fbpx

خیبرپختونخوا میں اپوزیشن نے سینیٹ انتخابات کیلئے ٹوٹتے اتحاد کو بچا لیا

KP Opposition

KP Opposition

پشاور (اصل میڈیا ڈیسک) خیبرپختونخوا میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بگڑے معاملات کو پھر سنبھال لیا جسے مزید مضبوط کرنے کے لیے جماعت اسلامی بھی پی ڈی ایم جماعتوں کے ساتھ مل گئی۔

پانچ جماعتیں مشترکہ طور پر 5امیدوار میدان میں اتاریں گی، سینیٹ الیکشن کے حوالے سے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں معاملات بگڑ گئے تھے اور ہر ایک جماعت نے اپنے طور پر لابنگ کا سلسلہ بھی شروع کردیاتھاتاہم مذکورہ جماعتوں کے قائدین نے آپس میں رابطے کرتے ہوئے معاملات کو پھر سنبھال لیا۔

پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر انجینئر ہمایوں خان کی رہائش گاہ پر پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی ،مسلم لیگ(ن)اورجمعیت علماءاسلام کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں جماعت اسلامی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ،پانچوں جماعتوں نے مشاورت کے بعد مشترکہ طور پر سینیٹ الیکشن کے لیے میدان میں اترنے کافیصلہ کرلیا۔
اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عباس آفریدی اور میاں عالمگیر شاہ ،پیپلز پارٹی کی طرف سے فرحت اللہ بابر، محمد علی شاہ باچہ ، احمد کریم کنڈی ، جے یو آئی کی طرف سے مولانا لطف الرحمٰن اور محمود احمد بیٹنی ،عوام نیشنل پارٹی کی طرف سے حاجی ہدایت اللہ خان اور سردار حسین بابک ، جبکہ جماعت اسلامی کی طرف سے عنایت اللہ خان شریک ہوئے۔

پانچ جماعتوں کی جانب سے پانچ امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے جن میں پاکستان مسلم لیگ(ن)،جمعیت علماءاسلام اور عوامی نیشنل پارٹی جنرل نشستوں کے لیے اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔ جے یوآئی کے مولانا عطاءالرحمٰن ،اے این پی کے حاجی ہدایت اللہ خان اور مسلم لیگ(ن)کی جانب سے عباس آفریدی امیدوار ہونگے۔

پیپلزپارٹی کو ٹیکنوکریٹ نشست دی گئی ہے جس پر فرحت اللہ بابر امیدوار ہونگے جبکہ جماعت اسلامی خواتین کی نشست پر قسمت آزمائی کرے گی جس کے لیے عنایت بیگم ان کی امیدوار ہونگی۔

جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان نے ایکسپریس کے رابطے پر تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پانچ اپوزیشن جماعتوں کا الیکشن کے لیے مشترکہ امیدوار میدان میں اتارنے کافیصلہ ہوگیا ہے جس کے تحت اضافی امیدوار ریٹائرہوجائیں گے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے تین آزاد ارکان احتشام جاوید اکبر،فیصل زمان اور میر کلام وزیر کے ساتھ بھی رابطہ کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ طور پر صوبائی اسمبلی میں ارکان کی تعداد43بنتی ہے جبکہ آزاد ارکان کی حمایت سے اس میں اضافہ ہوجائے گا۔