قومی زبان اردو کی زبوں حالی

Urdu

Urdu

تحریر : ملک عبدالمنان

زبان کو رابطے میں نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ کسی بہی سطح پر رابطے کے لیے جو واسطہ استعمال ہوتا ہے اسکی پہلی سیڑھی زبان ہی ہے-ایک شخص جب دوسرے شخص سے رابطہ کرتا ہے تو پہلے اس کی زبان کے متعلق جانچ کرتا ہے کہ مطلوبہ شخص کی زبان کون سی ہے- اور یہ زبان اس شخص کی پہچان ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس شخص کا تعلق کہاں سے ہے۔

ملک یا سلطنت کا جو بانی ہوتا ہے وہ اپنے مقاصد کو حاصل کر لینے کے بعد اس کے کچھ اصول وضع کرتا ہے کہ ہمارا نظام کن اصولوں کے مطابق مثبت سمت میں گامزن ہوسکے گا- یہ اصول اس نظام کے لیے منزل پر جانے والے راستے کی حیثیت رکہتے ہیں۔

ہمارے ملک پاکستان کو جب معرض وجود میں لایا گیا تو اس کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے بہی کچھ اصول بنائے کہ جن کی پیروی کر تے ہوئے یہ ملک استحکام حاصل کرے – ان اصولوں میں سب سے بڑا اصول باہمی رابطہ یعنی پاکستان کی زبان کا اصول تہا کہ پاکستان میں کون سی زبان بولی جائے گی۔

چنانچہ اردو کو پاکستان کی قومی اور دفتری زبان بنانے کا فیصلہ کیا گیا- قائداعظم کو خود انگزیزی زبان پر مکمل دسترس حاصل تہی جبکہ اردو میں تقریر کے دوران اکثر ان کو دقت پیش آتی تہی اس کے باوجود انہوں نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دیا اس بات سے یہ عیاں ہے کہ اردو زبان میں ہی ملک پاکستان کی ترقی کا راز مضمر تہا اس لیے کافی مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود بانی پاکستان نے اردو کو قومی زبان قرار دیا اور ہمیشہ اس زبان کی اہمیت پر بہت زور دیا۔

اس وقت کے انگریز راہنماں نے بہت جتن کیے کہ دنیا کے نقشے پر نئے نمودار ہونے والے ملک پاکستان کی قومی زبان انگریزی کو قراردلوایا جائے اور بعض عناصر ہندی کو پاکستان کی قومی زبان کو رائج کرنے پر زور دے رہے تھے اور اِس مقصد کے لیے مختلف تحریکوں کو سرگرم کیا گیا مگر وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور نہ ہی ان کا دبا قائداعظم کے قدموں میں لغزش ڈال سکا- اس طرح انگریز اور دوسرے عناصر کلی طور پر ا س چال میں بری طرح ناکام ہو گئے۔

جب تک بانی ِ پاکستان اور ان کے جانثار ساتھی زندہ رہے انہوں نے اردو کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا اور پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کیے رکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دشمن قوتوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں تیز ہوتی گئیں وہ انگریزی زبان کے فوائد و ثمرات کو اجاگر کرنے لگے، انگریزی زبان کے فروغ کے لیے فنڈ قائم کیے جانے لگے تاکہ پاکستان پر انگریزی زبان کا تسلط قائم کر کے اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جا ئے۔ ہماری بے چاری عوام انگریز کی چکنی چپڑی باتوں میں آ گئی اور ان کے پروپیگنڈے کا شکار ہو گئی- حکمرانوں نے بھی بانی پاکستان کے اردو کے بارے میں اقدام اور حکمت کو نہ سمجھا نہ ہی اس کی طرف توجہ دی اور انگریزی زبان کے ساتھ اس ملک کی تقدیر کو جوڑ دیا۔

پاکستان میں اردو کو جس طرح قومی زبان کا درجہ دیا گیااس کے نتیجے میں اس کی حفاظت اور فروغ کی ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر تھی مگر اردو کو اس کی اصل اہمیت نہ دی گئی۔ قومی زبان اور دفتری زبان کے فرق کو برقرار رکھ کر اردو کا کردار قومی زندگی میں محدود کر دیا گیا۔

یہاں سے ملکی تنزلی کا دور شروع ہوا آہستہ آہستہ انگریز نے اپنی زبان کے تسلط کے سہارے ہمارے ملک پر اپنا قبضہ جمانا شروع کیا- دوسرے ممالک سے تعلقات کے لیے اردو کو فراموش کر کے انگریزی زبان کو ترجیح دی جانے لگی اور یہ گمان کیا جانے لگا کہ ہم نے ترقی کی راہ پہ قدم رکھ لیا ہے اور ہم تہذیب کے دائرے میں داخل ہوتے جا رہے ہیں- اس کے بعد اپنی قومی زبان سے اس قدر رو گردانی کی جانے لگی کہ اردو پڑہنے، لکھنے اور جاننے والوں کو جاہل، کم تر اور انگریزی کے دو چار بول بولنے والوں کو تعلیم یافتہ، لائق اور ذہین و فطین تصور کیا جانے لگا-
جوں جوں وقت گزرتا گیا تعلیم کا حصول عام ہوتا گیا تو اردو زبان بولنے والوں کے ذہن کو تبدیل کیا جانے لگا- اردو بولنے والے کو کمتر اور نااہل سمجہا جانے لگا- ہم بہت ہی معصومیت سے پاکستان کے مخالفین کے اس پروپیگنڈے کا شکار ہوتے گئے کہ اردو بولنے والوں کو روزی روٹی اور نوکری جیسے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے جبکہ ہمارے سامنے اردو کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز تہے بڑے بڑے کاروبار کے مالک بہی تہے- ملک کے اندر اردو سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ والدین بہی اپنے بچوں کو اردو میڈیم پڑہانا اپنے لیے باعث شرمندگی سمجھ رہے ہیں- ہم غیروں کے پروپیگنڈے میں آ کر اپنے بچوں کا تعلیمی نقصان کر کے یہ سمجہنے لگے کہ ہم دوسرے ممالک کے ساتھ مقابلے میں کہڑے ہیں، ترقی میں ہم ان کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ پہلے اردو زبان بولنے والوں کو اردو سے کوئی شکایت نہیں تہی- اردو میں ثانوی تعلیم حاصل کرنے والوں کا داخلہ بآسانی اعلی تعلیم کے لیے بڑے بڑے اداروں میں ہو جاتا تہا کہ جہاں اردو کے علاوہ اور بہی کئی زبانیں تعلیم کے طور پر استعمال ہوتی تہیں- ان طلبا کے نتائج بہی بہت مثالی ہوا کرتے تہے- انہیں کبہی اردو بولتے، لکھتے اور پڑہتے شرم نہ آئی انہوں نے عار محسوس نہ کی بلکہ فخر سے کہتے کہ ہم پاکستانی ہیں اردو ہماری قومی زبان ہے۔

ہم نے یہ سوچنا گوارا نہ کیا کہ دوسرے ممالک کس طرح اپنی تعلیمی پالیسی وضع کرتے ہیں- وہ لوگ کیوں اپنی زبان پر اتنا زور دے رہے ہیں کہ اپنے بچے کو ابتدا سے ہی اپنی زبان میں تعلیم دیتے ہیں اور اعلی تعلیم تک وہاں اپنی زبان میں ہی دلچسپی لی جاتی ہے۔

ہم نے بچوں کے مستقبل شاندار بنانے اور اشتہاز بازی کے پروپیگنڈے پر یقین محکم کر لیا اور اردو زبان کے متعلق حالات اتنے ناساز ہو گئے کہ آج پانچ چھ سال کا بچہ بہی اردو میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو مکمل اجنبی محسوس کرتا ہے- اور ہمارے نوجوان جو بڑی بڑی جامعات میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ بنیادی اردو بول چال سے بہی نا واقف ہیں۔

دنیا بہر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بچے کی ابتدائی تعلیم اس کی اپنی زبان میں ہونی چاہیے اس طرح بچے کے ذہن کی نشو نما بہتر اندار میں ہوتی ہے- لیکن ہم نے ماہرین کی اس بات پر یقین نہ کیا اور جب ماہرین دنیا کو اپنی زبان کی اہمیت و افادیت بتا رہے تہے تب ہم اپنی زبان سے دوری چاہتے تہے اور ترقی کے خواب دیکھ رہے تھے-ہمارا یہ یقین تہا کہ اردو کا تعلق روزگار سے نہیں ہے ، اگر ہم نے اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم سے وابستہ کیا تو ہمارے بچوں کا مستقبل تباہ و برباد ہو جائے گا اور وہ بھوکے مر جائیں گے۔

انگریزی زبان کے بے جا تسلط کے فوائد و ثمرات ہم کو اتنے ملے کہ ہمارے ہونہار نوجوان جو انتہائی لائق ہوتے ہیں ان کی اکثریت اس انگریزی مضمون میں ناکامی کی وجہ سے سرے سے تعلیم ہی چہوڑ دیتی ہے- کئی ایسے طالبعلم ہیں جو اس انگریزی کی بدولت اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پا رہے اور پہر وہ تعلیم کو خیر آباد کہہ کر مزدوری کی طرف رخ کرتے ہیں- یہ ایک دو بچوں کے مستقبل کی بات نہیں ہے ہمارے معاشرے میں سینکڑوں ایسے نوجوان موجود ہیں کہ جنہوں نے صرف انگریزی مضمون کے بوجھ کو دیکھ تعلیم کو چہوڑ کر خود کو سخت مشقت میں ڈال دیا اور آج در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں- ان نوجوانوں کے مستقبل تاریک ہونے میں حکمران بھی برابر کے قصور وار ہیں کہ جنہوں نے ملک میں اردو کو عزت نہ دی اور انگریزوں کی زبان کو ملک و قوم کی تقدیر میں لکھ دیا- اگر قائداعظم کے فرمودات کی روشنی اور 1973 کے آئین کے مطابق اردو کو ہم اپنا اوڑہنا بچھونا بناتے تو ہمارینوجوان اپنی اعلی تعلیم مکمل کر کے ملک و قوم کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان جہاں تبدیلی کا نعرہ لے کر اقتدار میں آئے ہیں، وہ اپنی تقریر بھی قومی زبان میں کرتے ہیں اور بیرون ممالک میں بھی اردو کو ہی اہمیت دیتے ہیں- اگر وزیراعظم عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے اردو زبان کے نفاذ کا اعلان کر دیں تو ان کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اردو کے نفاذ کے معاملے کو سنجیدہ لے اور سست روی ترک کرتے ہوئے پاکستان کی قومی زبان اردو کو پورے ملک میں عملی طور پر نا فذ العمل کرے ۔ سرکاری دفاتر میں بولنے اور لکھنے میں اردو استعمال کی جائے ، اور سرکاری اداروں کی ویب سائٹس اردو زبان میں بنائی جائیں تاکہ عوام پاکستان بھرپور طریقے سے ان سے استفادہ کرسکیں اور ملک و ملت ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

سلیقے سے ہواں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

Malik Abdulmanan

Malik Abdulmanan

تحریر : ملک عبدالمنان