fbpx

اہم قانون سازی کیلئے 6 ماہ میں کیسے اتفاق رائے پیدا کرینگے: بلاول بھٹو

Bilawal Bhutto

Bilawal Bhutto

مظفر آباد (اصل میڈیا ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہمیں اس حکومت سے جان چھڑانا ہوگی، سلیکٹرز کو بھی یہ سوچنا ہوگا ان کا یہ تجربہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے، سلیکٹڈ کو گھر اور عوامی راج قائم کرنا ہو گا، اہم کیس پر 6 ماہ میں کیسے قانون سازی پر اتفاق رائے پیدا کرینگے۔

مظفر آباد میں جلسے سےخطاب کرتے ہوئے چیئر مین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ کو گھر اور عوامی راج قائم کرنا ہوگا، یہ حکومت پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ ہرشعبہ زوال پذیر ہے، محنت کش، کسان بدحال ہے۔ جس میں خلق خدا کی مرضی شامل نہ ہوایسا نظام قبول نہیں۔

بلاول کا کہنا تھا کہ نالائقی کی انتہا ہے کہ پوری حکومت مل کر 3 مہینے میں ایک نوٹی فکیشن درست طریقے سے نہیں بنا سکی، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کامعاملہ اب پارلیمان میں آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن سے ایک نوٹی فکیشن نہیں بن سکا، وہ معاملے پر ایوان میں 6 ماہ میں کیسے اتفاق رائے پیدا کریں گے؟ جو ایک سال میں ایک قانون بھی پاس نہ کرسکے، وہ کیسے قانون سازی کریں گے؟

سی پیک کے حوالے سے جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی صورت پاک چین اقتصادی راہداری کومتنازع نہیں بننے دیں گے، ہم تمہیں چین کے ساتھ سی پیک پریوٹرن نہیں لینے دیں گے،

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے اداروں کو کب تک ٹیکس نیٹ سے باہررکھوگے۔ سب کوملکرملکی ترقی میں حصہ ڈالنا ہوگا،کوئی مقدس گائے نہیں ہوسکتی۔ ہم ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زراعت کیوں زوال پذیرہیں۔

چیئر مین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ آج سیاست کا محورنظریات نہیں مخالفین پر کیچڑاچھالنا ہے، بغیرکسی جامع پالیسی کے عوام کو سبزباغ دکھائے جاتے ہیں، حکومت حاصل کرنے کے لیے عوام کے بجائے امپائر کو اہمیت دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا کشمیر سے رشتہ پہلے دن سے ہے، بھٹوشہید نے کشمیر پر سودا قبول نہیں کیا، ہماری پارٹی نے مسئلہ کشمیر پر اہم کردار ادا کیا، مسئلہ پر پیپلز پارٹی نے صف اول کا کردار ادا کیا، پہلی بار کشمیر کا سپیشل سٹیٹس ختم کر دیا گیا، ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں نریندرمودی کو پہچانو،بھارتی وزیراعظم انتہاپسند سوچ رکھتا ہے، کوئی کشمیر کا سفیر رہا ہے تو وہ شہید بھٹو ہے، مودی پورے خطے کےامن کیلئےخطرہ ہے۔

بلاول بھٹوکا کہنا تھا کہ ہمارا سلیکٹڈ مودی کے جیتنے کی دعائیں مانگتا تھا، سلیکٹڈ کہتا تھا مودی جیتے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہو گا، آج کہتا ہے مودی ہٹلر، آر ایس ایس کا کارندہ ہیں، کیا مودی پہلے آر ایس ایس کا کارندہ نہیں تھا۔ جب اس کومس کال کرتے تھے اس وقت مودی کیا ہٹلرکا پیروکارنہیں تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان اور بھارت کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ ہمارا سلیکٹڈ کہتا ہے کشمیرکا سفیرہوں۔ کشمیر بحران کے دوران ایسا سفیرہے جس نے کسی بیرون ملک کا دورہ نہیں کیا۔ وادی کے حالات پر پیپلز پارٹی خاموش نہیں رہ سکتی، 117دن سے کرفیو نافذ ہے۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم آزاد کشمیر سے بھی ملاقات کی، ملاقات کے دوران وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس مظفرآباد منانے کا فیصلہ خوش آئند ہے، یکجہتی جلسے سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم محکوم عوام کو اچھا پیغام گیا آزاد کشمیر آمد پر بلاول بھٹو زرداری کو خوش آمدید کہتے ہیں۔