fbpx

مہوش حیات کے نئے کمرشل پر سوشل میڈیا صارفین شدید برہم

Mahesh Hayat

Mahesh Hayat

کراچی (اصل میڈیا ڈیسک) اداکارہ مہوش حیات ایک بار پھر نئے تنازع میں پھنس گئیں ان کے نئے کمرشل نے ٹوئٹر صارفین کو آگ بگولہ کردیا ہے۔

مہوش حیات نے دو روز قبل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نئے کمرشل کی ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈانس کر کرکے بسکٹ بیچتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ جب سے مہوش حیات نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے ٹوئٹر صارفین سمیت، صحافی انصار عباسی اور ملکی وزرا بھی آگ بگولہ ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مہوش حیات پر تنقید؛ عامر لیاقت کو لینے کے دینے پڑگئے
انصار عباسی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا بسکٹ بیچنے کے لیے اب ٹی وی چینلز پر مجرا چلے گا۔ پیمرا نام کا کوئی ادارہ ہے یہاں؟ کیا وزیراعظم عمران خان اس معاملہ پر کوئی ایکشن لیں گے؟ کیا پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بنا تھا؟

وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے انصار عباسی کے اس ٹوئٹ کے جواب میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا عمران خان مکمل طور پر میڈیا پر موجود ان تمام اسلام مخالف چیزوں کے خلاف ہیں جو ہماری ثقافت اور اصولوں کے خلاف ہیں اور ہمارے نوجوانوں پر نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اسلامی ریاست میں اس طرح کی بے ہودگی کی کوئی جگہ نہیں جو کلمہ طیبہ پر بنی تھی۔

ادھر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے انصار عباسی اور علی محمد خان کے ٹوئٹس پر جوابی ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا آپ اور علی 24 گھنٹے فحاشی کیوں سرچ کرتے رہتے ہیں؟ کوئی پیداواری کام کیا کریں۔

سوشل میڈیا پر بھی صارفین اس معاملے پر اپنی رائے دے رہے ہیں۔ عروج نامی خاتون نے کہا کیا ہوگیا ہے ہمارے مواد تخلیق کرنے والوں کو، ہمارا کونٹینٹ دن بدن نیچے گرتا جارہا ہے، مہربانی کرکے کوالٹی کو بڑھائیں۔ بسکٹ کے لیے مجرا کرنا آپ کو کچھ نہیں دے گا۔

تاہم کچھ لوگ اس کمرشل کے حق میں بھی باتیں کرتے ہوئے نظر آئے۔ اقصیٰ نامی خاتون نے کہا مجھے نہیں لگتا اس کمرشل میں کوئی بے ہودگی ہے لہذا اس کے بارے میں لوگوں کو یہ بتانا بند کریں کہ ٹوئٹر ٹرینڈز بے معنی ہوتے ہیں جن کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ کیا واقعی اس کمرشل پر ٹوئٹ کرنا ضروری ہے؟

ٹوئٹر پر صارفین پیمرا سے اس اشتہار پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا ایک بسکٹ کے لیے اتنا زیادہ ڈانس کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہر اشتہار میں خاتون کو نمائش کی چیز بنانا بند کریں۔