جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ کا دورہ ایران

International Atomic Energy Agency

International Atomic Energy Agency

تہران (اصل میڈیا ڈیسک) اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ گروسی اتوار بارہ ستمبر کو تہران پہنچ کر اعلیٰ ایرانی حکام سے ملیں گے۔ وہ اتوار ہی کی شام واپس ویانا پہنچ جائیں گے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی میں ایران کے نمائندے کاظم غریب آبادی اور اس بین الاقوامی ایجنسی دونوں نے بتایا کہ رافائل ماریانو گروسی اتوار بارہ ستمبر کو ایرانی دارالحکومت پہنچیں گے۔

وہ اپنے چند گھنٹوں کے قیام کے دوران تہران میں ایرانی نائب صدر اور اٹامک انرجی کے ایرانی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی سے ملیں گے۔ ایرانی مندوب غریب آبادی کے مطابق گروسی کے اس دورے کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا جائے گا۔

اتوار کی شام آسٹریا کے دارالحکومت ویانا واپسی پر گروسی ہوائی اڈے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تہران میں اپنی ملاقاتوں کی تفصیل بیان کریں گے۔ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کا صدر دفتر ویانا میں ہے۔

ایران کے جوہری توانائی کے ادارے AEOI نے بھی آئی اے ای اے (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی کی آمد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بارہ ستمبر کو محمد اسلامی سے ملاقات کریں گے۔ نئے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دور اقتدار میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کا یہ تہران کا پہلا دورہ ہو گا۔

دورے کی ضرورت
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کے سربراہ کا ایران کا یہ دورہ امکانی طور پر جوہری بات چیت میں تعطل کی صورت حال میں کوئی نیا آغاز ہو سکتا ہے اور فریقین میں پیدا شدہ تناؤ میں کمی بھی ممکن ہے۔ اس دورے کو اگلے ہفتے کے دوران بین الاقوامی ادارے کے بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ کے تناظر میں اہمیت دی جا رہی ہے۔

امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ دو سفارت کار گروسی اور اسلامی کی ملاقات سے قبل تہران پہنچ رہے ہیں۔ ان سفارتکاروں کے دورے کا مقصد واضح نہیں کیا گیا۔ قبل ازیں آئی اے ای اے نے اپنے رکن ممالک کو مطلع کیا تھا کہ ایران کے ساتھ اب تک کے مذاکرات میں زیرِ بحث مرکزی نکات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایران کے ساتھ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی جن اہم معاملات پر گفتگو جاری رکھے ہوئے ہے، ان میں اول پہلے سے معائنہ شدہ اور غیر اعلانیہ کئی تنصیبات کے مقام پر یورینیم ذرات کی موجودگی کی تفصیلات اور دوم جوہری تنصیبات میں نصب نگرانی کے آلات تک فوری رسائی اہم ہے، تا کہ جوہری پلانٹس کی موجودہ صورت حال کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مکالمت بھی معطل ہے کیونکہ امریکا ایران سے سن 2015 کی ڈیل پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتا ہے جب کہ تہران حکومت ٹرمپ دور میں عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کی خواہش مند ہے۔

نئے ایرانی صدر جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کریں، امریکا

امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں نے ایران کے نئے سخت گیر موقف کے حامل صدر ابراہیم رئیسی سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ وہ مزید وقت ضائع کیے بغیر مذاکرتی سلسلے کا حصہ بن کر متنازعہ معاملات کے حل کی کوششوں کو آگے بڑھائیں۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے رواں برس کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اگست میں اپنے منصب سنبھالا تھا۔

سن 2015 کی جوہری ڈیل کے تحت ایران نے بڑی طاقتوں کے ساتھ اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنے خلاف پابندیاں اٹھائے جانے کے نتیجے میں اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کر دے گا۔ لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ڈیل سے یکطرفہ دستبرداری کا اعلان کرنے کے بعد تہران کے خلاف کئی نئی سخت اقتصادی پابندیاں لگا دی تھیں۔

ان پابندیوں کے جواب میں ایران نے جوہری ڈیل کی کئی اہم شرائط سے انحراف شروع کر دیا تھا، جس میں یورینیم کی افزودگی کی شرح میں اضافہ بھی شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران اب اس سطح کے قریب ہے، جہاں پہنچ کر افزودہ یورینیم کا جوہری ہتھیار سازی کے لیے استعمال ممکن ہو جاتا ہے۔