پاکستان میں قانونِ بغاوت کے خلاف مہم شروع

Pakistan Law Rebellion

Pakistan Law Rebellion

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران سماجی اور سیاسی کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر بغاوت کے قانون کو استعمال کیا گیا لیکن اب اس قانون کے خلاف کئی سطحوں پر مہم شروع ہوگئی ہے بلکہ اس کی آئینی حیثیت کو بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بغاوت کا قانون برطانوی سامراج کے خلاف 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستانیوں کو دبانے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت میں آنے کے بعد، بعض ناقدین کے خیال میں، اس قانون کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ حال ہی میں عوامی ورکرز پارٹی اور پی ٹی ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کو اسلام آباد میں پر امن مظاہرہ کرنے پر بغاوت کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور بعد میں ان الزامات کو پولیس کی طرف سے واپس لے لیا گیا۔

لیکن گزشتہ برس نومبر میں لاہور میں منعقد کیے گئے طلباء یکجہتی مارچ کے کئی منتظمین اب بھی اس طرح کے مقدمات بھگت رہے ہیں اور انہوں نے اب اس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ اس پٹیشن کے مقاصد بتاتے ہوئے طلبا یکجہتی مارچ کے مرکزی منتظم عمار علی جان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ایک جمہوری ریاست میں عوام حاکم ہوتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ پھر کس کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ پاکستان کیونکہ ایک جمہوری اور آزاد ملک ہے تو یہاں غلامانہ دور کے کسی قانون کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘

گزشتہ برس نومبر میں لاہور میں منعقد کیے گئے طلباء یکجہتی مارچ کے کئی منتظمین اب بھی بغاوت کے مقدمات بھگت رہے ہیں۔

کئی ناقدین کے خیال میں یہ قانون انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے لہٰذا اس کو ختم کیا جائے۔ عدالت میں اس مقدمے کو پیش کرنے والے معروف قانون دان اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی نے اس پٹیشن کے حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”یہ قانون آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-A کے خلاف ہے، جو اظہار رائے کی مکمل آزادی دیتے ہیں۔ یہ قانون انگریز سرکار نے مقامی آبادی کو دبانے کے لیے بنایا تھا، جس کو آئین بنانے والوں نے ختم نہیں کیا لیکن آئین کی کئی ایسی دفعات ہیں جن کے مطابق یہ قانون کالا ہے۔ لہذا ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے غیر قانونی قرار دیا جائے۔‘‘

کئی ناقدین کے خیال میں اس قانون کے استعمال سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے اور اسے جتنا جلد ختم کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد لیفٹ فرنٹ کے مرکزی رہنما فاروق طارق کا کہنا ہے کہ ان سمیت کئی عام شہری اس قانون کے تحت قائم کیے گئے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں: ”اس قانون کا استعمال اب ایک عام سی بات بن گئی ہے۔ پی ٹی آئی مخالفین کا گلا دبانے کے لیے اور اختلاف رائے کو کچلنے کے لیے یہ ڈریکونین قانون استعمال کر رہی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس قانون کے بے دریغ استعمال کا نوٹس لیا: ”اب ہم امید کرتے ہیں کہ پورا سماج اس قانون کے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا اور اس نو آبادیاتی قانون کو تاریخ کے کچرا دان میں پھینکے گا۔ ہم اس قانون کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔‘‘

’’جو لوگ آئین کو نہیں مانتے، جیسا کہ لال مسجد والا ملا عبدالعزیز اور احسان اللہ احسان، ان کی تو سر پرستی کی جارہی ہے یا انہیں فرار ہونے دیا جا رہا ہے‘‘

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ اس قانون کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ ملک کی طاقت ور ترین اسٹیبلشمنٹ اس کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تاکہ وہ اس کا استعمال اپنی مرضی سے کر سکے۔ انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے اسد بٹ کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش میں رکاوٹ ڈالے گی: ”جنرل مشرف کے دور میں بھی اس قانون کو طاقتور حلقوں کی طرف سے استعمال کیا گیا اور اب بھی اس کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ آئین کو نہیں مانتے، جیسا کہ لال مسجد والا ملا عبدالعزیز اور احسان اللہ احسان، ان کی تو سر پرستی کی جارہی ہے یا انہیں فرار ہونے دیا جا رہا ہے اور جو آئین کو مان کر پر امن طریقے سے مظاہرہ کر رہے ہیں ان پر اس قانون کے تحت مقدمات قائم کیے جارہے ہیں۔‘‘

اسد بٹ کا مزید کہنا تھا کہ جب پٹیشن سنی جائے گی تو غیر مرئی قوتوں کی طرف سے دباؤ ڈالا جائے گا: ”تاہم ایچ آر سی پی اس بات کا خیر مقدم کرتی ہے کہ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ ہم اس حق میں ہیں کہ اس قانون کو ختم کیا جائے اور لوگوں کے جمہوری و آئینی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔‘‘