fbpx

یہ بازچھی حوالہ

Mohammad Ashraf Sahrai

Mohammad Ashraf Sahrai

تحریر : میر افسر امان

قائد حریت ِکانفرنس جموں و کشمیر، مرد مجائد، مرد آئن، چلتا پھرتا پاکستان، جن نے تکمیل پاکستان کے لیے ساری زندگی بھارتی جیل میں گزاری ٨٠ سالہ نوجوان سید علی گیلانی بیان کرتے ہیں کہ : میری قربت محمد اشرف صحرائی سے قدرتی طور پر کچھ زیادہ ہی ہونے لگی۔ جب کبھی میرا کپواڑہ آنا جانا ہوتا تو میں ان کے گھر جایا کرتا تھا۔ ابھی صحرائی صاحب دسویں جماعت میں ہی تھے کہ ان کی والدہ نے مجھے کہا” یہ باز چھی حوالہ” یعنی اب صحرائی صاحب آپ کے حواے ہیں۔اس کے بعد یہ سرفروش تا عمر سید علی گیلانی کے ساتھ حالت کے سرد و گرم کا مقابلہ جاںفشانی سے کرتا رہا۔ صحرئی نے غلامی کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی کہ بات کو ثابت کر دیا۔پھر میں قربان جائوں ایسی کشمیری مائوں پر کہ جنہوں نے رسولۖ اللہ کے دور میں صحابیات کی قربانیوں کی یادیں تازی کر دیں، جو اپنے جگر لختوں کو کشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان کے لیے وقف کرتیں ہیں۔

تحریک تکمیل پاکستان کے ہراول دستہ کا چوٹی کا سپاہی اشرف صحرائی کو بھارتی سفاک متعصب ہندووں نے شہید کیا تو پاکستان کے صدر، پاکستان کے وزیر اعظم،آزاد جموں کشمیر کے صدر ، امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر اور دیگر نے اپنے پیغامات میں اپنی اولاد سمیت کشمیر کی آزادی کی خاطر جان دینے والے کشمیری مجائد کی تعریف کی۔اشرف صحرائی کا گھرانہ ابتدا سی ہی تحریک اسلامی سے وابستہ تھا۔ مرحوم کے دو بڑے بھائی جماعت اسلامی جموں کشمیر کے بنیادی ارکان میں سے تھے۔ان کی تربیت سے اشرف صحرائی جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔٨مئی کو ٢٠٢١ء کو خبر آئی کہ زیر حراست، مزاحمتی تحریک کے مخلص ترین قائد جناب محمد اشرف صحرائی جموں کے ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

مرحوم صحرائی کو ٢٠٢٠ء میں اپنے بیٹے شہید جنید صحرائی کی شہادت کے ٹھیک دو ماہ بعد جموں و کشمیر میں نافذ کالے قانون ” پبلک سیفٹی” کے تحت جیل میں بند کر دیا۔ اشرف صحرائی کے خاندان کے مطابق وہ کئی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے صحرائی کے بیٹے نے کہا کہ: میرے والد نے اپنی وفات سے چند دن قبل مجھ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے لیے جہاں کسی دوائی وغیرہ کا انتظام نہیں ۔میں چند دنوں سے شدید بیمار یوں میں مبتلا ہوں اور ایسا لگتا ہے کی حکومت مجھے مارنے کے لیے ہی لائی ہے۔ اس لیے آپ میری رہائی کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں اُنھیں ترک کر دیں۔ مجھے یہ ایسے رہا کرنے والے نہیں ہیں۔ آپ اپنے معمول کے کام کاج میں مصروف ہو جائیں” ان کے بیٹے راشد خان صحرائی نے دی وائر نیوز پورٹل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: والد کے طبی معائنے اور علاج کے لیے تین درخواستیں دائر کی تھیں۔ جن میں ان کی مذید دیکھ بھال کے لیے جموں یا سری نگر کی جیلوں میں منتقل کرنے کی درخواست بھی تھی کہ اہل خانہ کو ان سے ملنے دیا جائے۔ راشد صحرائی نے کہا کہ جج درخواستوں پر نظر ثانی کے لیے مسلسل دیر کرتا رہا” اشرف صحرائی کے بیٹے کے ایسے بیان کے ہوتے ہوئے یہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ سفاک اور متعصب ہنددوں نے محمد اشرف صحرائی کو جیل میں شہید کروا دیا۔

محمد اشرف صحرائی اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر کے بنانے واے اورپہلے ناظم اعلیٰ تھے۔ جمعہ کے روزبارہ مولہ کی ایک مسجد میں بھارت جمہورت کا پول کھلولتے ہوئے پہلی بار ٢١ سال کی عمر میں ١٩٦٥ء میں قید کیے گئے۔١٩٦٩ء میں ”طلوع” نام کے رسالہ کا اجرا کیا۔حق و سچ لکھنے پر حکومت نے اس رسالہ پر پابندی لگا دی۔ اشرف صحرائی ے اپنے گھر کو مزاحمتی تحریک کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ١٩ مارچ ٢٠١٨ء کو تحریک حریت کے چیئر مین مقرر ہوئے۔٢٠١٨ء میں اشرف صحرائی کے فرزند جنید صحرائی نے بھی کشمیری عوام کی مظلومیت کے حق میں بندق اُٹھائی ۔ جنید صحرائی کے بندوق اُٹھانے کے بعد ایک مقامی صحافی نے اشرف صحرائی سے سوال کیا کہ” کیاآپ اپنے بیٹے سے بندوق چھوڑ کر گھر آنے کی اپیل نہیں کر سکتے؟جواب میں ان کا کہنا تھا کہ” میں کیوں اپیل کروں گا؟ کیا میں بے ضمیر ہوں؟ کیا شیخ عبداللہ ہوں؟کیا میں بخشی ہوں؟ کیامیں قاسم ہوں؟ میں غلام رسول کار بھی تو نہیں ہوں۔ میں خدا کا وہ بندہ ہوں جس کی رگ رگ میں آزادی کشمیر کی تڑپ موجود ہے”اس سے اشرف صحرائی کی اپنے مقصد کے ساتھ کمٹ منٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے

۔مجائد جنید صحرائی ١٩ مئی ٢٠١٩ء سری نگر میں ایک خونین معرکے میں شہید ہوئے۔ دوسرے مجائدین کی طرح اس کی بھی لاش لواحقین کے حوالے نہیں کی گئی۔جنید شہید کو اپنے گھر سے دور پہلگام میں دفنا دیا گیا۔ ابھی اشرف صحرائی کے پاس بیٹے کی شہادت کے غم میں مبتلا تھے ۔لوگ تعزیت کے لیے آ ہی رہے تھے کہ ٧٨ سالہ بزرگ کو جو مختلف بیماریوں مبتلا تھے پبلک سیفٹی ایکٹ کے بہانے جموں جیل میں قید کر دیا۔ اشرف صحرائی کو موت کے بعد سری نگر کے شہدا قرستان میں دفن کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ آبائی گائوں ٹکی پورہ

٢
لولاب کپوڑہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ صحرائی شہید کے غم جاری تھاکہ سفاک بھارت متعصب حکومت نے ان کے دو بیٹوں کو uapa کالے قانون کے تحت گرفتا ر کر کے جیل بھیج دیا۔جنازے میں شریک میں ٢٠ افراد کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی۔ نہ جانے کاتب تقدیر نے اس کشمیری خاندان کی قسمت میں اور کتنی قربانیاں لکھیں ہے ۔ صحرائی خاندان کی اتنی قربانیوں سے لگتا ہے کہ شاعر اسلام حضرت علامہ شیخ محمد اقبال نے یہ شعر محمد اشرف صحرائی کی شان میں ہی کہا تھا:۔

فطرت کے مقاصدکی کرتاہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

تاریخ کے طالب جانتے ہیں کہ دنیا کی آزادی کی تحریکوں میں قوموں نے جتنی قربانیوں بھی قربانیاں دیں ہیں، کشمیری ان میں سب سے آگے ہیں۔انگریز جس کی وجہ سے کشمیر کا مسئلے نے جنم لیا۔انہوں نے کشمیریوں کو ٧٥ ہزار نانک شاہی سکوں کے عوض سکھوں کو فروخت کیا تھا۔ اتنی کم قمیت پر کشمیری کی قوم، ان کی زمین، ان کے کھیت گھلیان ،باغات ،چشمے ، جنت نظیر کشمیر کی وادیاں انگریز نے فروخت کر کے تاریخ میں کم ظرفوں کی لسٹ میں اپنانام لکھاوایا تھا۔ تعصب میں مبتلا ڈوگرہ راجہ نے کشمیریوں کو فرعون سے بھی زیادہ عذاب میں مبتلا رکھا۔ مسلمانوں سے مزدوری کراتا انہیں اجرت بھی ادا نہیں کرتا۔جموں جیل کے احاطہ میں ایک وقت میں ٢٢ کشمیریوں کو آذان دینے کے جرم میں شہید کیا۔ تعصب کی انتہا کہ جس راستے سے مسلمان گزرتے، راجہ کو جب کبھی اُس راستے سے گزنا ہوتا تو پہلے اس راستے کو پانی سے صاف کراتا تب گزرتا۔ آزادی جرم میں کشمیری کو زندہ درختوں پرلٹکا کر ان کی کھالیں اُتاری گئیں۔کشمیریوں پر ظلم ستم کی لمبی کہانی ہے۔

راجہ کے دور میں پانچ لاکھ کشمیر مسلمان شہید کیے گئے۔ اب بھارت نے ٥اگست ٢٠١٩ء کو کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر کے بھارت میں ضم کر لیا۔ بھارت بھے لاکھوں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے ۔ کشمیر میں لاکھوں ہنددوں کو آباد کر کے مسلمانوں کی اکژیت کو اقلیت میں تدیل کر رہا ہے۔ غزہ کی طرح کشمیر کو بھی انسانوں کی دنیا میں سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر چکا ہے۔ ان حالات میں بھی بہادر کشمیری قوم اپنی آزادی اور تکمیل تحریک پاکستان کے لیے شہادتیں دے رہے ہیں۔ اب دہشت گرد،ہٹلر مودی نے کشمیر کانفرنس کا ڈول ڈالا ہے اپنے پرانیپٹھوں کو اس میں بلایا ہے۔ مگر کشمیری اپنی آزادی اور پاکستان کے ساتھ ملنے کے علاوہ کسی بھی ٹریپ میں پھسنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بھارت جب تک تحریک آزادی کے لیے لڑنے والے حریت کانفرنس کے لیڈروں کو بلا کر ،پہلے کشمیر کو متنازہ مسئلہ مان کر مذاکرات نہیں کرتا کشمیری کسے اور بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہونگے ۔ اللہ تعالیٰ محمد اشرف صحرائی اور دیگر شہیدوں کی قربانیاں کو قبول فرما کر جنت نذیر کشمیر کو متعصب ،مشرک، بت پرست ہنددوں سے نجات دلائے آمین۔

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان