fbpx

’نکوٹین پاؤچز‘ کیا ہیں؟ اور سوشل میڈیا پر اس سے متعلق کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

Nicotine Pouches

Nicotine Pouches

برطانیہ : سوشل میڈیا پر سگریٹ کی جگہ نوجوانوں میں مقبول ہوتا نیا ٹرینڈ Nicotine Pouches گردش کرنے لگا اور ٹوبیکو کمپنیوں نے نوجوانوں کو ’تمباکو فری‘ کے نام پر سگریٹ کا متبادل نکوٹین پاؤچز فروخت کرنا شروع کردیے۔

برطانوی کمپنی کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں جدید فیشن سے آراستہ چمچماتی تشہیری مہم تیزی سے نوجوانوں کو مہلک شوق کی جانب کھینچ رہی ہے۔

برطانوی ٹوبیکو کمپنی نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر فیشن سے آراستہ جدید تشہیری مہم کا آغاز کیا ہے جس میں نوجوانوں کو تمباکو فری کے نام پر نکوٹین پاؤچز کی جانب راغب کیا جارہا ہے۔

مہم میں پاکستانی ٹک ٹاکرز کو شامل کیا گیا ہے اور مہم میں پراڈکٹ استعمال کرنیوالے نوجوانوں کو خوبرو، پُرکشش، فیشن ایبل اور کامیاب دکھایا گیا ہے۔

برطانوی کمپنی اپنی عالمی مارکیٹنگ مہم کے تحت ایک بلین پاؤنڈ سوشل میڈیا انفلیوئنسرز اور پاپ اسٹارز پر خرچ کررہی ہے جس میں اسپورٹس ایونٹس،کنسرٹس بھی شامل ہیں۔

کمپنی کی نئی مہم کا سلوگن کین کھولو ،نکوٹین کی ٹیبلٹ منہ میں رکھو اور کول بن جاؤ ہے، سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو اپنی جانب کھینچتے چمچماتے اشتہارات کی بھرمار تیزی سے نوجوانوں کی توجہ حاصل کررہی ہے۔

پاکستان میں ’Open the Can‘ کے سلوگن سے فیس بک اور انسٹاگرام پر تشہیری مہم میں 40 انفلیونسرز کو استعمال کیا گیا ہے جسے13 ملین سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔

ایک جانب کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ مصنوعات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں جن کا مقصد پہلے سے سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو سگریٹ نوشی چھوڑنے اور کم مُضر صحت آپشن کی جانب راغب کرنا ہے، انہیں سگریٹ کے مقابلے میں پھیپھڑوں کے لیے کم مضر صحت تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کے دیگر مضر صحت اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ کے بیورو آف انویسٹی گیٹیو جرنلزم کی رپورٹ کے مطابق بچوں سمیت جو لوگ سگریٹ نوشی نہیں کرتے وہ بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک17 سالہ انفلیونسر نے بتایا کہ انہیں یہ پاؤچز استعمال کرنے کے لیے مفت دیے گئے تو ان سے شناختی کارڈ تک نہیں مانگا گیا۔

خیال رہے کہ سگریٹ نوشی ایک ایسا شوق ہے جس سے سالانہ 8 ملین افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایک جانب، ٹی وی پر نکوٹین کی مصنوعات کی تشہیر پر پابندی ہے لیکن سوشل میڈیا پر بڑی خاموشی سے تشہیر جاری ہے جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے؟