کشمیر کی آزادی ۔۔۔ جنگ اور امن

Indian Army in Kashmir

Indian Army in Kashmir

تحریر : سید عارف سعید بخاری

جنگ و جدل اقوام کی تباہی سے زیادہ کچھ نہیں ، طاقت کے گھمنڈ میں سپر طاقتیں دنیا پر اپنا تسلط جمانے کے لئے سازشوں میں مصروف رہتی ہیں۔ امریکہ دنیا کی واحد قوت ہے کہ جو امن کے نام پر دہشت گردانہ کارروائیوں کو وسعت دے رہی ہے۔آزاد اقوام کسی کی دست نگر ہو کر نہیں رہنا چاہتیں ، لیکن اکثر ممالک میں عسکری و سیاسی قوتیں بڑی طاقتوں کی کاسہ لیس بن کر اپنے ہی ملک کے عوام کو ان قوتوں کا غلام بنانے اور دنیا کا امن تباہ کرنے میں لگے ہیں۔ امریکہ نے ماضی میں جاپان پر بم برسائے ، ویت نام کو فتح کرنے کی کوشش کی ،عراق کویت تنازعہ ہو یا ایران عراق جنگ،پاک بھارت کشیدگی ہویا اسرائیل اور فلسطین کا قدیم تنازعہ،یاکشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کا معاملہ ہو، امریکہ سمیت تمام عالمی طاقتوں نے ان تنازعات کو طے کروانے کی بجائے کشیدگی بڑھانے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ بوسینیا اور برما میں مسلمانوں کا قتل عام بھی تاریخ کا ایک المناک باب ہے کمزورممالک پر چڑھ دوڑنا اور انہیں اپنا دست نگر بنانے کی سوچ نے امریکہ کو خود کئی قسم کی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے ، امریکی معیشت دن بدن تنزیلی کا شکار ہو رہی ہے ،لیکن پھر بھی امریکہ سرکار اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کو تیار نہیں۔دنیا کے 7ممالک نے ”ایٹم بم ” بنالئے ہیں۔

مزائیلوں سمیت جدید ہتھیاروں کی تیاری زور و شور سے جاری ہے ، امریکہ نے اپنے جدید ہتھیاروں کی آزمائش کیلئے پاکستان اورافغانسان جیسے مسلم ممالک کو تجربہ گاہیں بنا رکھا ہے ۔ایک ایٹم بم کی تیاری پر اٹھنے والے اخراجات سے ترقی پذیر ممالک اپنے غریب عوام کیلئے ترقی و خوشحالی کے وہ انقلابی پروگرام شروع کر سکتے ہیں کہ جنہیں صفحہء قرطاس پر منتقل نہیں کیا جا سکتا ۔مقام افسوس ہے کہ ایٹم بم کی حامل قوتیں بشمول پاکستان اس امر سے مطمئن اور خوش ہیں کہ ان کے پاس” ایٹم بم ”ہے ،جس کے خوف سے دشمن ہم پر حملے کی جرات ہی نہیں کر سکے گا۔۔لیکن شاہد ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ایک ایٹم بم انڈیا یا پاکستان جو بھی چلائے گااس سے صرف دشمن کو ہی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ یہ ایک ایٹم بم خطے کے دونوں ممالک کے عوام کو آئندہ پچاس سال کیلئے ایسی تباہی و بربادی سے دوچار کر دے گا کہ جس سے ہمارے کئی نسلیں مفلوج و معذور ہو سکتی ہیں ۔ایک لمحے کو ہم اگر یہ طے کر لیں کہ ہم نے اپنے وطن کے ساتھ ساتھ دنیا کو بھی امن کا گہوارا بنانا ہے تو یقیناً ہم اپنا قومی سرمایہ ایٹمی برتری کے حصول کی بجائے اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے صرف کرنے کو ترجیح دیں گے ۔لیکن ہماری سوچ اس کے بالکل برعکس ہے ۔بقول شاعرانور شعور

رہے تذکرے امن کے آشتی کے
مگر بستیوں پر برستے رہے بم

کسی بھی ملک یا گھر کی تعمیر میں کافی وقت صرف ہوتا ہے لیکن اسے تباہ کرنے میں سیکنڈز جتنا وقت بھی نہیں لگتا،اور پھر تباہ کردہ جگہوں پر نئی تعمیرات زیادہ مشکل ہوتی ہیں ۔دنیا کا سکھ چین امن سے عبارت ہے ۔بدامنی اور تخریبی سوچ و فکر ترقی و خوشحالی میں بڑی رکاوٹ ہے ۔کشمیر اور فلسطین کے عوام اپنے وطن کی آزادی کیلئے جس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ یہ مسائل باہمی گفت و شنید سے بھی حل کئے جا سکتے ہیں ۔آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے جسے کشمیر اور فلسطین میں غاصبوں نے بزور شمشیر و طاقت غصب کر رکھا ہے۔افغانستان میں بھی امریکہ نے ہی دہشت اور خوف کو پروان چڑھایا اور روس کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لاجسٹک سپورٹ سے افغانیوں کو جنگ کے شعلوں میں جھونک کر اپنے مقاصد پورے کئے ۔اسی چوہدراہٹ کوقائم کرنے کی پالیسی کے باعث ان علاقوں میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔اب حالیہ کئی دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی کارروائیوں میں شدت آ گئی ہے ،کنڑول لائن کے علاقوں میں کسٹر بموں کا استعمال کیا جارہا ہے ، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے ۔ حریت رہنماؤں یاسین ملک، عمر فاروق ،محبوبہ مفتی سمیت کئی قائدین اور مجاہدین کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے ۔کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370اور35اے کو منسوخ کرنے کا صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے ،کشمیر میں کرفیو نافذ کرکے 70ہزار فوجی تعینات کئے گئے ہیں۔ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری ہے ۔پاکستان نے بھارت سرکار کوانتباہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی کارروائیاں بند کرے ورنہ اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔پاکستان میں پیدا شدہ صورتحال پر غور کے لئے آرمی چیف نے کور کمانڈر کانفرنس بلا لی ہے ،قومی اسمبلی کا اجلاس بھی ہورہا ہے ۔ادھر کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے منصوبے کو بھی پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کیلئے مقتدر قوتیں سرگرم ہو چکی ہیں ۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ،او آئی سی سمیت تمام عالمی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مسلم ممالک بھی یکجا ہوجائیں تو کسی سپر طاقت سے کم نہیں مگر یہ سب بھی بڑی طاقتوں کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ وہاں کے عوام کی منشاء اور خواہش کے مطابق حل کروایا جائے ۔جنگ و جدل سے فتوحات حاصل کرنے کا زمانہ اب گذر چکا ہے ،اب کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کیلئے طاقت کا استعمال دنیا کو عالمی جنگ میں جھونکنے کا سبب بن سکتا ہے ،اس لئے امریکہ ،برطانیہ ، فرانس ،روس ،اقوام متحدہ اور عالم اسلام کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان تنازعات کو حل کرانے میں اپنا اپنا کردار اداکریں ،فلسطین اور کشمیر کی آزادی دنیا کو عالمی جنگ سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔اس لئے اقوام عالم کو اس بارے سنجیدہ رویہ اپنا ہوگا ۔اور انہیں حل کرنے کیلئے ایک میز پر آنا ہوگا۔کیا ہی اچھا ہو کہ ہم سب اپنی توانائیاں اپنے ملکوں اور عوام کی ترقی و خوشحالی پر صرف کریں اور دنیا میں ہر طرف امن کی فاختائیں اڑتی ہوئی نظر آئیں ۔بیشک! انسان کو آج جنگ سے وحشت سی ہونے لگی ہے ،ہر انسان امن و آشتی کا طلب گار ہے،دنیا میں امن کے ٹھیکیداروں کو اس جانب دھیان دینا ہوگا، بقول شاعر بشیر بدر

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

Syed Arif Saeed  Bukhari

Syed Arif Saeed Bukhari

تحریر : سید عارف سعید بخاری

Email:arifsaeedbukhari@gmail.com