محسن وطن نواز شریف

Nawaz Sharif

Nawaz Sharif

تحریر : شاہ بانو میر

رحمت اللہ کا وصف ہے
معاف کرتا ہے اور پسند کرتا ہے جو معاف کرے
مگر
ایمان گھر کا مضبوط نہ ہو تو باب التوبہ کھلوا کر اللہ سے مدد تو مل جاتی ہے
جو غلیظ الفاظ کسی کی ذہنی توڑ پھوڑ کا باعث بنے ہوں
وہ اللہ معاف نہیں کرتا
امریکہ میں ہم نے دیکھا
بندہ جس کو اپنی سانس پے اعتبار نہیں
وہ فرعونی انداز میں صرف لوگوں کی تعداد
دیکھ کر روایتی لا ابالی پن دکھاتے ہوئے کہہ رہا ہے
اس قیدی کا جاتے ہی اےسی اور ٹی وی اترواتا ہوں
جواب میں بجتی تالیاں مجھے
اس کے پیرو کاروں کے فرعون ہونے کا بھی دکھ دلا گئیں
کچھ ملک ایسے ظالم سفاک ماحول رکھتے ہیں
کہ
وہاں رہنے والے روپے کے پیچھے بھاگتے ہوئے انسانوں کی عزت احترام بھول جاتے
اور
پھر
خود بھی اپنے بچوں کے ہاتھوں انہی اولڈ ہومز کا حصہ بنتے ہیں
کوئی رئیس باپ مر جائے تو جس طرح بگڑی اولاد باپ کی دولت دونوں ہاتھوں سے اڑاتی ہے
اس پارٹی نے آسانی سے ملی ہوئی اس حکومت کے ساتھ بالکل ویسے ہی کیا
اسکی قدر نہیں کی
خوب چن چن کر پڑھے لکھے بد لحاظ ترجمان چنے
جن کی زبانیں مغلظات کی عادی تھیں کہ
ٹی وی پر بھی انہیں بند کرنا پڑا یہ لوگ اس لئے چنے گئے کہ
سیاسی مخالفین کو کارکردگی سے نہیں
زبانی گالی گلوچ سے ذہنی طور پے اذیت پہنچا کر نفسیاتی برتری حاصل کی جائے
آج متکبرانہ جملے جو امریکہ میں کہے گئے
ان کے جواب میں جو عزت اللہ نے عطا کی سب دیکھ رہے ہیں
حکومت سمیت ہر ایک کی دوڑ لگی ہوئی
کہ
کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے
دست بدست ہاتھ باندھے سب کے سب کبھی ہسپتال کبھی عدالت میں
اس انسان کیلئے موجود ہیں
جس کا اے سی ٹی وی اتروایا جا رہا تھا
واہ میرے مالک

میرے رب کے کمالات دیکھ کر ایسے فرعون نمرود فاشسٹ اپنا چہرہ پیٹتے ہیں
مگر
ہونا وہی ہے
جو اس عظیم اللہ کا حکم لوح محفوظ میں ہے
آج عمران خان کو کہے ہوئے ہر جملے کا جواب براہ راست مل رہا ہے
اللہ کا جواب ساری دنیا دیکھ رہی ہے
المیہ یہ ہے ہم صرف اپنوں کے خلاف چیخنا پسند کرتے ہیں
غیر ملکی ریمنڈ ڈیوس کے خلاف نہیں
ہاں
ہم بیرون ملک دورے پر پہلے کعبہ کے اندر عاجز بندے بن کر داخل ہوتے ہیں
ا رب سے معاملہ طے کر کے
بندوں کے ہجوم میں ہم ہم سیاستدان بن گئے
اے سی ٹی وی سب اتروا دوں گا
استغفراللہ
جہالت کی آخری حدیں پھلانگ گئے
اپنی سانس کا پتہ نہیں
ہم شور مچاتے ہیں
نواز شریف کیلئے
بے نظیر بھٹو کیلئے
ڈاکٹر قدیر کیلئے
اور جن غیروں کیلئے ہم پاگل ہوئے ہیں
یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے
کتاب محکم قرآن پاک نے فرمایا
یہ تم سے کبھی راضی نہ ہوں گے
ہمیشہ تمہاری تکلیف انہیں خوشی دیتی ہے
بزدلی کی انتہاء یہ کہ
موت کے منہ میں جاتے انسان کے ساتھ مقابلہ ملتوی کر رہے ہیں
کیا مجھے کوئی اس نئی سیاست کا جواب دے سکتا ہے
جس میں ایک عورت کو نہ عقل ہے نہ مت نجانے کس برتے
پر وہ ایک جماعت سے
دوسری سے تیسری میں اچھل کود کرتی پھر رہی ہے
کیا مرد اس سنجیدگی کے ساتھ ان نازک مسائل کے حل کیلئے پارٹی میں نہیں ہیں؟
کیا سیاست میں پاکستان کی عورت کا گھر سے یوں باہر نکلنا
کہ
وہ مردوں کو پیچھے چھوڑ جائے
کوئی ٹیلنٹ ہو کوئی خوبی ہو تو شیریں مزاری کی طرح خوشی ہوتی ہے
صرف پوسٹرز صرف تصاویر
عورت کی ایسی درگت پاکستان میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئ
مرد تو اپنی بیویوں کو گھروں سے نکالنا بزدلی سمجھتے تھے
جنگ میں بھی خواتین کی شرکت محض
مرہم پٹی کی چند مثالیں ملتی ہیں
کیا یہ نیا انداز نئی تحریک ایسی گھر سے نکلی عورت
اس ملک کے نظام کو مضبوط کر پائی گی؟
جسے بات کرنے کی تہذیب سلیقہ نہیں
مثال ہے
اسلام بائیس ہزار کلو میٹر تک کا پھیلاؤ
بائیس ہزار کلو میٹر کیلئے کسی سپہ سالار نے عورت کو
اتنا عقلمند نہیں سمجھا کہ
اسے ساتھ ساتھ لے کر ہمرکاب چلے
گویا وہ اکیلا چلتے ہوئے ڈرتا ہے؟
ملک کا کلچر برباد کر کے فاتح اور کامیاب آپ پھر نہ بن سکے
نہ آپ سے تبدیلیوں کے ساتھ سیاست ہوئی
اور
نہ ہی آپ سے منہ زور گھوڑے سنبھالے گئے
آپ کی ناکام سیاست کا تحفہ ایک قابل تاریخی متحرک سیاسی رہنما
جزباتی جھٹکوں اور نفسیاتی حربوں سے موت کے منہ میں جا رہا ہے
اور
بے حسوں کے اس بازار میں کسی کو ذرا خوف الہیٰ کا شائبہ نہیں
سیاست کی پستی
آج ایک اور عظیم سیاستدان کو نگلنے کیلئے تیار ہے
محسن پاکستان
زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے
پورے ملک کا متفقہ فیصلہ ہے
جیسا انصاف جیسا سیاسی انتقام
جیسا طرز تکلم ہم نے اس حکومت میں سنا دیکھا
یہ غیر روایتی انداز ختم ہونے والا ہے
ہمیشہ ہمیشہ کیلیے اپنی موت آپ مر جائے گا
اس کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئےختم ہونے والا ہے
واپس وہی چہرے وہی جماعتیں وہی نظام پاکستان کا مقدر بنے گا
کیونکہ
بھوکے پیٹ وہی ملک مانگ رہے ہیں
جہاں چور تھے لٹیرے تھے ڈاکو تھے
لیکن
وہ آنکھوں میں آنسو لے کر بچوں سے نگاہیں چرائے
دو سال کے بعد کامیاب پاکستان کیلئے
بھوکے نہیں رہتے تھے
ہمیں پرانا پاکستان کیوں چاہیے؟
اس لئے کہ سب نے اپنی غلطیاں سدھارنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے
اس ملک کے سابقہ تمام سیاسی رہنما ماضی کی غلطیوں سے تائب ہو کر
سچے دل کے ساتھ ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں
دل کا بدلنا اصل سچی تبدیلی ہے
اسی کو قرآن پاک بیان کرتا ہے
گناہ گار دل سے خوبصورت دل کا سفر بتاتا ہے
انسان ماضی پر تائب ہو کر
آئیندہ کیلئے بہتر سوچ کی بنیاد رکھے
یہی ہے
میرے عظیم رب کی کتاب کا حکم
اور
یہی ہے وہ عمل جو مسرت دیتا ہے
میرے پیارے حبیب ﷺ کو
پاکستان کل تک کمزور رہا
کیونکہ
ہر محسن کو زمین بوس کیا گیا
باہر والوں کو خوش کرنے
اب پاکستان کمزور نہیں رہے گا
وہ اپنے محسنین کو پہچانے گا
ان کو قدر دے گا
اب ان کو ان کی قربانیوں کو کارناموں
کو نصاب میں جگہہ دے گا
غیور با شعور با وقار پاکستان
جو میرا ہے جو آپ کا ہے
عوامی طاقتور غیور حکومت اپنا اثاثہ قیمتی جان کر
جان سے بڑھ کر اپنے لوگوں کی اور ان کے ہُنر کی قدر کرتی ہے
یہ قدر
ہزار تصاویر بنا کر لگا لیں
دل و دماغ پر کہیں کوئی نقش نہیں چھوڑتیں
کام کی وجہ سے قدر ملتی ہے
اور
قدر اشتہار نہیں ہوتی
رویے سے احترام سے ادب سے ظاہر ہوتی ہے
نواز شریف پوری قوم آپ کی خدمات کو مانتی ہے
آپ دل کو توانا رکھیں
ان کروڑوں چاہنے والوں کی والہانہ محبت سے
جو آپ کیلئے دعا گو ہیں
ان بد لحاظ مشیران کو اپنی بیماری اور موت کو یاد کرنے کا شعور عطا فرمائے
آپ ہوں یا ڈاکٹر قدیر
پاکستان کے عظیم محسن ہیں
اور
تاریخ کی وہ پسندیدہ شخصیات ہیں
جن کی ذات کی نفاست اور زباں کی عمدگی خاندان کا پتہ دیتی ہے
حالات کیسے بھی ہوں
اچھے خاندان کا انسان زبان کا استعمال اپنے بڑوں کے ادب میں مؤدب رہ کر ہی کرتا ہے
نواز شریف تم دلوں کی آواز ہو
جسم تو سب فنا ہو جانے ہیں
لیکن
کسی انسان کا اچھا برتاؤ اور اس کی نفاست ہمیشہ زندہ رہتی ہے
آپ انہی میں سے ایک ہیں
زندگی کی دعا ہے
پوری قوم کی جانب سے
آپ محسن پاکستان ہیں

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر