fbpx

کراچی: پی آئی اے کا طیارہ ائیرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ، 57 افراد جاں بحق

PIA Plane Crash

PIA Plane Crash

کراچی (اصل میڈیا ڈیسک) کراچی انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے قریب لاہور سے آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کا مسافر طیارہ گرکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں اب تک 57 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

لاہور سے کراچی آنے والی قومی ائیرلائن کی پرواز ائیرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہو گئی۔ طیارے میں 91 مسافر اور عملے کے7 ارکان سوار تھے۔

طیارہ لینڈنگ سے چند سیکنڈ پہلے گر کر تباہ ہوا ، پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کا رابطہ لینڈنگ سے ایک منٹ پہلے ٹوٹا، جہاز ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن کی آبادی پر گرا، عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارے میں آگ لگی ہوئی تھی اور انجن سے شعلے نکل رہے تھے، پائلٹ نے ڈولتے طیارے کو اوپر اٹھانے کی کوشش بھی کی لیکن درمیان میں ایک چار منزلہ عمارت آگئی، جس سے طیارے کا پچھلا حصہ بلند عمارت سے ٹکرایا تو جہاز کا زور ٹوٹا اور وہ مکانوں پر آگرا۔

دوپہر ایک بجکر پانچ منٹ پر پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے اڑان بھری، منزل تھی تقریباً پونے دو گھنٹے کی دوری پر کراچی کا جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ۔

91 مسافروں اور عملے کے 7 افراد کو لے کر طیارہ کراچی ائیرپورٹ کے قریب پہنچا تو لینڈنگ سے ایک منٹ پہلے تک پائلٹ اور کراچی کنٹرول ٹاور رابطے میں تھے لیکن ایک منٹ میں سب کچھ بدل گیا، لینڈنگ سے صرف تین سیکنڈ پہلے جہاز کراچی کی ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن میں جاگرا۔

رہائشی علاقے میں طیارہ گرنے سے مکانوں اور گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارے میں آگ لگی ہوئی تھی اور اس کے انجن سے شعلے نکل رہے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پائلٹ نے ڈولتے ہوئے طیارے کو اوپر اٹھانے کی کوشش بھی کی لیکن درمیان میں ایک چار منزلہ عمارت آگئی جس سے طیارے کا پچھلا حصہ ٹکرایا تو جہاز کا زور ٹوٹ گیا اور وہ سیکنڈوں میں آبادی پر آگرا،دُم کے بل گرنے کی وجہ سے طیارے کے اگلے حصے میں بیٹھے بعض مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، رینجرز اور ریسکیو اداروں کی ٹیمیں امدادی آپریشن کے لیے ماڈل کالونی پہنچیں، تنگ گلیوں کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، امدادی کارروائیوں میں پاک فوج کے 10 فائر ٹینڈرز بھی شامل رہے۔

پاک فوج کےایوی ایشن ہیلی کاپٹرزکےذریعے علاقے کا فضائی جائزہ لیا جاتا رہا،کوئیک ری ایکشن فورس سول انتظامیہ کےساتھ امدادی کارروائیوں میں شریک رہی، مسافروں کے رشتے دار کبھی ائیرپورٹ تو کبھی جائے وقوع کے چکر لگاتے رہے اور اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔

بدقسمت طیارے کے بلیک باکس کااہم حصہ کوئِیک ایکسس ریکارڈر بھی تلاش کرلیا گیا ہے جسے سول ایوی ایشن حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ترجمان پی آئی اے نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 8303 کو لینڈنگ کے وقت حادثہ پیش آیا اور طیارہ 2 بجکر 37 منٹ پر تباہ ہوگیا۔

ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے زیر استعمال یہ ائیربس اے 320 طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور اس کی عمر تقریباً 10 سے 11 سال تھی اور طیارہ مکمل مینٹین تھا لہٰذا تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

ذرائع کا بتانا ہےکہ سول ایوی ایشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل ائیرٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

جہاز کے پائلٹ اور ٹریفک کنٹرول ٹاور کے درمیان آخری رابطے کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی جس میں طیارے کے پائلٹ نے ایک انجن فیل ہونےکی اطلاع دی اور مے ڈے مے ڈے کی کال دی تھی جس پر پائلٹ کو بتایا گیا کہ طیارے کی لینڈنگ کے لیے دو رن وے دستیاب ہیں جس کے بعد طیارے کا رابطہ منقطع ہو گیا۔