نکاح نامے کیساتھ کچھ اور بھی

Marriage

Marriage

تحریر: ممتاز ملک.پیرس

سنا ہے ایک نئے حکم کے تحت حکومت نے شادی کے لیئے شناختی کارڈ کی شرط، اٹھارہ سال کی عمر کو لازمی قرار دے دیا ہے ۔ میں حکومت کے اس اقدام کی بھرپور حمایت کرتی ہوں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ غلط ہے اور اس سے بے راہ روی کو فروغ ملے گا ۔ جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ بےراہ روی کو فروغ تو ہمارے ہاں کے اکثر شادی شدہ اور رنگین مزاج بوڑھوں نے ویسے ہی دے رکھا ہے ۔ بچوں کی یہ ٹین ایج ان کی پڑھائی اور مستقبل کے لیئے کوئی ہنر سیکھنے اور اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کی عمر ہوتی ہے ۔ سو طرح کے جذباتی مدوجزر کا دور ہوتا ہے یہ۔جس میں نوجوان پل پل نئے سوچ کے تجربات سے گزرتے ہیں اور ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں ۔ جب وہ اپنے آپ کو سنبھالنے کے لائق بھی نہیں ہوتے ، یہاں تک کہ تمیز سے بات کربے اور چھوٹے بڑے کی تمیز سے بھی نالاں ہوتے ہیں تو ایسے میں لڑکے پر ایک جیتی جاگتی لڑکی مطلب ضروریات کی پوٹ کو لاد دینا کہاں کی عقلمندی ہے ؟

اور لڑکی پر ایک پورے کنبے اور اپنے بھی بچوں کی پیدائش و پرورش کا بوجھ لادنا کہاں کی سمجھداری ہے؟

اب اگر کوئی پھر سے پہلے زمانے کی مثالیں دینے لگے تو یاد رکھیئے ہر زمانہ پہلے زمانے سے مختلف ہوتا ہے ۔ اس کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں ، اس کی اپنی سوچ اور طرز زندگی ہوتا ہے ۔

پہلے زمانے میں وہ طرز زندگی تھا جو آج ہے ؟

وہ خوراک اور پکوان تھے جو آج ہیں ؟

وہ پہناوے تھے جو آج ہیں ؟

ان چیزیوں کا کوئی تصور تھاجو آج لازمی سمجھی جاتی ہیں ؟(جیسے کہ ہنی مون ، نیٹ ، کمپیوٹرز ،LED , موبائل ، ککنک رینج ۔۔۔)

پہلے سال بھر میں ہر شخص کے تین جوڑے کپڑے، ایک جوڑا جوتے، اور پیٹ بھر گندم دال، چاول، گڑ ، گندم گودام میں موجود ہے تو بندہ بادشاہ ہوا کرتا تھا ۔

ائک ہی کمرے میں پچیس بندے سو جاتے تو بھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔ نہ محرم تھا نہ نامحرم۔

لیکن آج تو ان چیزوں پر گزارے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ زندگی کے تقاضے بدلے ہیں ، سوچ بدلی ہے ، تو انداز بھی بدلنا ہو گا ۔

تتلیاں پکڑنے کی عمر ، خواب دیکھنے کی عمر ، شرارتیں کرنے کی عمر ، کھل کر ہنسنے کی عمر کو بچوں اور کنبے کی پرورش کے چولہے میں مت جھونکیئے خدارا۔

وقت سے پہلے بوڑھے ہوتے ہوئے ان جوڑوں پر ترس کھائیے، جو پینتیس سال کی عمر تک پہ پہنچتے پہنچتے سر سفید ، کمر ٹیڑھی کروا چکے ہوتے ہیں ، دس بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں ۔ اپنی عمر سے بیس سال بڑے لگنے لگتے ہیں ۔

رہی بات بے راہ روی کی تو اس کے لیئے عمر کی کوئی شرط عائد نہیں ہوتی ۔ انسان باکردار ہو اس کی اخلاقی و دینی تربیت اچھی ہو ، تو وہ ٹین ایج جیسی آزمائشی عمر میں بھی پارسائی اختیار کر سکتا ہے ، اور اگر انسا بدکردار ہو تو ستر برس کی عمر میں بھی ایک پاوں قبر میں اور ایک پاوں بدکرداری کے کیلے کے چھلکے پر ہی رکھے گا ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ 18 سال کی عمر کے بجائے لڑکی کی عمر شادی کے لیئے کم از کم بیس بائیس سال ضرور ہونی چاہیئے خاص طور پر ہمارے ایشین معاشروں میں جہاں شادی کے روز شوہر کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اس سے چالیس سال پختہ کار خاتون کی سی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں ایسے میں وہ معصوم بچی جس کی نہ ابھی تعلیم مکمل ہوئی ہے ، نہ اسے کوئی ہنر آتا ہے ، نہ اسے گھر بار سنبھالنے کی سمجھ ہوتی ہے بیچاری رل کھل جاتی ہے ۔

لڑکے کی عمر بھی کم از کم 26 ، 27 سال ہونی چاہیئے تاکہ وہ شادی کو کوئی کھیل نہ سمجھے بلکہ پڑھ لکھ کر ، باہنر ہو کر اپنے پاوں پر کھڑا ہو اور اپنی بیوی کی ذمہ داریاں بحسن و خوبی اٹھا سکتا ہو ۔ ہم اس سے کم سنی کی شادیوں کو انتہائی تکلیف دہ سمجھتے ہیں ۔

ہم حکومت کی اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں بلکہ مذید یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی آوارگی اور بدکردار پیروں اور بابوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اب نکاح نامے کیساتھ لڑکے اور لڑکی کا اس کے والدین کیساتھ DNA رپورٹ اور بڑی بیماریوں اور اپاہج اولاد کی پیدائش کی آزمائش سے بچنے کے لیئے میڈیکل رپورٹ بھی ضرور نتھی کی جائے ۔ تاکہ ان پیچیدہ اور عمر بھر کا روگ بن جانے والے معاملات سےحتی المقدور بچا جا سکے۔

Mumtaz Malik

Mumtaz Malik

تحریر: ممتاز ملک.پیرس