fbpx

کووڈ انیس: جاپان میں بھی نئے کورونا وائرس کی میوٹیٹڈ قسم دریافت

Coronavirus - Japan Tokio

Coronavirus – Japan Tokio

جاپان (اصل میڈیا ڈیسک) جاپانی حکام نے بتایا ہے کہ کووڈ انیس نامی بیماری کا سبب بننے والے کورونا وائرس کی ایک نئی تبدیل شدہ شکل سامنے آئی ہے، جس کی کم از کم چار مریضوں میں تشخیص ہو چکی ہے۔ فی الحال اس میوٹیٹد قسم کی خصوصیات واضح نہیں۔

کووڈ انیس کا سبب بننے والے کورونا وائرس کی جاپان میں ایک نئی شکل دریافت ہوئی ہے۔ دارالحکومت ٹوکیو میں ملکی وزارت صحت نے اتوار کے روز ایک بیان میں بتایا کہ برازیل سے آنے والی ایک پرواز کے چار مسافروں میں اس وائرس کی ایک نئی ذیلی قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ مسافر جنوبی امریکی ملک برازیل سے دو جنوری کو جاپان پہنچے تھے اور ہانیڈا انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر قرنطینہ کی مدت کے خاتمے پر جب ان کے دوبارہ ٹیسٹ کیے گئے، تو ان ٹیسٹوں کے نتائج مثبت آئے۔ جاپان میں وبائی امراض کے ملکی انسٹیٹیوٹ کے سربراہ تاکاجی واکیٹا نے بتایا کہ ان مسافروں میں پائی جانے والی کورونا وائرس کی میوٹیٹڈ قسم اس وائرس کی حال ہی میں برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی نئی میوٹیشنز سے مختلف ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 89.7 ملین ہو گئی ہے۔ اب تک 1.9 ملین سے زائد انسان اس وبائی مرض کی وجہ سے ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ امریکا اس عالمی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، وہاں متاثرین کی تعداد 22.1 ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی تین لاکھ بہتر ہزار سے زائد بنتی ہے۔ بھارت میں متاثرین کی تعداد قریب ساڑھے دس ملین ہے۔ عالمی سطح پر اس وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 49.8 ملین بنتی ہے۔

جاپان میں چاروں متاثرہ مسافروں میں اس وائرس کی علامات مختلف ہیں۔ چالیس سال سے زائد عمر کے ایک مرد کو سانس لینے میں دشواری کے باعث ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ تیس برس سے زیادہ عمر کی ایک خاتون کو گلے میں خراش اور سر درد کی شکایت ہے۔ ایک ٹین ایجر لڑکے کو بخار ہو گیا جبکہ ایک ٹین ایجر لڑکی میں فی الحال کوود انیس کی کوئی علامات سامنے نہیں آئیں۔

جاپانی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ حال ہی میں برطانیہ میں سامنے آنے والی کورونا وائرس کی نئی میوٹیٹڈ شکل کی بھی تین مریضوں میں تشخیص ہوئی ہے۔ نئے کورونا وائرس کی اس مخصوص قسم کے بارے میں طبی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں اس وائرس کی نئی میوٹیشن کی تشخیص کے تناظر میں جنوری کے آخر تک جاپان نے اپنے ہاں تمام غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔