fbpx

پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے اقتصادی اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے، سروے

Business

Business

کراچی (اصل میڈیا ڈیسک) ایسوسی ایشن آف چارٹر ڈسرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس اور انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ اکاؤنٹنٹس کی جانب سے عالمی اقتصادی حالات سے متعلق کیےگئے سروے میں اعتماد، نظام، روزگار اور اخراجات کے حوالے سے عالمی اقتصادی حالات میں بہتری کے آثار کی نشاندہی ہوئی ہے۔

سروے میں شامل دنیا بھر کے سینئر اکاؤنٹنٹس اور مالیاتی پروفیشنلز کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12ماہ کے مقابلے میں، اس سہ ماہی میں اقتصادی اعتماد نے بڑی جست لگائی ہے۔

اِس سروے میں، منفی رائے رکھنے والوں کے مقابلے میں،مثبت رائے رکھنے والوں میں 26 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔عالمی اقتصادی حالات کا سروے اِس رائے سے مطابقت رکھتا ہے کہ رواں سال کےاختتام پر عالمی اقتصادیات میں وبا سے قبل کی سرگرمیاں واپس آنے کے امکانات ہیں۔

پاکستان سمیت جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے نتائج سے، اعتماد کی سطح میں بہت زیادہ بہتری دکھائی دیتی ہے جس سے ملکی اور بین الاقوامی طلب میں بھی بہتری ظاہر ہوتی ہے۔اس کے نتیجے میں،جنوبی ایشیا میں اعتماد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جب کہ صرف شمالی امریکا میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، بھارت اور پاکستان میں کووڈ-19 نے خطے کے اقتصادی منظرنامہ کو دھندلا کردیا ہے۔

اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ سجید اسلم کا کہنا ہے کہ عالمی منظر نامے میں اْمید کی بڑی وجہ مختلف اقتصادی امکانات ہیں جن کا بنیاد اقتصادیات پر بہت زیادہ اثر انداز ہونے والے تین عوامل ہیں یعنی ویکسینیشن کی شرح، حکومت کی جانب سے مالی حوصلہ افزائی اور پابندیوں اور تالابندیوں کے درمیان افراد کا اپنےبچوں پر انحصار۔

اے سی سی اے کے چیف اکنامسٹ مائیکل ٹیلر نے کہا:” یہ سروے اعتماد کے حوالے سے زیادہ بہتر تصویر پیش کرتا ہے جس میں سروے کی تاریخ میں، بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مختلف اقسام کی ویکسین کی منظوری اور استعمال نے کورونا بحران کے خاتمے کے امکانات میں ڈرامائی طور پر اضافہ کیا ہے۔

پہلی سہ ماہی کے دوران،عالمی نظام کے انڈیکس میں بھی اضافہ ہوا ہے جو سنہ 2021 کی دوسری ششماہی میں عالمی اقتصادیات میں مزید بہتری سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہمیں اب توقع ہے کہ عالمی معاشی سرگرمی اس سا ل کے آخر میں، کورونا سے پہلے یعنی سنہ 2019 کی چوتھائی سہ ماہی کی سطح پر واپس آ جائے گی۔

عالمی منظرکے حوالے سے،اس سروے میں بعض ملے جلے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔’خوف‘ کا اشاریہ جو کسٹمرز اور سپلائرز کا کاروبار ختم کرنے کی تشویش کے بارے میں ہے، اب بھی طویل المیعاد اوسط سے زیادہ ہے جس کے باعث غیریقینی صورت حال جاری ہے۔

اخراجات کے حوالے سے قریب المیعاد تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سروے میں اس اشاریئے کے پوائنٹس 24 تھے جو اب پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 33 ہو گئے ہیں جس سے،عالمی معیشت میں بحالی کے باوجود، اشیا ء کی بلند قیمتوں اور دیگر اخراجات کا اندازہ ہوتا ہے۔

تاہم اخراجات کے حوالے سے یہ تشویش اب بھی طویل المیعاد اوسط سے کم ہے۔ ایک مضبوط معیشت کی واپسی کے امکانات نے بھی افراط زر میں مستقل اضافے کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں۔

عالمی سطح پر جواب دینے والوں کی دو تہائی تعداد نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران اس میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ تاہم،رپورٹ کے اختتام میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر ممالک میں 2020کی کساد بازاری کے اثرات، آئندہ برس بھی، افراط زر کو متاثر کریں گے جس میں، آئندہ تین سے پانچ برسوں کے دوران، بتدریج اضافہ ہوگا۔ امریکا میں، اس مضبوط اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے افراط زر میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان سمیت جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے نتائج سے، اعتماد کی سطح میں بہت زیادہ بہتری دکھائی دیتی ہے۔