نئی بریگزٹ ڈیل کی برطانوی پارلیمنٹ سے منظوری: ایک اور مشکل

Boris Johnson and Jean-Claude

Boris Johnson and Jean-Claude

برطانیہ (اصل میڈیا ڈیسک) یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلا کی نئی ڈیل طے پا گئی ہے۔ اس ڈیل کے لیے برطانوی اور یونین کے مذاکرات کار مسلسل مذاکراتی عمل جاری رکھے ہوئے تھے۔

یورپی یونین کی رکن ریاستوں کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کا خیال ہے اب سارا معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں طے ہو گا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس مرتبہ صورت حال قدرے مختلف ہے کیونکہ ٹریزا مے کی مرتبہ طے پانے والے ڈیل کی راہ میں آئرش مسئلے کے ساتھ ساتھ کئی اور بھی معاملے رکاوٹ کے طور پر موجود تھے۔ اگر اس معاہدے کے حق میں وزیراعظم جانسن ارکان پارلیمان کی حمایت حماصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والی ڈیل میں سب سے اہم مسئلہ آئرلینڈ کا تھا۔ نئی ڈیل کے تحت شمالی آئرلینڈ میں یورپی یونین کی مارکیٹوں کے بعض قوانین نافذ العمل رہیں گے تا کہ اُسے یونین کی رکن ریاست جمہوریہ آئر لینڈ کے ساتھ سرحدی معاملات میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یورپی یونین کے مذاکرات کار مشیل بارنیئر کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ آزاد تجارت کے سمجھوتے کے لیے مذاکراتی سلسلے کا آغاز کر سکیں گے۔ دوسری جانب اس معاہدے کی توثیق یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی جانب سے بھی ابھی ہونا باقی ہے۔ جو آج سترہ اکتوبر بروز جمعرات شروع ہونے والی سمٹ میں ممکن ہے۔ برطانوی پارلیمان سے معاہدے کی توثیق ممکنہ طور پر ہفتہ انیس اکتوبر کے روز حاصل کی جائے گی۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اس امید کا اظہار کیا ے کہ وہ اراکان پارلیمان کی اکثریت کو اس ڈیل کے حق میں راضی کر لیں گے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ سابقہ بریگزٹ معاہدے کو برطانوی پارلیمنٹ نے سابقہ وزیراعظم ٹریزا مے کے دور میں تین مرتبہ مسترد کیا تھا۔

یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر نے ستائیس رکنی یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ اس نئی بریگزٹ ڈیل کی حمایت کریں۔ ینکر نے اس تناظر میں ایک خط بھی یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو روانہ کیا ہے۔ انہوں نے رکن ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنے تعاون سے برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کے عمل کو مکمل کریں۔

اس ڈیل کے حوالے سے برطانیہ میں ابھی تک منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی سیاسی حلقوں نے اس ڈیل کو بھی ناقص قرار دیا ہے۔ اب تک برطانوی رہنماؤں کا ردعمل کچھ یوں رہا ہے:

برطانیہ کی مرکزی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن نے نئی ڈیل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کوربن کے مطابق وزیراعظم جانسن نے ٹریزا مے کی ڈیل سے بھی خراب ڈیل پر اتفاق کیا ہے اور اسے پوری طرح مسترد کیا جاتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی رہنما نکولا اسٹرجن نے کہا ہے کہ اُن کی سیاسی جماعت آج طے پانے والے نئے بریگزٹ معاہدے کو بھی مسترد کرتی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے اسکاٹ لینڈ یورپی یونین سے باہر ہو جائے گا۔

نکولا اسٹرجن لندن حکومت میں برطانوی علاقے اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ سیکرٹری ہیں۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی کی لیڈر کا مزید کہنا ہے کہ یورپی یونین سے باہر ہونے کا مطلب صرف سنگل مارکیٹ سے باہر ہی ہونا نہیں، بلکہ یہ اسکاٹش عوام کی جمہوری خواہشات کے منافی بھی ہو گا۔

آئر لینڈ کے وزیر خارجہ سائمن کووینی نے نئے معاہدے کو ‘مستقبل کی سمت ایک بڑی جست‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیل واقعتاً حمایت کے قابل ہے۔ کووینی کے مطابق اس ڈیل میں آئرش عوام کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے اور گزشتہ تین برسوں سے حل نہ ہونے والے معاملات کو اتفاق رائے سے طے کر لیا گیا ہے۔

بریگزٹ کے حامی انگریز سیاستدان نائجل فراج نے برطانوی پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ تمام ارکان اس نئی ڈیل کی مخالفت کریں کیونکہ یہ حقیقتاً برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا نہیں بلکہ اس معاہدے کے بعد بھی برطانیہ یورپی یونین کا پابند ہو گا۔ فراج نے مزید کہا کہ شفاف تعلق کو ختم کرنا ایک اور یورپی معاہدے سے بہتر ہے۔ انہوں نے ملک میں نئے الیکشن کو ضروری قرار دینے کے ساتھ ساتھ بریگزٹ کے لیے مقرر تاریخ اکتیس اکتوبر میں توسیع کا مطالبہ بھی کیا۔