‘مودی جی مبارک ہو، آپ نے بھوک اور غربت کا خاتمہ کر دیا’

Narendra Modi

Narendra Modi

بھارت (اصل میڈیا ڈیسک) اس برس بھوک اور غربت کے حوالے سے جو رپورٹ جاری ہوئی ہے اس میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے بھی کافی پیچھے ہے۔ اس کے لیے مودی حکومت پر کئی حلقوں کی جانب شدید نکتہ چینی کے ساتھ ہی طنز بھی ہو رہا ہے۔

اس برس جاری ہونے والی ورلڈ ہنَگر انڈکس کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریبا ایک ارب انسانوں کو بھوک کے مسئلے کا سامنا ہے۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر بھارت میں غربت کی سطح کو خطرناک قرار دیا گيا ہے اور انڈکس میں وہ اپنے پڑوسی ملک نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان سے بھی کافی نیچے آ چکا ہے۔

تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس بھارت عالمی سطح پر 94ویں نمبر پر تھا تاہم اس برس بھوک کے لحاظ سے اس کی پوزیشن مزید خراب ہو گئی اور اب وہ اس انڈکس میں افغانستان یا پھر نائجیریا اور کانگو جیسے چند افریقی ممالک سے ہی آگے ہے۔

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتوں سمیت کئی حلقوں نے اس کے لیے مودی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی ہے جو اکثر اپنے آپ کو غریبوں کی مسیحائی کا دعوی کرتی رہتی ہے۔ سخت گیر ہندو نظریات کی حامل حکمراں جماعت بی جے پی کا دعوی ہے کہ مودی حکومت ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر لے کر گامزن ہے۔

لیکن ملک میں اس وقت بے روز گاری اپنی ریکارڈ سطح پر ہے اور ہر جانب مہنگائی کا بول بالا ہے۔ کورونا وائرس کے سبب معیشت کا بھی برا حال ہے اور اگر عالمی سطح پر موازنہ کیا جائے تو بھارت کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں سب سے زیادہ ہیں۔

اپوزیشن کانگریس پارٹی کے سینیئر رہنما کپل سبل نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس انڈکس کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا، “مبارک ہو مودی جی! آپ نے غربت اور بھوک کا خاتمہ کر دیا، بھارت کو عالمی طاقت بنا دیا ہے، ملک کی معیشت کو ڈیجٹل کر دیا اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کر دکھایا ہے۔”

انہوں نے غربت کے خاتمے سے متعلق حکومت کے دعووں کو کھوکھلا بتاتے ہوئے کہا، “گلوبل بھوک انڈکس میں گزشتہ برس بھارت 94 مقام پر تھا تاہم اس برس وہ بنگلہ دیش، پاکستان اور نیپال سے بھی نیچے پہنچ کر 101ویں نمبر آ گيا ہے۔”

انہوں نے لکھا، پاکستان 92ویں، بنگلہ دیش 76، سری لنکا 65 اور نیپال کی پوزیشن 76 ہے اور اس فہرست میں افغانستان بھی بھارت سے کچھ زیاد پیچھے نہیں بلکہ وہ 103 نمبر ہے۔

گلوبل ہنگر انڈیکس (جی ایچ آئی) کے مطابق اس برس چین، برازیل اور کویت سمیت اٹھارہ ممالک نمبر پانچ سے بھی کم سکور کے ساتھ ٹاپ رینکنگ میں شامل ہیں۔ اس لحاظ سے بھی بہت سے بھارتی فکرمند ہیں کہ آخر پڑوسی ملک چین نے بھوک مٹانے میں اتنی اچھی پیش رفت کیسے کر لی اور بھارت پیچھے کیوں ہے؟

کانگریس پارٹی کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ، “اگر لوگ ملک میں پیٹ بھر کھانا نہیں کھا سکتے تو کیا اس سے حکومت کی کارکردگی پر سوال نہیں اٹھتا ہے؟” ایک اور کانگریسی رہنما منیش تیواری نے اس معاملے پر بحث کے لیے پارلیمان کا فوری طور پر اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے ایک بحث جاری ہے اور بہت سے افراد نے اپنے تبصروں میں اس ناکامی کے لیے حکومت پر طنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک صارف لکھتے ہیں کہ بھارت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، “یہ کتنی شاندار ترقی ہے؟”

اشوک سوائن نامی ایک ٹویٹر صارف نے اپنی پوسٹ میں انڈکس کے تازہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے لکھا ہے، “یہ سب گلوبل سپر پاور بننے کی علامات ہیں۔” ونئے کمار دکانیہ لکھتے ہیں، “مودی ہےتو ہنگر ہے۔”

بعض لوگوں نے اس غربت اور بھوکے کے مسائل کے لیے کانگریس پارٹی کو بھی یہ کہہ کر مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ اس نے ملک پر ایک طویل عرصے تک حکومت کی اور اسی کی وجہ سے آج بھی غربت ہے۔