سال نو اور فکر احتساب

New Year

New Year

تحریر: کرن فاطمہ

یکم جنوری سے نئے عیسوی سال کی شروعات ہوتی ہے اور دسمبر کی آخری شب اور یکم جنوری کی پہلی شب کو معاشرے کا ایک بڑا طبقہ موج مستی اور ہلا گلا کر کے نئے سال کی آمد کا جشن منایا۔ نئے سال کی آمد خوشی و مسرت نہیں بلکہ فکر اور احتساب کی دعوت کے ساتھ آتی ہے۔ ہر گزرنے والا سال ہمیں موت کے قریب کرتا جا رہا ہے۔ سال نوکی آمد تو اپنا محاسبہ اور جائزہ لینے کے لیے ہے کہ گزشتہ برس میں جو کمی کوتاہی ہم سے ہوئیں ہم آنے والے برس میں ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں۔

سب سے پہلے تو گزشتہ سال میں جو نعمتیں حاصل ہوئیں ان پر رب کا شکر ادا کیجیے۔ شکرادا کرنا نعمتوں میں اضافہ اور دوام کا ذریعہ ہے اور لغزشوں پر استغفار کیجیے۔ ہر انسان سے خطا اور لغزش ہو سکتی ہے لیکن بہترین خطاکار وہ ہے جو اپنی غلطی پر نادم اور شرمسار ہو۔ وقت کی قدر کریں۔ وقت وہ عظیم نعمت ہے جس کا صحیح استعمال انسان کو کامیاب بناتا ہے اور گیا وقت دوبارہ لوٹ کر نہیں آتا۔ نبی پاک ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا: ”دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے میں بہت سے لو گ دھوکے کا شکار ہیں ایک صحت اور دوسری فراغت“ (صحیح بخاری)

لایعنی سے اپنے آپ کو بچا کر ہر ہر لمحے کی قدر کریں اور اپنی عمر کے اوقات کے بے بہا سرمایہ کو ایسی تجارت میں لگائیں جو دنیا اور آخرت دونوں میں نفع بخش ثابت ہو۔ یہ زندگی کے ایام درحقیقت ہماری عمروں کے صحیفے ہیں ان کو نیک اعمال سے دوام بخشیں۔ اپنے آپ کو اچھے کاموں میں مشغول رکھیں ورنہ بے کار کاموں میں عمر گزر جائے گی اور پچھتاوے کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آ ئے گا۔

مقصد حیات کو پہچانیں اور اس کی تکمیل میں لگ جائیں۔ اللہ تعالی نے کائنات کی ہر ہر شے کو انسان کے لیے بنایا اور ان کی خدمت پر مامور کر دیا لیکن انسان کو اللہ رب العزت نے اپنی بندگی اور عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ قرآن کی آیت کا مفہوم ہے کہ ”زندگی اور موت اس لیے پیدا کیا گیا کہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔“ (سورہ ملک)

نیا سال اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ماضی میں ہونے والی کوتاہیوں پر نظر کرے اور گزشتہ ایام میں پیش آنے والے حالات و واقعات سے جو اسباق حاصل ہوئے ان کو مشعل راہ بنا کر اپنی زندگی میں سدھار پیدا کرے۔

Accountability

Accountability

نیا سال نئے عزائم، نئی امیدوں کے ساتھ تازہ دم ہو کر آگے بڑھنے کا نام ہے۔ اپنا احتساب کریں۔ نئے اہداف مقرر کریں اور ان کی تگ ودو کے لیے اسباب پیدا کرنے اور محنت کے لیے خود کو تیار کریں۔ اللہ سے ہمت،حوصلہ اور استقامت مانگتے رہیے تاکہ منزلیں عبور کرنے میں آسانی رہے۔ اپنے دینی، معاشرتی اور اخلاقی فرائض دیانت داری سے انجام دینے کا عہد کریں۔ جو وقت گزر گیا اس پر کف افسوس ملنے کے بجائے آنے والے وقت کی قدر کریں۔ لیل و نہار کا آنا جانا یونہی رہے گا۔ آج ہم ہیں، کل اسی جگہ کوئی دوسرا ہوگا، جب تک اللہ کو منظور ہے زندگی کا نظام یونہی چلتا رہے گا۔ کامیاب اور کامران وہ ہے جو دین اور دنیا دونوں کو سنوارنے میں عمر لگائے۔ غفلت میں نہیں بلکہ عمر کی جمع پونجی فکر کے ساتھ خرچ کرے۔ خالق اور مخلوق رشتہ اچھا اور بامقصد زندگی بسر کرے ۔ جن کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہو ان کے لیے نئے سال کا تو کیا نئی صدی کا بدلنا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔

تحریر: کرن فاطمہ