fbpx

ناسا نے روور لینڈنگ کی اولین ویڈیو اور آڈیو جاری کر دی

NASA

NASA

امریکا : امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے اپنے پرزیویرنس نامی روور کے مریخ کی سطح پر کامیابی سے اترنے کے بعد زمینی اسٹیشن کو بھیجی گئی اولین آواز اور ویڈیو جاری کی ہے۔

امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے سُرخ سیارے مریخ کی سطح پر ریکارڈ کی گئی اولین آڈیو جاری کی ہے، جو ہمارے نظام شمسی کے اس سیارے پر اترنے والے تازہ ترین امریکی روور پریزیورنس نے ریکارڈ کر کے بھیجی ہے۔

اس روور کے مریخ کی سطح پر اترنے کی مختلف تصاویر قبل ازیں جاری کی جا چکی ہیں، تاہم وہاں سے بھیجی گئی ویڈیوز کو زمینی اسٹیشن پر موصول ہونے میں کئی دن لگے۔

تین منٹ اور 25 سیکنڈز کی ویڈيو میں پرزیورنس روور کے مریخ پر اترنے کے عمل کے آخری حصے کو دکھایا گیا ہے۔

مریخ کی فضا میں سطح سے کئی کلومیٹر اور پیراشوٹ کے کھلنے سے لے کر اس گاڑی کے اڑتی دھول کے درمیان مریخ کی سطح کو چھونے تک کا عمل اس ویڈیو میں موجود ہے۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے ڈائریکٹر، مائیکل واٹکِنز کے بقول، ”یہ واقعی حیران کُن ویڈیوز ہیں۔۔۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ہم مریخ پر لینڈنگ کے عمل کی ویڈیوز بنانے کے قابل ہوئے ہیں۔ ہم سب نے اسے اختتام ہفتہ پر کئی کئی مرتبہ دیکھا ہے۔‘‘

ایک پریس کانفرنس کے دوران ناسا نے بہت سی نئی اعلیٰ تفصیلات کی حامل یا ہائی ریزولوشن تصاویر بھی پیش کیں۔

لینڈنگ کے عمل کے دوران تو مائیکروفون نے کام نہیں کیا لیکن جب یہ روور مریخ کی سطح پر اتر گیا، تو اس نے آوازوں کو ریکارڈ کیا۔ کم دورانیے کی صوتی ریکارڈنگ سننے میں تو کوئی بہت حیران کن چیز نہیں لگتی، مگر یہ پہلا موقع ہے کہ کسی دوسرے سیارے کی آواز کی ریکارڈنگ ہم تک پہنچی ہے۔

پرزیورنس پر دو مائیکروفون لگے ہوئے ہیں۔ ناسا نے اپنی ویب سائٹ پر ‘ساؤنڈز آف مارس‘ کے نام سے مریخ پر ریکارڈ کی جانے والی آوازوں کی پلے لسٹ مرتب کی ہے۔

مریخ پر بھیجے گئے نئے روور پرزیورنس کی سرفیس مشن منیجر جیسیکا سیموئلز کے بقول، ”نیا بھیجا گیا روور امیدوں کے مطابق کام کر رہا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ”مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ پرزیورنس صحت مند ہے۔‘‘

ایک اور اپ ڈیٹ کے مطابق پرزیورنس روور پر موجود ‘انجینوئٹی‘ نامی چھوٹے سے ہیلی کاپٹر نے بھی اپنی صورتحال کے بارے میں کیلیفورنیا میں موجود کنٹرول سينٹر کو اولین رپورٹ بھیجی ہے۔

ناسا کے مطابق اس سے بھی یہی لگ رہا ہے کہ وہ بالکل درست انداز سے کام کر رہا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر ابھی تک روور کے اندرونی حصے میں موجود ہے۔ امید ہے کہ آئندہ 30 سے 60 دنوں کے دوران یہ مریخ کی سطح پر پرواز شروع کر دے گا جس سے ہمیں اس سیارے کا فضائی جائزہ بھی دیکھنے کو مل سکے گا۔

یہ کسی اور سیارے پر کسی فضائی گاڑی کی اولین پرواز ہو گی۔

پریزورنس کا مرکزی مشن تو سرخ سیارے مریخ پر ایسے نشانات تلاش کرنا ہے کہ آیا وہاں کبھی ماضی میں مائیکراسکوپک زندگی موجود رہی تھی، ساتھ ساتھ یہ وہاں کی ارضیاتی اور ماحولیاتی تفصیلات بھی جمع کرے گا۔

سوویت یونین نے اپنا سپوتنک سیٹلائٹ سن 1957 میں خلا میں روانہ کیا تھا۔ یوں سوویت یونین خلائی مشن بھیجنے میں امریکا سے بازی لے گیا اور امریکا کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ خلا میں سویت یونین کا غلبہ قائم ہو جائے گا۔ تب ہی امریکی فوج نے انتیس جولائی کو ایکسلپورر وَن نامی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا اور پھر اسی سال اکتوبر میں ناسا کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

اس روور کا اپنا وزن ایک ہزار کلوگرام ہے اور یہ ایک چھوٹی سائز کی کار کے برابر ہے۔ یہ روور آئندہ دو برس کے دوران مریخ کی سطح پر قریب 45 کلومیٹر کے قطر میں اپنا تحقیقی کام جاری رکھے گا۔