ضرورت کیا ہے

Sad

Sad

بات کو اتنا بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

شہر کو چھوڑ کے جانے کی ضرورت کیا ہے

عین ممکن ہے کبھی ختم ہوں رنجش ساری

گھر میں دیوار اٹھانے کی ضرورت کیا ہے

بچوں کی ضد ہے کہیں اور رہیں گے جا کے

آخر اس گھر کو بنانے کی ضرورت کیا ہے

ہم تو آپس میں ہی ہیں دست گریباں سب سے

ہم کو دشمن سے لڑانے کی ضرورت کیا ہے

جن کو بچپن میں سکھایا ہو بزرگوں کا ادب

ان کو آداب سکھانے کی ضرورت کیا ہے

میں ابھی زندہ ہوں ہر بوجھ اٹھانے کے لیے

بوجھ بچوں کو اٹھانے کی ضرورت کیا ہے

مٹ گیا نام و نشاں دنیا سے میرا اب تو

قبر پر تختی لگانے کی ضرورت کیا ہے

آشیاں اب یاں بنانے کی ضرورت کیا ہے

پھر نئی دنیا بسانے کی ضرورت کیا ہے

بات کرنا بھی گوارا نہیں جن کو ہم سے

ان کو منہ اپنے لگانے کی ضرورت کیا ہے

جس کو احساس نہ ہو تیری محبت کا کبھی

اس کو سینے سے لگانے کی ضرورت کیا ہے

ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی مل نہ سکا

اس کو چھوڑ کے جانے کی ضرورت کیا ہے

تم کو دینا تھا مرا ساتھ پریشانی میں

اس طرح ساتھ نبھانے کی ضرورت کیا ہے

تم محبت میں نہیں عادی وفا کرنے کے

تم سے اب پیار بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

جن کی فطرت میں ہے ڈسنا وہ ڈسیں گے ارشیؔ

آستینوں میں چھپانے کی ضرورت کیا ہے

دشمنی اور بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

پھر کوئی آگ لگانے کی ضرورت کیا ہے

خوب واقف ہیں ترے بدلے ہوئے لہجے سے ہم

تم کو کسی بہانے کی ضرورت کیا ہے

اس حنا کی ہی مہک تیرا پتا دیتی ہے

اس کو ہاتھوں پہ لگانے کی ضرورت کیا ہے

ہم تڑپ اٹھتے ہیں محفل میں ترے آنے سے

اس طرح سامنے آنے کی ضرورت کیا ہے

تجھ کو آنا ہی نہیں تو ذرا کھل کے بتا دے

اس طرح خاب میں آنے کی ضرورت کیا ہے

جب یہ معلوم ہے دشوار ہے ملنا اپنا

ایسے پھر خواب دکھانے کی ضرورت کیا ہے

تم کو معلوم ہے بے مول ہوں بکنے والا

پھر مرا دام لگانے کی ضرورت کیا ہے

اب تجھے بات بنانے کی ضرورت کیا ہے

اس طرح نظریں چرانے کی ضرورت کیا ہے

کوئی غم خوار تجھےیاں نہیں ملنے والا

سب کو غم اپنے بتانے کی ضرورت کیا ہے

مجھ کو مارنے کو ایک تو ہی کافی ہے

لاؤ لشکر کیوں لانے کی ضرورت کیا ہے

آ نہیں سکتا وہ اس طرح مقابل میرے

اس کو پھر ایسے ہرانے کی ضرورت کیا ہے

ایسے سچ لکھنے لکھانے کی ضرورت کیا ہے

خود کو مشکل میں پھنسانے کی ضرورت کیا ہے

جس کی اوقات نہیں مجھ سے نظر ملائے

اس کو نیچا دکھانے کی ضرورت کیا ہے

کاٹ دی جائے گی تیری زباں کچھ کہنے پر

کوئی آواز اٹھانے کی ضرورت کیا ہے

سب کو جلوہ دکھانے کی ضرورت کیا ہے

ہر جگہ نین لڑانے کی ضرورت کیا ہے

کچھ تو دشمن بھی بنا لو کے کبھی کام آئیں

سب کو دوست بنانے کی ضرورت کیا ہے

سنگ دل لوگ ہیں یہ کچھ نہ سنیں گے تیری

ان کو دکھڑا سنانے کی ضرورت کیا ہے

تم کو کرنا ہی نہیں عشق و محبت ہم سے

اس طرح نین لڑانے کی ضرورت کیا ہے

اک ملاقات ہی میں جانے کی اتنی جلدی

پھر کبھی لوٹ کے آنے کی ضرورت کیا ہے

تم کو معلوم ہے مرجائیں گے پروانے پھر

اس طرح شمع جلانے کی ضرورت کیا ہے

اس نے چھوڑا ہے تجھے لیکن ابھی زندہ ہے

اس طرح سوگ منانے کی ضرورت کیا ہے

ارشد ارشیؔ