fbpx

یروشلم کے مسلم اکثریتی علاقوں میں یہودیوں کو مارچ کی اجازت

Protest in Israel

Protest in Israel

یروشلم (اصل میڈیا ڈیسک) اسرائیلی حکومت نے قوم پرست اور سخت گیر یہودیوں کو یروشلم کے مسلم علاقوں میں متنازعہ مارچ کی اجازت دے دی ہے۔ حماس نے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہونے کے تئیں خبردار کیا ہے۔

اسرائیل میں چند روز کی مہمان بینجمن نیتن کی حکومت نے سخت گیر اور قوم پرست یہودیوں کو مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مسلم آبادی والے علاقوں میں ‘یرو شلم ڈے’ کی مناسبت سے پریڈ نکالنے کی پھر سے منظوری دے دی ہے۔

پہلے یہ ریلی اسی ہفتے جمعرات کو ہونے والی تھی تاہم پولیس نے مسلم علاقے میں اس کے اصل راستے پر اس کی اجازت دینے سے منع کر دیا تھا اس لیے اب حکومت نے اگلے ہفتے 15 جون منگل کے روز کی تاریخ مقرر کی ہے۔

لیکن فلسطینی علاقے غزہ پر حکمرانی کرنے والے اسلامک گروپ حماس نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے اور کہا کہ اگر یہ ریلی ان علاقوں سے گزری تو اس کے سنگین نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں اور اس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

گزشتہ ماہ بھی اسی علاقے میں کشیدگی کے سبب اسرائیل اور حماس کے درمیان شدید لڑائی چھڑ گئی تھی جو گیارہ دن تک جاری رہی۔ اس میں درجنوں کم سن بچوں اور خواتین سمیت تقریبا ڈھائی سو فلسطینی ہلاک ہوئے تھے جبکہ 13 افراد اسرائیل میں مارے گئے تھے۔

پولیس کے اعتراض کے بعد سخت گیر یہودیوں اور اس پریڈ کے منتظمین نے اسے منسوخ کر دیا تھا۔ تاہم آٹھ جون منگل کے روز نیتن یاہو کی کابینہ نے اس معاملے پرایک میٹنگ کی اور ایک بیان میں کہا کہ وزرا نے آئندہ ہفتے اس مارچ کے نکالنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

بینجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا، ”آنے والے منگل کو یہ پریڈ اسی فارمیٹ کے تحت ہو گی، جس پر پریڈ کے منتظمین اور پولیس کے درمیان اتفاق ہوا ہے۔”

اسرائیل میں حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں نے جب سے مشترکہ طور پر ایک مخلوط حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے اس وقت سے نیتن یاہو سخت سیاسی دبا میں ہیں۔ اگر نئی حکومت تشکیل پاتی ہے تو گزشتہ 12 برس سے جاری نیتن یاہو کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

اتوار کے روز اسرائیل کی پارلیمان، کینسٹ، میں نئی مخلوط حکومت پر ووٹنگ ہونی ہے اور اگر ان جماعتوں کو مخلوط حکومت سازی کے عمل میں کامیابی ملتی ہے تو اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے بینجمن نیتن یاہو کا اقتدار ختم ہو جائے گا۔

نئی حکومت کی قیادت انتہائی سخت گیر اور یہود ی قوم پرست رہنما نیفتالی بینٹ اور اعتدال پسند رہنما یائر لیپید کے ہاتھ میں ہو گی اور اگر ان کی حکومت بن جاتی ہے تو اس مارچ کے بارے میں حتمی فیصلہ بھی وہی کریں گے کہ اس کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

پانچ جون کو اسرائیلی فوج نے مختلف محاذوں پر حملہ کر کے عرب افواج کی اگلی صفوں کا صفایا کر دیا تا کہ اسے پیش قدمی میں مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مشرقی یروشلم پر اسرائیل کے قبضہ کرنے کی یاد میں ہر برس 10 مئی کو ‘یروشلم ڈے’ منایا جا تا ہے۔ اسرائیل نے سن 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا اور اسی کی یاد میں یہ پریڈ نکالی کی جاتی ہے۔ اس موقع پر سخت گیر قوم پرست یہودی فخریہ پریڈ کا اہتمام کرتے ہیں اور یہ پریڈ شہر کے ان قدیمی علاقوں سے گزرتی ہے جہاں زیادہ تر مسلمان بستے ہیں۔ مارچ کے دوران سینکڑوں یہودی نوجوان اسرائیلی پرچم لے کر دمشق گیٹ سمیت مسلم آبادی سے گزرتے ہیں۔ اس دوران مارچ کے شرکا اسرائیلی فوج کی شجاعت اور حب الوطنی کے نغمے بھی گاتے ہیں۔

بہت سے فلسطینی اسرائیل کی اس پریڈ کو دانستہ اشتعال انگیزی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس برس کا مارچ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے آخری ہفتے میں ہونا تھا تاہم علاقے میں شدید تنا کے سبب ایسا نہیں ہو سکا۔ لڑائی کے دوران بھی ایک بار اس پریڈ کی کوشش کی گئی تاہم اس وقت بھی نہیں ہو پائی اس لیے اب پھر سے اس کے اہتمام کی تیاری کی جا رہی ہے۔