fbpx

منی بجٹ نافذ؛ دودھ، گھی، موبائل، مرچ، نمک، گاڑیاں و گوشت سمیت 150 اشیا مزید مہنگی

Food Product

Food Product

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) وفاقی حکومت نے آج اتوار سے ادویات، ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال ،سلائی مشین،درآمدی مصالحہ جات، گاڑیاں، دوائیں، موبائل فون، دو سو گرام سے زیادہ وزن کے حامل بچوں کے دودھ، ڈبے والی دہی، پنیر، مکھن، کریم، دیسی گھی، مٹھائی پر دی جانیوالی سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی ہے اور ان اشیاء پر سترہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس لاگو کردیا ہے۔

صدر مملکت کی جانب سے مالیاتی بل2021 پر دستخط کے بعد منی بجٹ کا نفاذ کردیا گیا ہے جبکہ چینی پر رعایتی سیلز ٹیکس ختم کرکے سترہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس کا اطلاق یکم دسمبر 2021 سے کیا گیا ہے اور باقی تمام اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرکے عائد کردہ سترہ فیصد جی ایس ٹی کا اطلاق آج سے کیا گیا ہے۔

چھوٹی دکانوں پر بریڈ،سویاں،نان،چپاتی،شیر مال، رسوں پر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا مگر بیکریوں،ریسٹورنٹس، فوڈ چینز اور مٹھائی کی بڑی دکانوں پر ٹیکس ہوگا۔ اس کے علاوہ درآمدی نیوز پرنٹ، اخبارات، جرائد، کاسمیٹکس، کتابیں، سلائی مشین، امپورٹڈ زندہ جانور اور مرغی پر مزید ٹیکس لگے گا ۔کپاس کے بیج، پولٹری سے متعلق مشینری، اسٹیشنری، سونا، چاندی بھی منی بجٹ کے بعد مہنگے ہوجائیں گے۔

منی بجٹ میں تقریباً 150اشیا پر سیلز ٹیکس بڑھایاگیا ہے، موبائل فون پر ٹیکس 10سے بڑھا کر15فیصد کرکے7ارب روپے اضافی حاصل کیے جائیں گے، 1800سی سی کی مقامی اور ہائبرڈگاڑیوں پر8.5فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا گیا ہے،1801سے 2500 سی سی کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75فیصد ٹیکس عائدکردیا گیا ہے ،درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر12.5فیصد ٹیکس عائدکردیا گیا ہے۔

ایف بی آرکے سینئر افسر نے بتایا منی بجٹ کا اطلاق آج اتوار سے کردیا گیا ہے،بچوں کے فارمولہ دودھ پر جی ایس ٹی میں رعایت کر دی گئی ہے، لال مرچ اور آئیوڈین ملے نمک پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، 500 روپے مالیت کے 200گرام دودھ کے ڈبے پر جی ایس ٹی نہیں ہوگا،ملٹی میڈیا، ٹائر ون کٹیگری کے آوٹ لیٹ و بیکریوں اور ریسٹورنٹ پر بیکری پر ڈبل روٹی، بن رس سمیت دیگر سامان،زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے مختلف نوعیت کے پلانٹ و مشینری سمیت ، ویجیٹیبل گھی، موبائل فون، سٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹم، انڈے، پولٹری، گوشت، جانوروں کی خوراک کی تیاری میں استعمال ہونے خام مال، گاڑیاں، ٹریکٹرسمیت ایک سوپچاس کے لگ بھگ اشیا مہنگی ہونے کے امکانات ہیں، ان اشیا پر سترہ فیصد جی ایس ٹی عائد کردیا گیا ہے۔

وفاقی و صوبائی ہسپتالوں، خیراتی ہسپتالوں،این جی اوز و تعلیمی اداروں ،سفارتکاروں و سفارتی مشن سمیت دیگر مراعات یافتہ طبقے کی طرف سے کی جانے والی درآمدات کو بھی ٹیکس سے چھوٹ واپس لے لی گئی ہے، ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے شیڈول 5، 6، 7، 8اور 9 میں کی جانے والی ترامیم لاگو کردی گئی ہیں۔

اپوزیشن کی تنقید اور عوامی ردعمل پر چھوٹی دکانوں پر بریڈ،سویاں، نان،چپاتی وغیرہ پر ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے،سیب کے علاوہ درآمدی پھلوں، سبزیوں پر10فیصد سیلز ٹیکس ، پیکنگ میں فروخت ہونے وا لے درآمدی مصالحہ جات پر17فیصد سیلز ٹیکس ، فلور ملز پر بھی 10فیصد سیلز ٹیکس عا ئدکیا گیا ہے جس سے آٹا بھی مہنگا ہوسکتا ہے ،ملٹی میڈیا ٹیکس بھی10فیصد سے بڑھا کر 17فیصدکرنے ، بیٹری پر ٹیکس 12فیصد سے بڑھا کر 17فیصد کردیا گیا ہے ،ڈیوٹی فری شاپس پر بھی 17فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیاہے۔

سرکاری عہدہ رکھنے والوں کی ٹیکس تفصیل پبلک کرنے کے قانون کو بھی لاگو کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریئل اسٹیٹ کو دی گئی رعایت جاری رکھی جائے گی۔ کسٹمز، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس قوانین میں ترامیم کر کے ایف بی آرکلکٹر کے اختیارات کم کردیئے گئے ہیں ۔ منی بجٹ لاگو ہونے کے بعد اب ان اشیا کے مہنگے ہونے کا واضح امکان ہے۔