ایٹمی جنگ۔۔انسانیت ہار جاتی ہے

Nuclear War

Nuclear War

تحریر : امتیاز علی شاکر

جنگ دو ریاستوں۔ قبائل یا قوموں کے درمیان تنازعات کے پرامن طریقے سے حل نہ ہونے کی صورت میں پیداشدہ سنگین کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والے تصادم کو کہا جاتا ہے۔مسلح جنگوں کے دوران ملک۔قبائل۔قوموں کے مسلح لشکرجنہیں افواج کہاجاتاہے اپنے ملک و قوم کے دفاع کیلئے میدان جنگ میںاترتے ہیں۔تاریخ شاہدہے کہ مسلح جنگوں کے نتیجے میں بے دریغ انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے،لاکھوں بے گناہ افراد مارے جاتے ہیں۔عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوجاتے ہیں۔انسانوں کی جنگ کی وجہ سے معصوم جانوراورپرندے بے موت مارے جاتے ہیں۔گھراورکھیت تباہ ہوجاتے ہیں۔جنگ میں کسی کی جیت ہونہ ہوپرانسانیت ہرجنگ ہارجاتی ہے۔

انسانی تاریخ کاسب سے بڑا۔دردناک۔وحشت ناک۔کرب ناک اورشرم ناک انسانی سانحہ اگست1945ء کودوسری جنگ عظیم کے دوران پیش آیا جو آج تک کی انسانی تاریخ کے بدترین۔سیاہ ترین اورافسوس ناک ترین دن مانے جاتے ہیں۔ امریکا نے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گراکرتین لاکھ سے زائدبے گناہ انسانوںکی جان لے لی۔ امریکہ کی ایٹمی بمباری کے باعث آج بھی ہیروشیما اور ناگاساکی میں پیدا ہونے والے بچوں کی اکثریت میں کوئی نہ کوئی خلقی نقص پایا جاتاہے۔ایٹم بم نہ صرف انسانیت بلکہ روح زمین پربسنے والی تمام مخلوقات کی زندگی کیلئے انتہائی تباہ کن جنگی ہتھیارہے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ امریکہ نے جاپان پرایٹم برسائے توکیاجاپان اورجاپانی قوم دنیا سے ختم ہوگئی؟کیاجاپان پرایٹم بم گرانے کے بعدامریکہ کی تمام پریشانیاں ختم ہوگئی؟امریکہ آج بھی دنیاکے کئی ممالک میں مداخلت کررہاہے۔

امریکہ۔عراق اورافغانستان پرجنگ مسلط کرکے لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جان لے چکاہے اوریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔اقوام عالم امریکہ کی کھلی دہشتگردی پرصرف اس لئے خاموش ہیں کہ امریکہ کی معاشی حالت مضبوط ہے۔امریکہ کے پاس جدیداوروافر جنگی سازوسامان موجودہے ورنہ کمزورممالک اورقوموں کوتوفوری دہشتگردقراردے دیاجاتاہے۔اگست 1945ء کے بعد دنیانے مزید تیزی کے ساتھ جنگی سازوسامان بنایااوراکٹھاکیاہے یعنی آج دنیا روح زمین پرزندگی کیلئے اگست1945ء سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔تنازعہ مقبوضہ کشمیرکے باعث پاکستان اورانڈیا۔دوایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔انڈیااس مسئلے کودنیاسے چھپانے کی کوشش کررہاہے جبکہ پاکستان ہرممکن کوشش کررہاہے کہ اقوام عالم خاص طورپرسپرپاورامریکہ اس مسئلہ کی حساسیت کوسمجھے اورایسی مداخلت کرے جودوایٹمی طاقتوں کوجنگ کی طرف جانے سے روکے۔

ایسااسی صورت ممکن ہے کہ امریکہ بھارت کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اہل کشمیرکوحق خودارادیت دینے پرمجبورکرے اورجلدمقبوضہ کشمیرکے عوام کواپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کااختیاردیاجائے۔ایسانہ ہونے کی صورت میں پاک بھارت جنگ کاخطرہ نہ صرف موجودرہے گابلکہ آج نہیں توکل پاکستان اوربھارت کے درمیان جنگ ضرورہوجائے گی۔دوہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ میں ایٹمی ہتھیاراستعمال ہونے کی نوبت آئی توبڑی تباہی ہوگی جس کاخمیازہ نہ صرف پاکستان اورانڈیابھگتیں گے بلکہ پوری دنیااثراندازہوگی۔ایسی جنگ میں جیت کسی کی نہیں ہوگی البتہ انسانیت اورزندگی ہارجائے گی۔افسوس اورفکر کی بات یہ ہے کہ ابھی تک امریکہ۔پاک بھارت کشیدگی کم کروانے کیلئے اس قدرسنجیدہ نظرنہیں آتاجتنی ضرورت ہے ۔1945ء کے مقابلے میں2019ء میں انسانی آبادی میں بہت اضافہ ہوچکاہے۔1945ء کے امریکی ایٹمی حملے میں لاکھوں افرادمارے گئے تھے جبکہ آئندہ ایٹمی حملے کی صورت میں کروڑوں اوراربوں انسانوں کے ساتھ دیگرمخلوق کی جان جائے گی۔

امریکہ کی دو یونیورسٹیوں کی تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ پاک بھارت ایٹمی جنگ ہوئی تو ایک ارب سے زائد لوگ مارے جائیں گے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ ہوئی توجنگ کے پہلے ہفتے میں ہی ایک ارب لوگ جان کی بازی ہار جائیں گے۔یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈراور یونیورسٹی آف رٹگرزکی رپورٹ کے مطابق پاک بھارت ایٹمی جنگ سے صرف ان دونوں ملکوں میں ہی ہلاکتیں نہیں ہوں گی بلکہ اس کے اثرات عالمگیر ہوں گے۔پوری دنیا میں درجہ حرارت گر جائے گا جو شاید آخری برفانی دور کے بعد جیسا ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق پاک بھارت ایٹمی جنگ کے نتیجے میں کالے دھوئیں کی ایک دبیز تہہ فضا میں شامل ہو گی اور زمین کے بڑے حصے کو ڈھانپ لے گی اور سورج کی روشنی زمین پر نہیں پہنچ سکے گی۔زمین کی پیداوار کم ہو جائے گی جس کے نتیجے میں قحط پیدا ہو جائے گا جس کے باعث بڑے پیمانے پر اموات ہوں گی۔رپورٹ میں پاکستان اوربھارت کی ایٹمی صلاحیت کوتفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوکہاگیاہے کہ ایٹمی جنگ کی صور ت میں بھارت میں پاکستان کے مقابلے میں اموات دوسے تین گناسے بھی زیادہ ہوں گی۔

رپورٹ میں واضع طورپرکہاگیاہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین حالات کشیدہ ہونے کی وجہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا۔ کشمیریوں پر کرفیو نافذ کرنا اور بھارتی فوج کا مظالم ڈھانا ہے۔ بی بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر سے تعلق رکھنے والی خاتون کارکن سفینہ نبی کاکہناتھاکہ آئین میں ہمیں کچھ حقوق دئیے گئے تھے اب ان حقوق کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔بھارتی حکمران کہہ رہے ہیں کہ یہ ہماری بہتری کے لیے کیا گیا، ایساہے تو ہم سے پوچھ کر کرتے، ہمیں اعتماد میں لے کرکرتے۔دہلی میں انٹرنیشنل خبررساں ادارے کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کشمیری لوگوں کے لیے یہ ایک جذباتی معاملہ بن چکا ہے۔کشمیری عوام سمجھتے ہیں کہ ابھی یاپھر کبھی نہیں۔لوگوں کے اب یہی جذبات ہیں اب ہم کچھ کریں تاکہ ہمارے مسائل حل ہو جائیں۔وہ کہتی ہیں کہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔پورا مواصلاتی رابطہ منقطع ہے۔سکول وکالج بندہیں،غذاء اورادویات کی قلت پیداہوچکی ہے۔بھارتی حکومت کشمیری قیادت کو قید میں ڈال کر فیصلے کر رہی ہے۔

کشمیر کے لوگوں کی بے چینی۔اضطراب اور غصہ بڑھ رہا ہے۔کشمیریوں کی نئی نسل میں موت کا خوف نہیں رہا۔کشمیری ہر پل مر رہے ہیں۔جب لوگ قید میں ہوں تو ان کے احساسات کیسے ہوں گے۔ان کی کیفیت ایسی ہی ہے جیسے کسی پنجرے میں بلبل کو قید کر دیا گیا ہو۔کشمیر کے لاک ڈاؤن میں عورتیں۔ مرد۔ بوڑھے سب ہی اپنے اپنے طور پر مشکلات سے گزر رہے ہیں۔عورتوں اور نو عمر بچوں پر ان حالات کا سب سے گہرا اثر پڑتا ہے۔اظہار کے سارے ذرائع چھین لیے گئے ہیں۔جو جذبات ہیں وہ اندر ہی اندر اُبل رہے ہیں۔ وہ کب پھٹیں گے یہ کسی کو نہیں معلوم۔ کشمیریوں میں مزاحمت کی قوت بہت زیادہ ہے اور یہ پہلی بار نہیں جب انھوں نے اس طرح کے حالات دیکھے ہوں۔وہ طویل عرصے سے ایسے حالات دیکھتے چلے آئے ہیںپراس بار معاملات بہت سخت اور الگ ہیں۔بھارت نے کشمیریوں کے خصوصی حقوق ختم کر دیئے۔ فون بند کر دیا۔انٹرنیٹ بند کر دیا۔سکول بند ہیں۔کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس سے اہل کشمیراپنے پیاروں کی خیریت دریافت کر سکیں۔ لوگوں کی بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔

لوگوں کے جذبات میں شدت آرہی ہے۔ کشمیر اب ایک غیر یقینی مستقبل کی گرفت میں ہے۔دنیاہمیں بتائے ایسے مشکل حالات میں پاکستانی لوگ اپنے کشمیری بہن بھائیوں کوتنہاء چھوڑسکتے ہیں؟یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ہم پاکستانی اہل کشمیرکاساتھ نہ دیں جس کااظہاراوراعلان ریاست پاکستان باربارکرچکی ہے۔ہم آخری سانس تک کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں چاہے اس کیلئے ہمیں کوئی بھی قیمت اداکرنا پڑے ۔آزادکشمیراورپاکستان کے عوام کنٹرول لائن عبورکرکے مقبوضہ کشمیرکے عوام کے دکھ درد بانٹنے کیلئے بیتاب ہیں جبکہ حکومت پاکستان اپنے عوام کوروکے ہوئے ہے جوایک مشکل کام ہے۔

پاکستان اقوام عالم خاص طورپرامریکہ کویہی بات سمجھانے کی مسلسل کوشش کررہاہے کہ کشمیری عوام پربھارتی مظالم اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ اہل کشمیرکوموت کاخوف نہیں رہااورجب کسی قوم کوموت کاخوف نہیں رہتاتب اسے دنیاکی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔انسانی حقوق کاعلم بردارامریکہ کیوں دیکھ نہیں سکتاکہ اہل مقبوضہ کشمیرپربھارتی افواج کیساکیساظلم ڈھارہی ہے۔اقوام عالم مسئلے کی سنگینی کوسمجھیں اورکشمیری عوام کی خواہشات اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کیلئے سنجیدہ کرداراداکریںتاکہ آنے والے دنوں۔مہینوں یاسالوں میں کوئی بڑاانسانی سانحہ رونمانہ ہوبصورت دیگربھارت کشمیری عوام کواُن کاحق آزادی کسی صورت دیتانظرنہیں آتا۔بھارت کاجنگی جنون دنیاکیلئے خطرہ بن چکاہے جسے کنٹرول کرناصرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیاکی ذمہ داری ہے۔با شعوراورامن پسندقومیں اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ جنگ روائتی ہویاایٹمی جیت کسی کی بھی نہیں ہوتی ہمیشہ انسانیت ہارجاتی ہے لہٰذاہم پاکستانی ہرصورت چاہیں گے کہ پاک بھارت کشیدگی جلدختم ہوجائے جودنیاکے بااثرممالک کی مداخلت کے بغیر ممکن نہیں رہی۔

Imtiaz Ali Shakir

Imtiaz Ali Shakir

تحریر : امتیاز علی شاکر
imtiazali470@gmail.com.
03134237099