعی پرچی پر پیپلز پارٹی کا چیئرمین بنا۔پیپلز پارٹی کی یہ کارکردگی کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کو١٩٧٣ء کا متفقہ آئین دیا۔،قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ پہلی بار پاکستان میں اسلامی کانفرنس منعقد کی۔ جمعہ کی چھٹی اورشراب پر پابندی لگائی۔ خرابی یہ ہے کہ غریب عوام سے جھوٹے وعدے کر کے سیاسی شعور بیدار تو کیا،مگر غریب کے عوام کے مسائل حل نہیں کر سکے۔

ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ١٩٧٠ء کے انتخابات میں عوام کے جذبات اُبھارے۔ مزدرو ںکو فیکٹری مالکان سے لڑا دیا۔ ہاریوں کو زمینداروں سے لڑا دیا۔ عوام کو سبز باغ دکھائے۔ پورے نہ کر سکنے والے وعدے کیے عوام کو بے وقوف بنانے میںکامیاب ہو گئے۔ اس دور میں دانشور حضرات کہتے ہوئے سنے گئے تھے ۔بھٹو صاحب یا تو پاکستان کو بنا دے گا یا تباہ کر دے گے۔ ان کا تجزیہ صحیح ثا بت ہوا۔بھٹو کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہو گیا۔ پاکستان کی تاریخ مرتب کرنے والوں نے لکھا ہے اور بجا لکھا ہے کہ اگر پولینڈ کی قرارداد نہ پھاڑی جاتی، اِدھر ہم اوراُدھر تم کا نعرہ نہ لگایا جاتا اور ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں نہ دی جاتیں تو پاکستان دو لخت ہونے سے شاید بچ سکتا تھا!بے نذیر بھٹو کے دور میں مرد اوّل زدراری نے قومی خزانے سے اسراف کی تو حد کر دی ۔ گھوڑوں کو مربہ کھلانے ،پر آسائش زندگی گزرانے،کرپشن میںبین ا لاقوامی طور مسٹر ٹین پرسنٹ مشہور ہونے۔ پھر اپنے صدارتی دور میں صدر کے کچن کی تزین و آرائش پر ١٧ کروڑ کے خرچے کے خرچے اخبارات میں آ ئے تھے۔ مرکزی قیادت سے لیکر نیچے تک کرپشن کی انتہا کر دی۔ دو وزیر اعظم نا اہل قراردیے گئے۔ غیر ممالک نے کرپشن کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی حکومت کو امداد دینے کے بجائے سول اداروں کو مدد دی۔پیپلز پارٹی کے دور میں بھی عوام کی حالت نہ بدلی۔ کرپشن،امن وامان، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ،دھماکے، بیروزگاری کیا کیا بیان کیا جائے ۔ان کے وزیر خارجہ حسین حقانی صاحب پر امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا۔ حقانی کے خلاف اب بھی مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے۔ ان کے دور میں امریکا نے پاکستان کے خلاف ناجائز مداخلت کر کے شیخ اسامہ کو گرفتار کرنے کا جعلی ڈارمہ رچایا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی عوام کی زندگی اجیرن رہی۔ اب بھٹو صاحب کے نام پربلاول زرداری چیئر مین پیپلز پارٹی کو میدان میں اُتارا گیا ہے۔

نواز شریف کے وقت تک مسلم لیگ کے الف سے ہی تک بٹتی بٹاتی ہوئی (ن) لیگ تک پہنچی۔ مختلف سیاستدانوں اور ڈکٹیٹرز نے مسلم لیگ کے مردہ گھوڑے پر سواری کرتے رہے۔ نواز شریف ١٩٨٠ سے ١٩٨٥ تک پنجاب کے وزیر خزانہ رہے۔١٩٨٥ سے ١٩٩٠ تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔١٩٩٠ سے١٩٩٣ وزیر اعظم رہے۔١٩٩٧ سے ١٩٩٩ تک وزیر اعظم رہے۔ پھر ١٩١٣ء سے١٩٩١ء تک وزیر اعظم رہے۔نون لیگ کی اندر صرف نمائشی چنائو ہوتا ہے اورشریف خاندان ہی کا قبضہ برقرار رہتا ہے۔ اسی طرح ان کے بھائی بھی تیس سال تک اقتدارمیں رہے۔ مگر عوام کی حالت نہ بدلی۔ اب کرپشن کے مقدمات بھگت رہے ہیں۔اب بھی شہباز شریف جو لیڈر آف حزب اختلاف ہیں نے ایک بار پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اگر اقتدار ملا تو چھ ماہ میں ملک کی حالت بدل دیں گے۔ دونوں بھائیوں کے تیس سالہ دور حکمرانی میں حالات نہیں بدل سکے تو اب کیا تیر ماریں گے؟۔ نواز شریف نے نون مسلم لیگ کو مورثی بنا کراپنی اولاد ارشتہ داروںکو ٹکٹ دیے۔ اب سپریم کورٹ سے سیاست سے تاحیات اہل ہونے کے بعد خود رہبر، چھوٹے بھائی شہباز شریف کو صدر، اپنی بیٹی مریم صفدر کو نائب صدر بنایا ہوا ہے۔(ن) مسلم لیگ کا کارنامہ ہے کہ اس نے ایٹمی دھماکہ کیا۔ اسمبلی میںدو تہائی اکثریت حاصل کی۔ مقبولیت کا

٣
گراف سب سے زیادہ ہے مگر شکا ئتیں بھی سب سے زیادہ ہیں۔ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ عدلیہ نواز شریف کے حق میں فیصلے دیتی رہی ہے۔مگر جب سپریم کورٹ کی لاجر بینچ نے نواز شریف کے خلاف تا حیات سیاست سے نا اہلی کا فیصلہ دیا، تو عدلیہ اور فوج کے ساتھ محاذ آرائی شروع کی۔ آخر سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما جانگیر ترین کو بھی سیاست میں تا حیایت نا اہل قرارددیا۔ اُس نے تو فوج اور عدلیہ پر الزام تراشی نہیں کی! نواز شریف نے شہروں شہر جلسے اور ریلیاں نکالی اور کہا مجھے کیوں نکالا۔ووٹ کو عزت دو۔ حتہ کی اپنی پوزیشن کو غدار پاکستان شیخ مجیب سے ملا دیا۔ کرپشن میں عدالت سے سزا ہوئی ۔ بیماری کا بہانہ بن کرلندن اپنی جاگیر اور بچوں کے پاس چلے گئے۔ عدلیہ نے اشتہاری اوربگوڑا قرار دیا۔ کہا کہ نواز شریف نے ملک کے عدالتی سسٹم سے دھوکہ کیا۔ مجموعی کارکردگی مناسب نہیں رہی۔ دو تہائی اکثریت کے باوجود کالا باغ ڈیم نہ بنا سکے۔ قرض مکائو ملک بچائو فنڈ کا اتا پتا نہیں۔ ٣٢ ارب ڈالر کے قرضے چھوڑ گیا۔ پاکستان ایشیا کاٹا ئیگر نہ بن سکا، امریکی خواہش پر تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی، روشن پاکستان کی باتیں، کہا کہ میںانتہا پسند نہیںسیکولر ہوں۔آئینی طور پر تسلیم شدہ غیر مسلم اقلیت قادیانیوں کو بھائی کہا۔امریکی سابق سفیر مسٹرمنٹر سے الیکشن کے دوران امریکا مخالف ماحول نہ بننے دینے کا وعدہ اور بھارت سے کشمیر کے حل کے بغیر دوستی کی باتیں ایسی ہیں جو عوام کو منظور نہیں۔ا سی وجہ سے مسلم لیگ کے سپورٹر اور د ائمی حمایتی نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی صاحب کی برہمی کی مثال شامل ہے۔

نواز شریف نے قائد اعظم اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اسلامی وژن اور دو قومی نظریہ سے دھوکا کیا۔اسلامی جمہوری اتحاد کے وقت الیکشن مہم میں اعلان کیا کہ ٢٤ اکتوبر الیکشن کے نتائج کے بعد اسلامی نظام کا سورج طلوع ہوگا۔ جیت جانے کے بعد کہا کہ میں بنیاد پرست اور قدامت پسند نہیں۔ لوگ نماز پڑھیں،روزہ رکھیں، زکوٰة دیں اور حج کریں ۔ اسلام رائج ہو جائے گا۔(حوالہ پروفیسر غفور احمد کتاب”نواز شریف کا پہلا دور حکومت” )قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے وقت مسلم لیگ ملک کے خزانے سے اسراف کے جرم میں مبتلا نہیںہوئی تھی۔ملکی خزانے سے خرچہ کر کے رائے ونڈ محل کے لیے سڑکیں بنائی ۔ایک دفعہ قاضی حسین احمد صاحب صجافیوں کو جاتی عمرہ دیکھانے لے گئے تھے۔ عمران خان کے مطابق نواز شریف نے اپنے دور میں ناجائزپیسہ کما کر ایک اتحاد فیکٹری سے گیارا ملیں بنائیں۔کرپشن کے مقدمے ختم کرانے اور بقول عمران خان این اور آر حاصل کرنے کے لیے ساری سیاسی جماعتوں کو پی ڈی ایم بنا کر فوج اور عدلیہ پر دبائو ڈال کر عمران خان حکومت بگائو مہم چلائی۔پی ڈی ایم میںاندرونی اختلافات ، بلاول زرداری اور مریم صفدر کی بچا گانہ سیاست کی وجہ سے نیشنل عوامی پارٹی اور پیپلز پارٹی اتحاد سے نکل گئے۔اب پی ڈی ایم ونٹیلیٹر پر ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی سرحدی گاندھی کی بنائی ہوئی پارٹی ہے۔ اس پارٹی کے سربراہ نے پاکستان میں دفن ہونا بھی پسند نہ کیا۔اس نے پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ ا ب بھی اپنے پرانے پاکستان مخالف نظریات سے نہیں ہٹی۔ بھارت کے ساتھ کنفیڈریشن بنانے کی باتیں کرتی رہی ہے۔ یہ بھی مورثی پارٹی ہے۔ غفار خان ،ولی خان ، اسفند ولی خان کے بعد اور ان کے بیٹے ایمل ولی خان اس کے سربراہ ہیں۔ اس پارٹی نے بھارت کی ایما پر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کالا باغ ڈیم نہ بننے دیا۔ بلکہ ولی خان ڈیم بناتو ا سے بم سے اُڑا دینے کی دھمکی دی۔بانی پاکستان قائد اعظم کی قیادت میں صوبہ سرحد کو پشتونستان بنانے کی مہم میں اسے شکست ہوئی تھی۔ اس پارٹی کے دور کا کارنامہ کہ صوبہ سرحد کو خیبر پختونخواہ کا نام ملا۔ غیر پشتوں علاقوں، ہزارہ،ڈیرہ اسمائیل خان ا ور کوہستان کی آبادیوں کو یہ نام نامنظور ہے۔ نیشنل عوامی پارٹی کو خیبرپختواہ اور بلوچستان میں مفتی محمود صاحب کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کا موقعہ ملا۔ ٢٠٠٨ میںجماعت اسلامی اور دوسری پارٹیوںکے بائیکاٹ اور نواز شریف کی بے وفائی کی وجہ سے خیبرپختونخواہ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر پھر حکومت بنائی۔مگر اس کے دور میں امریکا سے ایک خفیہ معاہدے کی وجہ سے خیبرپختونخواہ کے لوگوں کو تاریخی دکھوں کا سامناکرنا پڑا۔بیگم نسیم ولی کے مطابق امریکا سے ڈالر لے کرامریکی جنگ میں شریک بن کر پشتونوں کا سودا کیا۔ اس کے دور میں ٢٥ لاکھ شہریوں کو اپنی ہی ملک میں مہاجر بننا پڑا۔لاتعدادکیمپوں میں زندگی بسر کر تے رہے۔ ہمارے ٢٥فوجی جوانوں پربمباری کر کے شہید کرنے پر فوج نے ناٹو کی نیٹو سپلائی بند کی تو امریکا کو نیٹو سپلائی کھولنے کے لیے حمایت کی۔ خیبر پختون خواہ میں فوجی آپریش ان کی مدد سے ہوئے۔

ایم کیو ایم بھارت کی ایما پر نا نہاد حقوق اور مہاجروں کی مصنوئی قومیت کے نام پر وجود میں آئی تھی۔ فوج نے پیپلز پارٹی کے انتقام کو کنٹرول کرنے کے لیے ایم کیو ایم کو پروان چھڑایا۔سندھ میں غوث علی شاہ کے دور میں اسے من مانیاں کرنے کی اجازت دی۔ پھر آخر میں فوج ہی نے اس کا دھڑن تختہ بھی کیا۔ دہشت گرد غدار پاکستان الطاف حسین نے اوّل روز سے ہی مہاجروں کو ٹی وی اور وی سی آر فروخت کرو اور اسلحہ خریدو کے فلسفے کے تحت قتل و غارت پر لگایا۔ ایم کیو ایم کی دہشت گردی کی وجہ سے ڈر سے سندھ میں ساری پارٹیاں ایک طرف ہو گئی۔صرف جماعت اسلامی ایم کیو ایم کی پاکستان دشمن بیانیہ کا مقابلہ کیا۔ ایم کیو ایم نے جماعت اسلامی درجنوں کارکنوں کو بے ردردی سے شہید کیا۔راقم خود کئی جنازوں میں شریک رہا۔ ایم کیو ایم کے ہیڈ کواٹر ٩٠کے سامنے گروئنڈ میں ایک کارکن کا جنازہپڑھانے کے بعد امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! میرے جماعت اسلامی کے ان مظلوم کارکنوں کا بدلہ تو ہی ظالموں سے لے۔پھر ایم کیو ایم حقیقی بنی۔ ایم کیو ایم حقیقی نے کراچی میں بینرز لگائے الطاف حسین بھارتی خفیہ

٤
ایجنسی را کا ایجنٹ ہے۔ الطاف حسین نے نعرہ دیا” جو قائد کا غدار ہو وہ موت کا حق دار ہے” ایک دوسرے کے ہزاروں کارکنوں کو قتل کیا۔ الطاف حسین اور فاروق ستار کے علاوہ پہلی مرکزی قیادت قتل غارت سے اللہ کو پیاری ہو ئی۔ تیس سال سے اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی قاتل نہیں پکڑے گئے۔ اقتدر اورفنڈ ملنے کے باوجودکراچی میں ترقیاتی کام نہیں کیے تاکہ مہاجر پریشان ہوں اور پاکستان بننے کی مخالفت کر تے رہیں۔کرپشن کا یہ حال کہ بھتہ خوری کی وجہ سے دہشت الطاف حسین ،ہنڈا ففٹی سے کئی جائیدادوںکا مالک بن بیٹھا۔ اس کے ساتھ جو غریب بستیوں کے رہنے والے ، کراچی کے پوش علاقوں کے بنگلوں کے مالک بن گئے۔ زوال کے آخری دنوں میںایم کیو ایم کے کارکن کراچی پریس کلب کے سامنے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے بیٹھے تھے۔دہشت گرد الطاف حسین نے ان سے خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں کہاپاکستان ا یک ناسور ہے اسے ختم ہونا چاہے۔ میںپاکستان کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ امریکا، اسرائیل بھارت میری مدد کریں۔ الیکٹرونک میڈیا کے دفتر پر حملہ کرنے پر اُکسایا۔ ڈاکٹر فاررق ستار سمیت سارے کارکنوںجی بھائی جی بھائی کہتے رہے۔ پھر سب نے میڈیا کے دفتر پر حملہ کر حملہ کر دیا۔محافظ پاکستان فوج بلا آخر حرکت میں آئی۔رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر فاروق ستا ر کو گرفتار کیا۔ رات بھر رینجرز کی تحویل میں رہا۔صبح پہلے سے طے شدہ اسکیم کے تحت دہشت گرد االطاف حسین سے لا تعلقی کا اعلان کیا۔ اندر سے اب بھی ایک ہیں۔ اپنے سیل شدہ دفاتر کو کھولنے کے لیے عمران خان پر دبائو ڈال رہے ہیں جو کسی طرح بھی نہیں کھلنے چاہییں۔ پھرایم کیو ایم میں نصف درجن حصوں میں تقسیم ہو گئی۔پاکستان کے سیکڑوں شہروں میںغدار پاکستان الطاف حسین کے خلاف پاکستان کے آئین کی دفعہ چھ کے تحت ایف آئی آر درج ہوئیں۔کراچی کی ایم کیو ایم کی بلدیہاتی حکومت اور سارے پاکستان کی بلدیاتی حکومتوں، پاکستان کی ساری صوبائی حکومتوں،قومی اسمبلی، اور سینینٹ میں دہشت گرد الطاف کے خلاف آئین پاکستان کی دفعہ چھ کے تحت غداری کے مقدمے قائم کرنے کے لیے قرادادیں پاس ہوئیں ۔ عدلیہ نے دہشت گرد اور غدار وطن الطاف حسین کی تصویر اور تقریر پر پابندی لگائی۔

چاہے تو یہ تھا کہ الیکشن کمیشن پاکستان دہشت گرد غدار پاکستان الطاف حسین کی ایم کیو ایم پر پابندی لگا کر اس کے مرکزی اور صوبائی اور بلدیاتی ممبران کو ڈی سیٹ کر کے ضمنی الیکشن کرواتا۔ نواز شریف کی مرکزی حکومت سپریم کورٹ میں غدار پاکستان الطاف حسین کے خلاف آئین پاکستان کی دفعہ چھ کے تحت غداری کا مقدمہ قائم کرتی۔ مگر نواز شریف نے ایسا نہیں کیا۔ اب ایم کیو ایم کا ایک دھڑا عمران خان کی اتحادی حکومت میں شامل ہے۔ ایم کیو ایم کا کارنامہ یہ ہے کہ کراچی کے عوام ان کوتیس سال سے منتخب کرتے رہے۔ چائے وہ ٹھپہ مافیا ، دھونس دھاندلی یا جھرلوانتخا بات کے ذریعے ہو ۔ پاکستان دشمنی یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے پاکستان کو ٧٠ فی صد ریوینو دینے والے منی پاکستان کو قتل و غارت میں نہائے رکھا۔ معیشت تباہ ہو گئی ۔ پاکستان بننے کو بھارت دہلی میں ایک پروگرام میں تاریخی غلطی قرار دیا۔قائد اعظم پر الزام تراشی کی۔الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر دہشت گردی سے قبضہ کیے رکھا۔ قلم اور دلیل سے بات کرنے والے مہاجروں کے ہاتھ میں کلاشکوئف دھما دی۔مہاجر عوام کے حالات بدتر سے بدتر ہو گئے۔ کوئی حقوق نہیں مل سکے۔ نعرہ لگایا تھا ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے ۔١٠٠ سے زیادہ پر تشدد ہڑتالیں کرائیں۔ جس سے ملک کی معیشت تباہ ہو گئی۔ اب مکافات عمل کہ غدرار پاکستان الطاف حسین دہشت گرد مودی حکومت سے رُو رُو کر شہریت کی درخواستیں کر رہا ہے۔ سارے لوگ ساتھ چھوڑ گئے بلکہ وعدہ گواہ بننے کے لیے تیار ہیں گئے۔کچھ بچے کچے ایم کیو ایم لندن کے نام پر کراچی شہر میں کبھی کبھی دہشت گردی کرتے رہتے ہیں۔جی ایم سید کی علیحدگی پسند” جیے سندھ تحریک” کو سندھی کے محب وطن عوام نے کبھی بھی لفٹ نہیں دی۔منظور پشین نے پہلے ایس ایس پی کراچی ملیر رائو انوار جو پیپلز پارٹی کے پالے ہوئے پولیس افسر ہیں، کے ہاتھوں جعلی انکائونٹر میں ایک بے گناہ پشتون نوجوان نجیب اللہ خان کے کراچی میں قتل ہونے پر تحریک چلا کر پشتونوں میں پزیرائی حاصل کی ۔بعد میں” پشتون تحفظ موومنٹ” بنائی۔ سابق فاٹا میں فوجی آپریشن کو بنیاد بناکر پشتونوں کے حقوق کے نام پر سابق فاٹا میں پشتون قومیت کے نام دو سیٹیں جیتی۔ مگر محب وطن پشتون عوام اس کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام جو جمعیت علمائے ہند کے وجود میں سے نکلی ہے۔ تحریک پاکستان کے وقت جمعیت علمائے ہند نے کہا تھا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں لہٰذا ہندوستانی ایک قوم ہیں یعنی دو قومی نظریے کی مخالفت اور کانگریس کی حمایت کی تھی۔ مسلم لیگ نے قائد اعظم کی قیادت اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے قومیت پر مضامین کہ مسلمان قوم نظریہ سے بنتی ہے نے کانگریس کو شکست دی تھی۔پھر پاکستان وجود میں آیا ۔ گو کہ مفتی محمود صاحب نے پاکستان بننے کے بعد کہا تھا کی مسجد بنتے وقت کس طرح بننی چاہیے میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ مگر مسجد بن جانے کے بعد ہم نے اپنی رائے سے رجوع کرلیاہے۔ مگرکسی بات پر ایک دفعہ پھر بھی بیان داغ دیا تھا کہ ہم پاکستان بنانے میں شامل نہیں تھے! کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی سے مل کر دو صوبوں میں حکومت بھی بنائی ۔ اقتدار سے چمٹے رہے کی خواہش رکھتی ہے۔ وکی لیک کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحٰمان نے امریکی سفارت خانے سے درخواست کی تھی کہ انہیں پاکستان کا وزیر اعظم بنا دیں، وہ امریکی مفادات کاخیال ا رکھے گا۔ ۔کیا کسی اسلامی پارٹی کے سربراہ کو امریکا جیسے کافر ملک سے ایسی درخواست کی توقع کی جا سکتی ہے؟ جب انہیں متحدہ مجلس عمل کے تحت دوصوبوں میں حکومت کرنے کا موقع ملا تو ڈکٹیٹر مشرف کا ساتھ دیا۔ ایم ایم اے مولانا فضل ا لرحمان کی وجہ سے ٹوٹی۔ اقتدار کی رسیاجمعیت علمائے اسلام یک عرصہ تک پیپلز پارٹی،نون لیگ اور ڈکٹیٹر مشرف حکومت میںرہی ۔ اب فضل الرحمان پی

٥
ڈی ایم کے سربراہ بنے ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم تقریباً ختم ہونے والی ہے۔ زرداری کامعنی خیز جملہ کہ مولانا کو میں منوا لینے کے گر سمجھتا ہوں۔ جمعیت علمائے اسلام بھی مورثی پارٹی ہے۔ ابھی سینیٹ الیکشن میں رشتہ داروں کو ٹکٹ دیے۔موجودہ سیاسی جوڑ توڑ کی وجہ سے مرکزی لیڈر شیرانی اور دوسرے مرکزی عہدہ دار فضل الرحمان سے الگ ہو گئے۔عمران حکومت نے مولانا پر کرپشن کے الزام لگایا ہے۔

(ق )لیگ کی کیا بات ہے پاکستانی فوج کو امریکی کرایے کی فوج بنانے والے قوم کے مجرم ڈ کٹیٹر پرویزمشرف کی بنائی ہوئی جماعت ہے۔جمہوری پارٹی ہونے کی دعوی دار ہے ق لیگ کااسٹبلشمنٹ سے ناجائز وفاداری ظاہر کر کے ڈ کٹیٹرپرویز مشرف کو ١٠٠ بار وردی میں منتخب کرنے کا بیان پریس میںآیا تھا۔ اس کے دور کے لال مسجداور حفصہ مدرسہ کی بچیوں کو زندہ جلانے کے واقعات ابھی عوام کے دلوں میںدکھ زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ق لیگ ڈکٹیٹرمشرف کے ان جرائم میں پوری کی پوری شریک تھی۔ ق لیگ کوقاتل لیگ کہنے والی پیپلز پارٹی سے اتحاد کرکے اس کے لیڈر نائب وزیر اعظم بنے تاکہ عوام کو مذید دھوکہ دیں۔اب تحریک انصاف کے ساتھ پنجاب حکومت میں شریک ہو کر اسپیکر کا عہدہ حاصل کیا ہے۔تحریک انصاف میںکسی حادثے کے انتظارمیںہر وقت پنجاب کا وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف علامہ اقبال کے خواب قائد اعظم کے اسلامی وژن اور کرپشن فری پاکستان کے منشور ر کے ساتھ ٢٠١٨ء کا الیکشن جیت کرمیدان میں اُتری ہے۔ اس کے لیڈر عمران خان کے سارے رنگ ڈھنگ بھٹو مرحوم سے ملتے جلتے ہیں۔ نہ پورے ہونے والے وعدے کر پاکستان کے عوام کی حمایت حاصل کی۔ آئی ایم ایف کے چنگل میںپھنس کر عوام پر نئے نئے ٹیکسوں کی بر مار کر کے غریب عوام کو مہنگائی کے سمندر میں ڈبو دیا ہے۔ عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ سونامی سونامی کرتے ملک بھر میں ہیلی کاپٹر اور عوام میں مشہور تحریک انصاف کی اے ٹی ایم مشن، جہانگیر خاں صاحب کے جہازمیں سفر کر کے انتخابی تحریک چلائی۔ اب جہاگیر ترین چینی اسکینڈل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کئے مرکزی اور سات صوبائی ممبران نے جہانگیر ترین صاحب کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف سے انصاف مانگنے کی بات کر رہے ہیں۔عمران صاحب کرپشن فری پاکستان، علامہ اقبال کے خواب اور قائد اعظم کے پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے ، مدینے کی فلاحی ریاست قائم کرنے کے کی صبح شام میڈیا پر گردان دھراتے رہتے ہیں۔ مگرآج تک مدینے کی اسلامی فلائی ریاست کے لیے کوئی ٹھوس کانہیں کیا۔ سودی نظام اور انگریز کا عدالتی ویسا ہی چل رہا ہے۔ الٹامعاشی نظام کو سود خور ادارے آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے۔ اب اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو بھی آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کے لیے بل پارلیمنٹ میں لا رہے ہیں۔ جس کی جماعت اسلامی سمیت سارا پاکستان نے مخالفت کر رہا۔ انگریزی عدالتی نظام کی وجہ سے کرپشن کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔مہنگائی سے عوام تنگ آ چکے ہیں۔ عوام سے نہ پورے ہونے والے وعدے کر کے نوجوانوں میں ہلچل پیداکی۔ اخبارات میں قادیانیوں سے ووٹ مانگنے والی تحریک انصاف کی عہدہ دار خاتون کی فوٹو شائع ہوئی تھی جو اب بھی نیٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ عمران خان کے حوالے سے امریکی سفیر منٹر کہا تھا کہ عمران امریکا خلاف مہم عوام میں نہیں چلائیں گے ۔سارے لوٹے ان کی جماعت میں داخل ہو چکے ہیں ۔ عوام نے تحریک انصاف کی نظام اسلام کے نفاذ کے لیے کاردگی بھی دیکھ لی۔ کارنامہ یہ ہے غریب مزدروں کے لیے قیام گاہیں بنائی۔ وہاں کھانے پینے اور رات بسر کرنا کا انتظام کیا۔ سیلانی ویلفیئر ادارے کے ساتھ مل کر پاکستان میں لنگر خانے کھولے۔ اب موبائل لنگر خانے کھولنا شروع کیے ہے۔ اسا س پروگرام میں نقد امداد اورصحت کے لیے غریبوں کوہیلتھ کارڈ جاری کیے۔ کہ عوام میں کرپشن کے خلاف آگاہی پیدا کی۔ کرپشن کے خلاف مہم بھی جماعت اسلامی کی چلائی ہوئی تھی۔ مگر امریکی فنڈد پاکستانی میڈیا نے ہمیشہ کی طرح جماعت اسلامی کا ساتھ نہیں دیا۔ عمران خان کو الیکٹرونک میڈیا کرپشن آگاہی مہم میں بر پور ساتھ دیا۔

جماعت اسلای ١٩٤١ء میں لاہور میں ٧٥ افراد اور ب٧٥ روپے ٦آنے کے سرمایا سے قائم ہوئی ۔ اُسی وقت سے پاکستان میںحکومت الہیٰہ یا اسلامی نظام زندگی کے قیام اور حقیقتاً رضائے الہیٰ اور فلاح اُخروی کے حصول کے لیے کام کر رہی ہے۔طاغوتی طاقتوں سے نبردآزما ہے۔ جماعت اسلامی اپنے تطہیر افکار، تعمیر افکار، صلاح افراد کی تلاش ،ان کی تربیت اور نظم میں شمولیت، اصلاح معاشرہ اور نظام حکومت کی تبدیلی کے چو مکھی پروگرام کے تحت کام کر رہی ہے۔جماعت اسلامی قائد اعظم کے اسلامی وژن اوردو قومی نظریہ کی جانشین اور حقیقی وارث ہے۔ جماعت اسلامی ١٩٧٠ء کے بعد پہلی دفعہ اپنے منشور،جھنڈے اور نشان کے ساتھ الیکشن میں اُترنی کی پالیسی بنائی ہے۔جماعت اسلامی مورثی جماعت نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کا بانی سید ابو الاعلی مودودی مہاجر، دوسرا امیر میاں طفیل محمد پنجابی، تیسرا میرقاضی حسن احمد پٹھان، چھوتھا امیر سید منور حسن مہاجر،پانچویں امیر سرالج الحق پٹھان ہے۔جماعت اسلامی کے مرکزی امیر،مرکزی شوریٰ کے دستور کے مطابق متعین وقت پر خفیہ رائے کے طریقے سے انتخابات ہوتے ہیں۔اسی طرح ماتحت باقی تنظیم کے اندرونی اتخابات بھی وقت مقررا پر جمہوری طریقے سے ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی میں کوئی امیدوار خوداپنے آپ کو الیکشن لڑنے کے لیے نہیں پیش کرتا۔بلکہ اگر کسی کا معلوم ہو جائے کہ وہ اس کی کوشش کر رہا ہے تو جماعت اسلامی اسے ڈسکوا لیفائی کر دیتی ہے۔کارکنوں کی رائے کی روشنی میں جمہوری طریقے الیکشن کے لیے ٹکٹ جاری کیے

٦
جاتے ہیں۔جماعت اسلامی کے مرکزی،صوبائی اور ضلعی امیر کبھی بھی اپنے رشتہ دار کو ٹکت جاری نہیں کر سکتے۔پاکستان کی سب سے بڑی این جی او” الخدمت فائونڈیشن ”کے ذریعے دکھی انسانیت کی خدمت کر رہی ہے۔اب تو اسے ایشیا کی بڑی فلاحی تنظیم تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اس کے کارکن کرونا قدرتی آفت میں سر دھڑ کی بازی لگا کر عوام کی خدمت کر رہی ہے۔ پاکستان اور ساری دنیا میں اسلام کے پر امن نظام حکومت کی داعی ہے۔ قول و فعل میںسچی ہے۔ پورے پاکستان میں ہفتہ وار پرگروموں میں اس کے کارکن عوام کو دین اسلام کی تربیت کر رہے ہیں۔ اس کے منتخب نمائندے کرپشن میں ملوث نہیں رہے ۔ اب تو سپریم کورٹ نے بھی کہا ہے کہ اگر پاکستان کے سیاست دانوں کو آئین پاکستان کی دفعہ ٦٢۔٦٣ پر پرکھا جائے تو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ہی پورے اُتر سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے پاس پاکستان کو مدینے کی فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے لیے اعلی تعلیم یافتہ ٹیم موجود ہے۔ خیبرپختونخواہ میں دو دفعہ حکومت میں شامل رہی۔ اس کے حکومتی اہلکار قومی خزانے پر بوجھ نہیں بنے۔ سینئر وزیر سراج الحق پشاور سے لاہور تک پبلک ٹرنسپورٹ پر سفرکیا اور خزانے سے صرف ٦٢٥ روپے کا بل و صول کیا۔گڈگورنرز کا بیرونی اداروں سے سر ٹیفکیٹ بھی حاصل کیا۔بیرونی دوروں میں اسراف سے بچنے کے لیے مہنگے ہوٹلوں میں قیام کے بجائے مسجد میں قیام کیا۔ دورے حکمرانی میں عوام سے روزانہ کی ملاقاتوں کا پروگرام مسجد میں رکھا۔ الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری، کرپشن اور نااہل امیدواروں کی جولسٹ جاری کی ہے اس میں پیپلز پارٹی کے ٢٩،عوامی نیشنل پارٹی کے ١٤،ایم کیو ایم کے ٧،ق لیگ کے ٥ ، ن لیگ کے٤، جمعیت علمائے اسلام کے٤،پی ٹی آئی کے ٢ کارکن شامل ہیں ۔ الحمد اللہ جماعت اسلامی کا ایک بھی کارکن اس لسٹ میں شامل نہیں ہے۔

عوام نے پاکستان کی تمام بڑی پارٹیوں کو اقتدار دے کر دیکھ لیا ہے۔حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ عوام غریب سے غریب تر ہوتے رہے۔ سیاست دانوں امیر سے امیر تر ہوتے رہے۔ ان کی جائیدادیں بیرون ملک۔ ان کی تجارتیں بیرون ملک۔ سیاستدانوں کے کاروباربیران ملک ۔ان کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کا علاج ملک بیرون ملک ہوتا ہے۔ جب بھی ان کے احتساب یا مشکل کا وقت آتا ہے یہ بیرون ملک بھاگ جاتے ہیں۔یہ ملک کو لوٹ کر کوڑی کوڑی کا محتاج کر چکے ہیں۔ پاکستان کا ہر شہری ڈیڑھ لاکھ روپے کا بیرونی سود خوروں کا مقروض ہے۔مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔ ان حالات میں اب اگر عوام جماعت اسلامی کو الیکشن میں کامیاب کر کے اقتدار میں لائیں تو پاکستان میں اصلاح کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ہم نے پاکستان کی ساری سیاسی مذہبی جماعتوں کے اسٹریکچرز، اندرونی انتخابات، اقتدار میں رہنے والی جماعتوں کے کارنامے اور کارکردگی، عوام کی حالت زار خودعوام کے سامنے آشکارکر دی ہے۔ساری جماعتوں کے تجزیے سے کھل کر جو بات سامنے آ گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ پاکستان کے سب حکمرانوں نے قائد اعظم کے اسلامی وژن کے ساتھ غداری کی۔پاکستان میں دو قومی نظریہ کی مخالف سیکولر بھارتی لابی کو آگے بڑھنے کا موقعہ فراہم کیا۔ کرپشن، مہنگائی،گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ،بدامنی،قتل و غارت،بے روزگاری،دہشت گردی،بم دھماکے،خود کش حملے ، بیرونی مداخلت ،عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ٹال مٹو ل ،کارکنوں اوررشتہ داروںکو قومی خزانے سے نوازنے، رشتہ داروں کو الیکشن میں ٹکٹ جارنی کرنے، عدالتوں سے سزا یافتہ اپنے کارکنوں کو حکومتی عہدوں پر تعینات کرنے،جن لوگوں کے جرم عدالتوں میں ثابت ہوئے اور لوٹی ہوئی رقم واپس بھی کی ۔وہ دوبارہ ا س لیے نمائندے بنائے گئے تاکہ جیت کر آئندہ پھر کرپشن کریں۔ فوج اور عدلیہ کے خلاف مہم جوئی کی۔ ہم نے ملک کی تمام جماعتوں کی کارکردگی کا تقابلی جائزا اور ملک کے حالات کا نقشہ عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔اب عوام پر فیصل چھوڑتے ہیں کہ کھری اور کھوٹی سیاسی پارٹیوں کو پہچان کر اپنا فیصلہ دیں۔ ایک اور بات کہ ہمارے ملک میںتباہی کا ذمہ دارہمارادوست نما دشمن امریکا ہے۔ ہم نے اوپر درج کیا ہے کہ الیکشن کے وقت سابق سفیر مسٹر منٹر سے پیپلز پارٹی،نون لیگ اوراور تحریک انصاف نے الیکشن میں امریکا کے خلاف مہم نہ چلانے کے وعدے کیے تھے۔ جبکہ امریکا کے دبائو میں نہ آنے والی واحد جماعت اسلامی نے پاکستان میں ”گو امریکا گو ”مہم چلائی۔ اب بھی عمران خان کے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کے بل پارلیمنٹ میں لانے پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ”گوآئی ایم ایف گو” کی مہم چلانے کا اعلان کو چکے ہیں۔ہم تو اپنے کالموں میں جہاں تک لکھتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں”یہ محفل جو آج سجی ہے اس محفل میں، ہے کوئی ہم سا(جماعت اسلامی سا) ہم ہے تو سامنے آئے” مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے ایک دفعہ تو یہاںتک فرمایا تھا۔” جیسے کل صبح سورج کے طلوع ہونے کا مجھے یقین ہے۔ اسی طرح پاکستان میں اسلامی نظام ِحکومت کے نفاذ کا بھی کا بھی یقین ہے” یہ کام صرف جماعت اسلامی کر سکتی ہے۔ ان شاہ اللہ۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان