fbpx

لڑتے لڑتے ہو گئی گم

Imran Khan

Imran Khan

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

بچپن میں ہم صوفی تبسم کی نظم ”ایک تھا تیتر ایک بٹیر” پڑھتے ہوئے بالکل اِسی طرح کلکاریاں مارا کرتے تھے جیسے آجکل تحریکِ انصاف PDM کی ”تمت بالشر” پر مار رہی ہے۔ بلاول اور مریم نواز کے آگ اُگلتے بیانات کا نتیجہ یہ نکلا کہ نواز لیگ اور مولانا فضل الرحمٰن نے سینٹ میں یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے سے انکار کا اعلان کر دیااور جواباََ پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر پیپلزپارٹی پارلیمنٹ میں میاں شہبازشریف کو اپوزیشن لیڈر تسلیم نہیں کرے گی۔ تازہ ترین خبر کے مطابق پی ڈی ایم نے سینٹ میں 27 سینیٹرزپر مشتمل اپوزیشن کا الگ گروپ بنا لیا ہے جبکہ یوسف رضاگیلانی 30 ووٹ لے کر اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئے۔ طرفہ تماشا یہ کہ سینٹ میں اپوزیشن کے کل 51 سینیٹر ہیں۔ گویا 6 سینیٹرز نے چیئرمین سینٹ کو بھی ووٹ دیئے اور اپوزیشن لیڈر کو بھی۔ نوازلیگ کے مظابق چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے نوازلیگ کے اُمیدوار برائے اپوزیشن لیڈر اعظم نذیرتارڑ کو بھی آفر کی تھی کہ اگر اُسے اپوزیشن بننے کے لیے کچھ سینیٹرز درکار ہیں تو وہ دے سکتے ہیں لیکن اعظم نذیر نے انکار کر دیا۔ گویا جو دانہ نوازلیگ کو ڈالا گیا، انکار کے بعد وہی دانہ پیپلزپارٹی نے چُن لیا۔ایسی جمہوریت صرف پاکستان ہی میں ہے، اور کہیں نہیں۔ ہمارے خیال میں پیپلزپارٹی نے بہت سستا سودا کیا کیونکہ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوتی۔ تحریکیے ابھی تک اِسی خمار میں ہیں کہ پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتوں کے اِس تصادم میں لڑتے لڑتے ایک کی چونچ اور ایک کی دُم گُم ہونے کوہے۔ خمار میں تو نوازلیگ بھی ہے کہ احسن اقبال کے خیال میںحکومت کی کشتی میں سوراخ ہیںاور وہ ڈوبنے کو ہے۔ یہ نوازلیگ کی خواہش تو ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں کیونکہ جب تک ”زورآوروں” کا دستِ شفقت سر پر اور پتوار اُن کے ہاتھ میں تب تک تحریکِ انصاف کو ”ستّے خیراں”۔

یہ بجا کہ حکومتی کشتی کے سوار سبھی نہلے دِہلے لیکن یہ کپتان کا اپنا انتخاب ہے جنہیں الیکٹیبلز اکٹھے کرنے کا شوق ہی بہت ہے۔ یہ وہی الیکٹیبلز ہیں جو گزشتہ چار عشروں کے دوران گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر تحریکِ انصاف میں پہنچے ہیں۔صاحبانِ عقل ودانش کہتے ہیں کہ جب پہلے اِن الیکٹیبلز کے ہاتھوں قوم کا بھلا نہیں ہوا تو اب کیسے ہو سکتاہے۔ اُدھر وزیرِاعظم بھی سیاست کو کرکٹ کا میدان سمجھ کر ہر بال پر فیلڈنگ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ اڑھائی سالوں میں اُنہوں نے اتنے وزیروں مشیروں کی اُتھل پُتھل کی کہ اب اُن کے نام تک یاد رکھنا بھی مشکل۔ ایک دفعہ پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ وہ دِن میں اتنے پاجامے نہیں بدلتے جتنے پاکستان میں وزیرِاعظم بدلتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورتِ حال اب بھی ہے لیکن اِس فرق کے ساتھ کہ وزیرِاعظم کی بجائے وزیروں مشیروں اور بیوروکریٹس کی ”آنیاں جانیاں” لگی رہتی ہیں۔ تازہ ترین ”واردات” وزیرِخزانہ حفیظ شیخ کی چھُٹی ہے۔ یہ وہی حفیظ شیخ ہے جس کی مدح میںتحریکِ انصاف زمین آسمان کے قلابے ملاتی رہی۔

اب پتہ نہیں وزیرِاعظم کو کیسے ”الہام” ہوا کہ ”اوئے ہوئے! ساری مہنگائی تو حفیظ شیخ کی وجہ سے ہے”۔ اِس سے پہلے نوازحکومت کے پورے 5 سالوں میں اسد عمر کی اتنی تعریف کی جاتی رہی کہ ہم جیسے بھی دُعائیں مانگنے لگے کہ یا اللہ معیشت کی رفعتوں کو سمجھنے والے اسد عمر کی خدمات ملک کے سپرد کر دیں۔ اسد عمر کو وزیرِ خزانہ بنا تو دیا گیا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ”تھوتھا چنا، باجے گھنا”۔ اسد عمر کے بعد حفیظ شیخ کو ”امپورٹ ” کیا گیااور اب حماد اظہر وزارتِ خزانہ کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں۔ شنید ہے کہ عنقریب حماداظہر کی جگہ شوکت ترین لینے والے ہیں۔ وزیرِخزانہ خواہ کوئی بھی ہو، آثار بتاتے ہیں کہ مہنگائی دِن دوگنی، رات چوگنی ترقی کرتی رہے گی۔ قارئین خود ہی حساب لگا لیں کہ ”چوروں” کی حکومت اچھی تھی جن کے دَور میں اقتصادی ترقی 5.8 تھی یا ”صادق وامین” کی جس کے دَور میں فی الحال اقتصادی ترقی منفی میں ہے البتہ ر ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں 1.4 تک پہنچنے کا امکان لیکن ہمارے خیال میں جس طرح سے نریندر مودی کو ”جادو کی جپھی” ڈالی جا رہی ہے اقتصادی ترقی ساری حدیں توڑ کر آسمان کی رفعتوں کو چھو لے گی۔

شایداِسی لیے حماد اظہر نے وزیرِخزانہ بنتے ہی( 31 مارچ کو )بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کا اعلان کردیا جس پر ملک میں بے چینی کی لہروں نے جنم لیا۔ سماء ٹی وی کے مطابق یکم اپریل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیرِاعظم نے حماداظہر سے سوال کیا کہ بھارت سے چینی اور کپاس کی درآمد کا فیصلہ کس نے کیا؟۔ حماداظہر نے بڑے بھولپن سے جواب دیا ”وزیرِاعظم صاحب! آپ نے ہی مجھے حکم دیاتھا”۔ حقیقت یہی کہ وزیرِاعظم صاحب نے ہی حماداظہر کو معاملہ ای سی سی میں بھیجنے کا حکم دیا اور ای سی سی کی منظوری کے بعد جب معاملہ کابینہ میں منظوری کے لیے پیش ہوا تو سب سے پہلے شاہ محمود قریشی نے سوال اُٹھایا کہ بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خاتمے سے پہلے ہم بھارت سے کیسے تجارت کر سکتے ہیں؟۔ اسد عمر، شیریں مزاری اور بعض دیگر وزراء کی شدید مخالفت پر بھارت کے ساتھ تجارت کا معاملہ ختم کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ موجودہ حکومت نے خود ہی بھارت کے ساتھ تجارت پر پابندی لگائی تھی اور وزیرِاعظم نے کہا تھا کہ بھارت جب تک آرٹیکل 370 بحال نہیں کرتا، بھارت کے ساتھ تجارت تو کیا مذاکرات بھی نہیں کیے جائیںگے۔ اب پتہ نہیں ایسا کیا ہوا کہ وزیرِاعظم کے دل میں اچانک اُس شخص کی محبت جاگ اُٹھی جسے وہ ہٹلر، قاتل اور فاشسٹ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ نوازحکومت کے دَور میں تو تحریک انصاف کا یہ مقبول نعرہ تھا ”مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے”۔ اب غداری کا لیبل کس پر چپکایا جائے؟۔

چچچچچ نواز شریف کے وزارتِ عظمیٰ کے ادوار میں فروری 1999ء میں بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی اور دسمبر 2015ء میں نریندر مودی بغیر کسی پروگرام کے جاتی اُمرا پہنچا۔ مودی کی آمد پر تحریکِ انصاف سمیت ساری اپوزیشن کا نعرہ تھا ”مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے”۔ بھارت کے اِن دونوں وزرائے اعظم کے دور میں نہ تو آرٹیکل 370 اور 35-A کا بھارتی پارلیمنٹ نے خاتمہ کیا تھا اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی کوئی کوشش سامنے آئی جبکہ تبدیلی سرکار کے دَور میں بھارت، مقبوضہ کشمیر کو ہضم کرچکا۔ پھر بھی محبت کی پینگیں اور تجارت کی کوششیں؟۔ اب کسے کہیں ”مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے”؟۔

تبدیلی سرکار نے ابتداء ہی سے بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی بھرپور کوشش کی۔ وزیرِاعظم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر نریندرمودی انتخابات جیت گیا تو کشمیر کا مسٔلہ حل ہو جائے گا۔ نریندرمودی نے انتخاب جیتا تو ہمارے وزیرِاعظم نے اُنہیں خطوط لکھے اور فون پر بات کرنے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن بھارت کی سردمہری برقرار رہی اور 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 اور 35-A کا خاتمہ کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصّہ قرار دے دیا گیا۔ کیا وزیرِاعظم صاحب نریندر مودی سے مسلۂ کشمیر کے حل کی یہی اُمید لگائے بیٹھے تھے؟۔ اب جبکہ وزیرِاعظم کو فی الحال اپوزیشن کا کوئی خوف نہیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی اُن کی پُشت پر تو کیا ”تبدیلی سرکار” کو زیب دیتا ہے کہ وہ مسٔلہ کشمیر کے حل سے پہلے امن کی فاختائیں اُڑائے؟۔ حامد میر نے لکھا ”تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ خُدا نہ کرے وہ دن آئے جب 5 اگست کی بھارت میں وہ اہمیت ہو جو 16 دسمبر کی بنگلہ دیش میں ہے۔ 16 دسمبر کسی جنرل نیازی کی یاد دلاتا ہے، 5 اگست عمران نیازی کی یاد دلایا کرے گا”۔

Prof Riffat Mazhar

Prof Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر