fbpx

عمر البشیر کی عالمی عدالت انصاف کو حوالگی انصاف کا تقاضا ہے: ایمنسٹی

 Omar Al-Bashir

Omar Al-Bashir

سوڈان (اصل میڈیا ڈیسک) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ نے کہا ہے کہ سوڈان کے معزول صدر عمر حسن البشیر کو بین الاقوامی عدالت انصاف کو حوالے کرنا انصاف کا تقاضا ہے۔ عمر البشیر کے خلاف عالمی عدالت میں تحقیقات سے ظلم کا شکار ہونے والے افراد اور خاندانوں کو انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

سوڈان کے وزیر اطلاعات فیصل محمد صالح نے کہا تھا کہ حکومت نے دارفر صوبے کے باغی گروپوں کے ساتھ مل کر سابق حکومت کے اشتہاری قرار دیے گئے عہدیداروں کو عالمی عدالت انصاف کے حوالے کرنے پر تیار ہے۔

خیال رہے کہ عمر البشیر دارفر میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے الزامات میں بین الاقوامی فوج داری عدالت’آئی سی سی’ کی طرف سے اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ سوڈانی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ آیا حکومت کب تک سابق عہدیداروں کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات میں تحقیقات کے لیے عالمی عدالت میں پیش کرے گی۔

ادھر سوڈان کی خود مختار کونسل کے رکن محمد التعایشی نے کہا ہے کہ دارفر کے باغیوں کے ساتھ مذاکرات میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کو مطلوب سابق حکومت کے عہدیداروں کو عالمی عدالت کے حوالے کیا جائےگا۔

تاہم التعایشی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا عمر البشیر کو بھی عالمی عدالت کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں۔ عمر البشیر کو عالمی عدالت کے حوالے کرنے کے لیے خرطوم کو معاہدہ روم کا حصہ بننا ہوگا۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس فوج کے ہاتھوں برطرف ہونے والے سوڈان کے صدر عمر البشیر پر دارفر میں بغاوت کچلنے کی کوشش کے دوران اجتماعی قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

دارفر میں سنہ 2003ء میں خرطوم حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا تھا۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے عمر البشیر کی وفادار فوج اور دیگر حامی ملیشیائوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر کریک ڈائون اور فوجی آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے جب کہ لاکھوں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ سنہ 2010ء میں دارفر میں تھوڑے عرصے کے لیے امن قائم ہوا مگر حالیہ تین برسوں کے دوران دوبارہ اس علاقے میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔

عالمی عدالت انصاف نے سنہ 2008ء، 2009ء اور 2010ء میں معزول صدر عمر البشیر، ان کے وزیر دفاع عبدالرحیم محمد حسین، صدر کے معاون خصوصی اور وزیر داخلہ احمد محمد ھارون اور ایک عسکری گروپ کے سربراہ علی کوشیب کو دارفر میں‌جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات میں اشتہاری قرار دے کران کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔