fbpx

کشمیر پر امریکی سینیٹرز کا نیا مکتوب

Kashmir

Kashmir

کشمیر (اصل میڈیا ڈیسک) ایک ایسے وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دورے پر آنے والے ہیں کئی سرکردہ امریکی سینیٹرز نے کشمیر کی صورت حال اور شہریت کے ترمیمی قانون پرگہری تشیوش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے نام اپنے مکتوب میں چار سرکردہ سینیٹرز نے کشمیر کی صورت حال اور شہریت ترمیمی ایکٹ پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’بھارت کا سیکولر کردار خطرے میں ہے‘‘۔ اس خط میں کشمیر کی صورت حال کو پریشان کن بتاتے ہوئے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا گيا ہے کہ وہ آئندہ 30 روز کے اندر کشمیر اور شہریت سے متعلق نئے قانون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس پر اپنی رپورٹ تیار کرے۔

یہ خط دو ڈیموکریٹ ارکان پارلیمان کرس وین ہولین، ڈک ڈربن اور دو ریپبلکنز لنڈسے گراہم، اور ٹوڈ ینگ نے مشترکہ طور پر لکھا ہے۔ سینیٹر لنڈسےگراہم کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔اس میں کہا گيا ہے کہ مودی کے اقدام سے ’’مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور بھارت کے سیکولر کردار کو خطرہ لاحق ہوگيا ہے‘‘۔

بھارت نےگزشتہ برس کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وہاں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی تھیں اور سرکردہ رہنماؤں سمیت سینکڑوں افراد کو گرفتا رکر لیا گیا تھا۔

بھارت میں شہریت سے متعلق نئے قانون میں پڑوسی ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو شہریت دینے کا وعدہ کیا گيا ہے تاہم مسلمانوں کو اس میں شامل نہیں کیا گيا جس کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں

اس خط میں کہا گيا ہے، ’’بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یک طرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خودمختاری ختم کیے جانے کے بعد، وہاں چھ ماہ سے بھی زیادہ وقفے سے بیشترعلاقوں میں انٹرنیٹ پر پابندی جاری ہے۔ جمہوریت میں بھارت کی جانب سے انٹرنیٹ پر پابندی کی یہ سب سے طویل دورانیہ ہے جس سے 70 لاکھ لوگوں کی طبی سہولیات، ان کاروبار اور تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کئی بڑے سیاسی رہنماؤں سمیت سینکڑوں کشمیری اب بھی احتیاطی حراست میں ہیں۔‘‘

سینیٹرز نے امریکی وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر میں مجموعی طور پرگرفتار کیےگئے افراد کی تعداد، دوران حراست ان پر تشدد یا پھر ان کے ساتھ نازیبا سلوک جیسے امور کا تجزیہ کرے۔ کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ پر پابندی اور بیرونی سفارت کاروں، صحافیوں اور مبصرین پر کس طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور کشمیر میں مذہبی آزادی کی صورت حال کیا ہے، ان پہلوؤں پر بھی تجزیہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس مکتوب میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی پر بھی گہرے خدشات و شبہات کا اظہار کیا گيا ہے اور امریکی انتظامیہ سے اس کا بھی جائزہ لینے کو کہا گيا ہے، ’’شہریت سے متعلق قانون کے نفاذ سے خاص طور پر مذہبی اور نسلی اقلیتوں میں سے کتنی بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوں گے۔ جو لوگ اس قانون کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں کیا ان کے خلاف بھارتی حکام کی جانب سے طاقت کا بےجا استعمال کیا گيا ہے؟ نیشنل رجسٹر فار سٹیزن کے نفاذ سے کتنے لوگوں کے شہریت سے محروم ہونے خطرہ ہے؟‘‘

سینیٹرز نے لکھا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار سنبھالتے ہی ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے پر تیزی سے کام کیا ہے۔ اس سے لوگوں میں اس بات کے لیے بےچینی پیدا ہوئی ہے کہ بھارت کا بطور ایک سیکولر جمہوریت کردار خطرے میں ہے۔

امریکی صدر ڈونڈ ٹرمپ اس ماہ کی 24 تاریخ کو بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی آبائی ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد میں ان کے استقبال کے لیے ایک بہت عظیم استقبالیہ تقریب کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ وہ بھارت کے دورے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔