fbpx

کشمیر مسئلے کا ایک ہی حل!

Kashmir Issue

Kashmir Issue

تحریر : میر افسر امان

کشمیر مسئلے کا حل کیا ہے۔اس پر پاکستان اور کشمیر کے مسلمان سوچ سوچ کے تھک گئے ہیں، بلکہ بھارت کی شیطانی چالوں نے تھکا دیے گئے ہیں۔بھارت کشمیر کیا پاکستان کے بارے میں نہ پہلے مخلص تھا نہ اب ہے۔ کشمیرمسئلے کو پیدا کرنے والوں، اسے باقی رکھنے والوں اور کشمیر کو بلا آخر ہڑپ کرنے والے کشمیر دشمنوںکی سازش ہے۔ آخر کشمیر مسئلے کا حل کیا ہے؟ کشمیر کے مسئلے کے حل سے پہلے کشمیر کی تاریخی حیثیت بیان کرتے ہیں تاکہ مسئلہ کشمیر صحیح طرح سے اُجاگر ہو جائے اور اس کا حل بھی سمجھ آ جائے۔ یہ تو سب دنیا کو معلوم ہے کہ برٹش ہند کی تقسیم دو قومی نظریہ کی بنیاد پرہوئی تھی۔ہندوئوں نے بڑی کوشش کی تھی کہ انگریز جاتے جاتے ہندو اقتدار ہندو اکثریت کے حوالے کر کے جائے۔ اس کے لیے ہندوئوں نے کچھ مسلمان سیاسی اور مذہبی لیڈروں کو قومیں اوطان ،یعنی ایک وطن میں رہنے والی آبادی سے بنتیں ہیں کے بیانیہ پر راضی بھی کر لیا تھا۔ان حضرات نے تاریخی غلطی کرتے ہوئے ہندوئوں کے جال میں آگئے اور پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ مگر دوسری طرف حضرت شیخ علامہ محمد اقبال کی قرآن و حدیث ، مسلمانوںکی ١٢ سو سالہ اقتدار کی شاندار اور کامیاب دور پرانقلابی شاعری نے مسلمانوں میں اسلامی نشاة ثانیہ کی تڑپ پیدا ہو کر دی تھی۔ علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں دو قومی نظریہ کو اس طرح حل کر دیا تھا:۔

اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسولۖ ہاشمی۔

اس میں شک نہیں کہ جدید دور میں ایک وطن میں رہنے والی ساری آبادی کو قوم کہتے ہیں۔ مگرجیسے دوسرے جدید فلسفے اسلام کے فلسفوں سے لگا نہیں کھاتے اسی طرح جدید دور کی قومیت بھی اسلام کی قومیت سے لگا نہیں کھاتی۔ تحریک پاکستان کے دوران علامہ اقبال کی اسلامی قومیت کو سید ابو اعلیٰ موددی نے اپنے رسالہ ترجمان میں اسلامی قومیت پر مضمون لکھ کر تحریک پاکستان کو تقویت پہنچائی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے سید موددی کی اسلامی قومیت کی تحریروں کو برصغیر کے عوام کے درمیان خوب پھیلایا۔ اس سے برصغیر کے مسلمان ایک امت بن کر قائد اعظم کے کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ قائد اعظم کی بے داخ شخصیت، قانون کی پاسداری ، اصولوں کا پابند اور اسلام کے بتائے ہوئے پر امن سیاسی جد وجہد کرنے والے ایک فرد کی یہ ساری قابلیتیں انگریزوں کو معلوم تھیں۔ انگریز قائد اعظم کی بصیرت کے سامنے نہ ٹھیر سکے اور برٹش ہند کو قائد اعظم کے فارموے کے مطابق تقسیم کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اس تقسیم کے مطابق کشمیر نے مہذبی ،اخلاقی ، قانونی، تہذیبی، ثقافتی،معاشرتی اور علاقائی طور پر پاکستان سے ملنا تھا۔

پاکستان بنتے وقت جب قائد اعظم کی سیاسی جدو جہد کے سامنے ہار مناتے ہوئے ہندوئوں کے سب سے بڑے لیڈر ،موہن داس کرم چند گاندھی( مہاتما گاندھی) نے ہندو قوم کو ایک ڈاکٹرائین دیا تھا۔ اس نے ہند وقوم سے کہا کہ” اب جو پاکستان بن رہا ہے مجھے اس کی فکر نہیں۔ مجھے فکر اس چیز کی ہے اگر پاکستان بن جانے کے بعد یہ افغانستان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے سمندر میں شامل ہو گیا تو اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا” آج جو قوم پرست افغانستان بھارت کی شہ پر پاکستان پر آئے دن حملے کر رہا ہے یہ اسی ڈاکٹرائین کی وجہ سے ہے۔ہندوئوں نے اس وقت سے افغانستان کو اسلامی افغانستان سے قوم پرست افغانستان بنانے کی کوشش کی، جس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو گیا۔ مگر روس کی شکست کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ افغانسان قوم پرست سے اسلامی بنا۔ جس سے ہماری مغربی سرحد محفوظ ہو گئی تھی۔

امریکا کے افغانستان سے نکلنے کے بعد ایک بار پھر افغانستان اسلامی بن جائے گا۔ افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت قائم ہو گی۔ ان شاء اللہ۔ ہندوئوں کو قائد اعظم سے شکست فاش دی تھی۔پھر ہندو سیاسی قیادت نے مجبور ہو کر پاکستان کو مان لیا۔ہندو لیڈروں نے مہاتما گاندھی کے ڈاکٹرائین پر عمل کرتے ہوئے اپنی قوم کو تسلی دی کہ ہم قائد اعظم کے دوقومی نظریہ کو آستہ آستہ کمزور کریں گے اور پاکستان کو دوبارہ بھارت میں ملا کر اکھنڈ بھارت بنائیں گے۔ اسی ڈاکڑائین پر عمل کرتے ہوئے بنگلہ قومیت اور زبان کے نام پر غدار ِ پاکستان شیخ مجیب کو اُکسا کرمشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کیا گیا۔بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ دو قومی نظریہ میں نے خلیج بنگال میں ڈوبو دیا ہے۔مسلمانوں سے ہندوستان پر ہزار سالہ دور حکمرانی کا بدلہ بھی لے لیا ہے۔ بھارت کو پاکستان توڑنے کے ڈاکٹرائین پر عمل کرنے کے لیے سابق سرحد ، موجودہ خیبر پختون خواہمیں پشتونستان کے سرخیل مرحوم عبدالغفار خان، سندھ میں سندھو دیش کے جی ایم سید(غلام مصطفے شاہ) کراچی میں مہاجر قوم پرست الطاف اور بلوچستان میںبلوچ قوم پرست غداران وطن مل گئے۔ اسی ڈکٹرائین پر عمل کرتے ہوئے آ ر ایس ایس کی بنیادی رکن دہشت گردد مودی، ہٹلر کی قوم پرستانہ پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے، پاکستان میں قومیتوں کو اُبھار کر پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں۔ مودی نے پاکستان

٢
کے خلاف جنگ کے منشور پر الیکشن جیتا۔پاکستان پر ہوائی حملہ بھی کیا، گو کہ منہ کی کھائی۔ پوری قوم کو ہندتوا پر اکٹھا کر کے بھارتی مسلمانوں سے جے شری رام کے نعرے لگوانے پر مجبور کر رہا ہے۔ اس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے۔ اب دس ٹکڑے کریں گے۔ آزاد کشمیر پر حملہ کر کے بھارت میں ملانا چاہتا ہے۔بھارتی یوم جمہوریہ پر لال قلعے پر تقریر کرتے ہوئے دہشتگردمودی نے کہا تھا مجھے گلگت اور بلوچستان سے مدد کے لیے فون کال آ رہی ہیں۔مطلب ہٹلر مذاج مودی پاکستان کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ دوسری طرف کشمیری پاکستان کا نا مکمل ایجنڈا پورا کرنے کے لیے ٧٢ سال سے بھارت کے خلاف بر سرپیکار ہیں۔کشمیری اپنی جانی ،مالی اور اخلاقی قربانیں دے رہے ہیں۔قربانیوں کی ایک لمبی داستان ہے۔ کشمیر پر آخری وار کرتے ہوئے بلا آخر بھارت کے آئین سے ٥ اگست ٢٠١٩ء کو ٣٧٠ اور ٣٥، اے، کشمیر کی خصوصی پوزیشن والی دفعات کو ختم کر کے کشمیر کو بھارت میں شامل کر لیا۔ اس وقت سے پوری کشمیر میں کرفیو لگا کر جیل خانہ بنادیا ہے۔

کرفیو کو لگے سوا مہینہ سے زیادہ ہو گیا۔آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کی دھکمیاں بھی دے رہا ہے۔اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں،بھارت کی سپریم کورٹ کے فیصلہ اور خود بھارتی انسانیت پسندوں کی اپیلوں پر کان نہیں دھر رہا۔ بس ایک ہی سوچ ہے کہ اس وقت پاکستان معاشی طور پر کمزور ہے ، دنیا نے اسے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ اس پوزیشن سے فاہدہ اُٹھائو اور پاکستان کو ختم کرو۔ اسکے ساتھ پاکستان کااسلامی اور ایٹمی طاقت ہونا بھارت،اسرائیل اور امریکا کو گوارا نہیں۔اس لیے اپنے سارے بین الالقوامی ذرائع کو استعمال کر کے، بھارت، اسرائیل اور امریکا نے دجالی الیکٹرونگ میڈیا کے زور پر پاکستان کو دہشت گردی کا گھر قرار دیا ہوا ہے۔بھارت ان تمام کمزروں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان پرحملہ کر اسے ختم کرنے کا پروگرام رکھتا ہے۔

صاحبو! ان حالات میں کہ جب بھارت اپنے عزاہم پر تُلا ہوا ہے۔ بھارت پاکستان کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ توپاکستان کو بلی کی طرح آنکھیں بند کرکے سرنڈر کر دینا چاہیے یا اپنے اسلاف کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے کچھ اقدام کرنے چاہیے۔ تاکہ بھارت کی سازش کو ناکام بنا کر مثل مدینہ،مملکت خدا داد اسلامی جمہوریہ کو بچانا چاہیے۔وہ اقدامات یہ ہیں نمبر١۔ حکومت کوسب سے پہلے پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت کا اعلان کر دینا چاہیے۔ اس سے ٧٢ سال سے پاکستان کا مطلب کیا”لا الہ الا اللہ” کے ثمرات کا انتظار کرنے والی پاکستان قوم یک جان ہو جائے گی۔نمبر٢۔ کرپشن بارے نیب کی ساری کاروائیاں معطل کرتے ہوئے نواز شریف اور زرداری صاحبان کے خاندان پر قانونی کاروائی کو کچھ وقت کے لیے روک دینا چاہیے۔نمبر٣۔ پاکستان کو بچانے کے نام پر علماء کے مشورے سے پوری قوم سے” بیت” لینی چاہیے۔نمبر ٤۔ اس کے بعد ریاست پاکستان کوجہاد کا اعلان کر دینا چاہیے۔ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے ہر کوئی پاکستانی مسلمان یہ جانتا ہے کہ پاکستان کے ایسے اقدامات سے بھارت کے حکمرانوں کے دماغ سے جنگ کا بھوت نکل جائے گا۔ ان کو مسلم حملہ آور محمود غزنوی، غوری اور بابر یاد آجائیں گے۔ اس لیے کہ لکشمی یعنی دولت کی پوجاری بھارتی ہندو، جو یہودیوں کی طر ح ہزار ہزار سال زندہ رہنے کی خواہشیں ، دل میںپالے ہوئے ہے پاکستان کے جہادی فیصلے کے سامنے گھٹنے ٹھیک دیں گے اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

اور خدانخاستہ اگر جنگ چھڑ ہی گئی توپھر دمہ دم مست قلندر والا معاملہ ہوگا۔مسلمان موت سے نہیں گھبراتا ہر مسلمان غازی یا شہید ہونے کی تمنا رکھتا ہے۔ یہ اقدامات م کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان بھارت کو فائنل الٹی میٹم دے دے کہ وہ پاکستان کو ختم کر نے کے اپنے پرانے ڈکٹرائین سے رجوع کرے۔کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے اپنے وعدے کے مطابق حق خود اداریت دے۔ تا کہ پاکستان اور بھارت اچھے ہمسائیوں کی طرح رہ سکیں۔ نفی کی شکل میں مثل مدینہ ریاست ،مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان جو ایک ایٹمی میزائل طاقت ہے بھارت کو باور کرادے کہ اگرپاکستان نہیں تو پھر بھارت بھی نہیں…..ان شاء اللہ جہادی پاکستان ہی کامیاب ہو گا اور کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان