مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر وزیرخارجہ کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری کو خط

Shah Mahmood Qureshi

Shah Mahmood Qureshi

اسلام آباد (جیوڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائن کی تشویش ناک صورت حال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ دیا۔

شاہ محمود قریشی نے خط میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کالے قانون کے تحت نہتے کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، لائن آف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری میں اضافہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو آگاہ کیا کہ یہ رائے عام ہو رہی ہے کہ بھارت، آرٹیکل 35 اے اور 370، جن کے تحت مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو خصوصی اسٹیٹس، حقِ ملکیت اور حقِ شہریت حاصل ہے، اسے ختم کرنے کے درپے ہے۔

وزیر خارجہ نے خط میں لکھا کہ پاکستان ایسی کسی جغرافیائی تبدیلی کا مخالف ہے کیونکہ اس طرح اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ بھارت کی طرف سے یہ اقدامات، مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے جس سے متعلق پاکستان اقوام متحدہ کو 27 اپریل کو لکھے گئے خط میں آگاہ کر چکا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید لکھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کالے قانون کے تحت نہتے کشمیریوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، اقوام متحدہ کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہیومن رائٹس کمشنر آفس کی طرف سے جاری کی گئی اس غیر جانبدارانہ رپورٹ میں آشکار کی گئی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔

انہوں نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو مطلع کیا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری میں اضافہ ہو گیا ہے جو کہ نہ صرف 2003 کے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے معصوم شہریوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں اور املاک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، اگر اس صورتحال کا سدباب نہ کیا گیا تو امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے 7 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود مزید دس ہزار سے زیادہ فورس بھجوائے جانے کی اطلاعات تشویشناک ہیں، سری نگر ائیرپورٹ پر خصوصی طیاروں کی نقل و حرکت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اضافی دستوں کی آمد ان خدشات کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ بھارت کی طرف سے کسی حکومتی عہدیدار نے تاحال ان رپورٹس کی تردید نہیں کی، بھارت کی طرف سے ہفتے بھر کیلئے راشن محفوظ کرنے کی ہدایات سے کشمیریوں میں خوف و ہراس ہے، بھارتی اقدامات مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔