مودی کا بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے لیے جیل جانے کا دعویٰ

Narendra Modi and Sheikh Hasina

Narendra Modi and Sheikh Hasina

بنگلہ دیش (اصل میڈیا ڈیسک) بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں شامل ہونے اور جیل جانے کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دعوے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی جنگ چھڑ گئی ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بنگلہ دیش کے کئی شہروں میں جمعے کے روز مظاہروں کے دوران کم از کم چار افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوگئے۔ مظاہرین مودی کی مبینہ مسلم مخالف پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

وزیر اعظم مودی بنگلہ دیش کی آزادی کی پچاسویں سال گرہ کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں شرکت کے لیے جمعے کے روز ڈھاک‍ا پہنچے تھے۔ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سے یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ اپنے دو روزہ دورے کے آخری دن آج انہوں نے متوا بنگالیوں کے متبرک مقام اورکانڈی ٹھاکر باڑی کا دورہ اور جیشوریشوری مندر میں پوجا کی۔ متوا بنگالی بھارتی ریاست مغربی بنگال، جہاں آج اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں، میں سیاسی لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں۔

بنگلہ دیش کی آزادی کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بنگلہ دیش کی جدوجہد آزادی میں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا” بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے وقت میری عمر 20، 22 سال رہی ہو گی، میں نے گرفتاری بھی دی تھی اور جیل جانے کا موقع بھی آیا تھا۔”

مودی کا کہنا تھا”بنگلہ دیش کی آزادی کی جتنی تڑپ اِدھر تھی اتنی ہی اُدھر بھی تھی۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ مشرقی پاکستان سے آنے والی تصویروں سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں رات کو نیند نہیں آتی تھی۔

مودی کے اس دعوے پر بھارت میں سوشل میڈیا پربحث چھڑ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں نریندر مودی پر جھوٹے دعوے کرنے کا الزام لگا رہی ہیں جبکہ حکمراں بی جے پی کا آئی ٹی سیل مودی کو سچا قرار دے رہا ہے۔

مودی کے خلاف جمعے کے روز بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا اور چٹگاوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرزکے مطابق ایک پولیس عہدیدار رفیق الاسلام نے بتایا ”ہمیں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل اور ربر کی گولیاں فائر کرنا پڑیں کیونکہ وہ پولیس اسٹیشن میں داخل ہوگئے تھے اور بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی۔”

چٹگاوں میں ایک اور پولیس عہدیدار محمد علاالدین نے بتایاکہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے آٹھ افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے چار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ان کا تعلق ایک اسلام پسند گروپ سے تھا۔

بنگلہ دیش کے کئی حصوں میں جمعے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک اور اس کے میسیجنگ ایپ بظاہر کام نہیں کر رہے تھے۔ مظاہرین لوگوں کو یکجا کرنے کے لیے بالعموم ان ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔

دارالحکومت ڈھاکا میں بھی بھارتی وزیراعظم کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ پولیس نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے شیل داغے۔ ان جھڑپوں میں دوصحافیوں سمیت درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ایک پولیس افسر کے مطابق کم از کم 44 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس افسر سید نورالاسلام نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ”ہم نے ربر کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل کا استعمال مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کیا، 200 مظاہرین تھے جن میں سے 33 افراد کو کشیدگی پھیلانے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔”

مظاہرین کے ترجمان نے تاہم دعویٰ کیا کہ مظاہرے میں دو ہزار طلبہ شامل تھے۔ مظاہروں کا اہتمام حفاظت اسلام بنگلہ دیش نامی تنظیم نے کیا تھا تاہم اس میں متعدد دیگر اسلام پسند جماعتیں بھی شامل تھیں۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں مودی مخالف احتجاج گزشتہ ہفتے شروع ہوا تھا جب ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ سمیت ہزاروں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا جبکہ ایک ریلوے اسٹیشن کو آگ لگا دی جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارت میں مسلمانوں پر مبینہ طور پر ظلم کر رہی ہے اور اسی طرح سرحد پر بھارتی فورسز کی جانب سے بنگلہ دیش کے شہریوں کو بھی مارا جاتا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ سرحد میں اسمگلنگ میں ملوث افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مودی نے آج سنیچر کے روز بنگلہ دیش میں اوکارنڈی ٹھاکر باڑی گئے اور جیشوریشوری مندر میں پوجا کی۔ بھارت کے مغربی بنگال صوبے میں رہنے والے متوا بنگالی اسے کافی متبرک سمجھتے ہیں۔

مغربی بنگال میں آج اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی ‘اپنے اسٹائل کے مطابق‘ غیرملکی سرزمین سے اپنے ملک میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔انہوں نے اوکانڈی ٹھاکر باڑی جانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ متوا بنگالی مغربی بنگال کے الیکشن میں ایک اہم عنصر ہیں۔