fbpx

مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی فوج کشی

Kashmir Black Day

Kashmir Black Day

تحریر : روہیل اکبر

گذشتہ روز 27 اکتوبر کو پوری دنیا میں کشمیر پر بھارت کے فوجی قبضے کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی فوج کشی, غیر قانونی قبضہ اور تسلط قائم ہے کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے لاکھوں کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں خواتین کو بیوہ کر دیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں خواتین کو برسوں سے اپنے خاوندوں سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے کشمیری 73 برسوں سے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور اقوام متحدہ کو باور کروا رہے ہیں کہ ہندوستانی فورسز نے مقبوضہ کشمیر پر جبراً قبضہ کیا ہوا ہے جس کا کوئی اخلاقی، قانونی جواز نہیں ہے۔

ہندوستانی فوج کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کی صدا ئیں بلند کر رہا ہے مودی سرکار آئے روز آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ کبھی مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش ہو رہی ہے کشمیریوں کو نام نہاد مقابلوں میں شہید کیا جارہا ہے لاکھوں غیر ریاستی باشندوں کو مقبوضہ کشمیر کی شہریت دی جارہی ہے بھارت کے یہ اقدامات خطے میں سیکورٹی سے متعلق شدید خدشات کو جنم دے رہے ہیں کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے سے بھارتی مذموم سازش کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے پاکستان کی کوششوں کے باعث آج دْنیا میں بھارتی نام نہاد سیکولیرازم اور جمہوریت بے نقاب ہو چکی ہے، بھارت مذہبی آزادی کے حوالے سے خطرناک ملک بن چکا ہے اورکشمیری اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے عزم و استقامت سے کھڑے ہیں بھارت نے پچھلے سال 5 اگست کو بھی انتہائی قابل مذمت اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دھجیاں اڑائیں بھارت اسرائیل طرز پر مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت میں ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت دیگر غیر جانبدار انسانی حقوق کی تنظیمیوں پر پابندی لگائی جارہی ہے بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک ہیں۔

بھارت کی انتہا پسند پالیسیز پوری دْنیا کے امن کے لیے خطرناک ہیں کیونکہ کشمیر نہ پہلے اُس کا تھا اور نہ آئندہ ہو گا اگر ہندوستان نے ضد نہ چھوڑی تو دنیا کے نقشے پر ہندوستان کے بطن سے کئی ملک جنم لیں گے۔ پورے ہندوستان میں اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ وادی کشمیر میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں کی گونج سے ہندوستان کے ایوان لرز رہے ہیں 27 اکتوبر 1947 کو ہندوستان نے کشمیر میں فوجیں اتاریں اور مہاراجہ سے جعلی معاہدہ کو جواز پیش کیا۔ انگریزی محقق نے بھی تحقیقات کیں کہ مہاراجہ کے ساتھ الحاق کی قرارداد جعلی ہے۔ ہندوستانی رہنما جواہر لعل نہرو نے اقوام متحدہ سے وعدہ کیا تھا کہ کشمیر میں رائے شماری کروائی جائے گی۔ 73 سال گزرنے کے باوجود ہندوستان اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کر رہا کشمیر میں ظلم و جبر کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں عالمی برادری کی منظور کردہ قراردادوں کو بھی ہندوستان مسترد کر رہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم کی رپورٹس پیش کر چکی ہیں مگر ہندوستان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے عالمی برادری کشمیر کو ہندوستانی فوجی قبضے سے چھڑانے کے لیے مداخلت کرے،مشرقی تیمور، جنوبی سوڈان میں مداخلت کی جاسکتی ہے تو کشمیر میں مداخلت کیوں نہیں کی جاتی،5لاکھ کشمیری شہداء کا خون عالمی برادری کے سر ہے کشمیریوں پر بھارت نے تمام سامراجی ہتھکنڈے استعمال کر لیے ہیں لیکن کشمیری پوری جرات اور بہادر ی کے ساتھ آزادی کے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں،تمام تر مظالم کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ آزادی سرد نہیں ہوا نریندرمودی نے کشمیریوں کو 14ماہ سے یرغمال بنا رکھا ہے مگر کشمیریوں کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی بچے بوڑھے جوان مرد و خواتین اپنی آزادی کے لیے پر عزم ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ کشمیریوں نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہے اب تحریک آزادی کشمیر کو منزل سے ہمکنار کرنے کے لیے بیس کیمپ اور اسلام آباد فیصلہ کن کردار ادا کرے حکومت پاکستان ٹھوس حکمت عملی اپنائے عالمی سطح پر اپنے سارے سفارتی مشنز کو برؤے کارلائے تاکہ آزادی کی منزل حاصل ہو سکے۔

جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے کشمیر 4ایٹمی طاقتوں کے درمیان سلگتا ہوا مسئلہ ہے اگر دنیا نے اس پر توجہ نہ دی تو یہ آتش فشاں بن جائے گا جس سے پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑھ جائے گاکیونکہ نریندرمودی اس وقت کشمیریوں کو مسلمان ہونے کی سزا دے رہے ہیں تمام اسلامی ممالک ہندوستان کا سیاسی اور معاشی بائیکاٹ کریں اور بلخصوص عالمی برادری کو چاہئے کہ ہندوستان پر دباؤ ڈالے تاکہ کشمیریوں کو اُن کا بنیادی حق خودارادیت دے ہندوستان مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے اسے پتہ ہے کہ جب مذاکرات ہونگے تو اُس کے کالے کرتوت دنیا کے سامنے بے نقاب ہونگے عالمی برادری کشمیریوں کے پیدائشی حق حق ارادیت کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور اس وقت حکومت پاکستا ن کی کوششوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر عالمی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،آج بھارت مذہبی آزادی کے حوالے سے بھی ایک خطرناک ملک بن چکا ہے۔

بھارت کے تمام ریاستی ادارے ہندوتوا کے نظریے کو پروان چڑھانے کے لیے مودی کی ہندو انتہا پسند حکومت کے ایجنٹس کا کردار ادا کررہے ہیں،عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیرکے ان تمام تر حالات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے خلاف عالمی پابندیوں کا اطلاق کرنا چاہیے اور اس کے ہندو انتہا پسند ایجنڈے کی تکمیل کو روکنا چاہیے اگر آج بھارت کو ان انتہا پسند کاروائیوں سے نہ روکا گیا تو اس کے خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک نتائج برآمدہوں گے اور اسی سلسلہ میں کشمیری رہنمافاروق آزاد نے بھی ایوان وزیراعلی کے باہر ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی ایک نئی لہر شروع ہے ایک طرف کشمیری نوجوانوں کو نام نہاد مقابلوں میں شہید کیا جارہا ہے،کشمیریوں کی املاک کو جلایا جارہا ہے اور دوسری جانب لاکھوں بھارتیوں کو مقبوضہ کشمیر کی شہریت دی جارہی ہے۔

ان حالات میں وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے سفیر اور وکیل کے طور کشمیریوں کے حقوق کی آواز پوری دُنیا میں بلند کی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم کے خطاب اُن کی مسئلہ کشمیر سے متعلق پالیسی اور وژن کے آئینہ دار ہیں۔ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر عالمی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور میں یہاں ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کرتاہوں کہ حکومت پاکستان اور عوام کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک اُن کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی رہیں گی۔

Rohail Akbar

Rohail Akbar

تحریر : روہیل اکبر