fbpx

نیازی اور بزدل کا ہیرا ایکسپوز ہو گیا

Imran Khan

Imran Khan

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

پاکستانی سیاست کا اونٹ جو اداروں نے کھڑا کیا تھا وہ تو اسٹابلشمنت کے منہ پر ہی خاک اُڑا رہا ہے۔سیانے سوال کرتے ہیں ”اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی؟“اس ملک میں موجودہ اقتداریہ کے دور میں ہر جانب ظلم ،بر بریت اور نا انصافی اپنے عروج کو چھو رہی ہے۔قانونی نا انصافیان نیب سے لیکر ہر چھوٹے سے چھوٹے ادارے کا اظہاریہ بنا دیا گیا ہے اور کہین سے بھی بہتری کی رمق تک نظر نہیں آرہی ہے۔چاہئے تو یہ تھا عمران نیازی کے 126 دنوں کے دھرنوں کے بیا نیئے کو ہی حکومت اپنا حکومتی لائحہِ عمل نبا لیتی مگر اس ملک کی بد قسمتی کہ اس کو ایسے حکمران بھی دیکھنے پڑ گئے ہیں کہ جن کے قول و فعل تضادات کا مرقع ہیں۔ کسی ایک معاملے میں پریہ لوگ سچ کا سہارا لے لیتے ۔تاکہ ان کے مشیروں کو جذباتی ہو ہو کر جھوٹے بیانیوں پر منہ سے جھاگ نہ نکالنا پڑتے۔انہوں نے تو متاع کاروان ہی برباد کر کے جھوٹ کی عمارت کی دیواروں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے۔آج ہم ملک کی تباہی اور عوم کی دگرگوں حالت، سماجی اور معاشی بد حالی کا نوحہ ترک کر کے نیازی گروپ کے پالیسیہ ہیروں پر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران نیازی کے وزارتی نو رتنوں،مشاورتی نو رتنوں ،اور قانون کے نو رتنوں میں سے اکثر تو بھگا دیئے گئے یا بھاگنے کے لیئے تیار بیٹھے ہیں۔پاکستان کی نانی کی مورنی کو مور لے گئے ،باقی جو بچا تھا کالے چور لے ہتھیائے ہوئے ہیں۔ کالے چور اس ملک کو چلانے میں مکمل طور پر ناکام و نا مراد ہو چکے ہیں ۔ہر جانب ہُو کا عالم ہے۔مگر یہ حقیقت ہے کہ کہیں پتہ بھی کھڑکتا ہے تو حکومتی ایونوں کا دلا اٹھتا ہے۔ان کے اپنے بنائے گئے سیاسی حریف نواز شریف کی کسی پارک، روڈ اور چائے پیتے تصویر وائرل ہو جائے تو پوری پی ٹی آئی کے کپڑے گیلے جو جاتے ہیں۔حکومت وقت پر نواز شریف اور ان کی کمزور بیٹی کا خوف طاری ہے ۔مریم نواز بول اٹھے تو ان کا بلڈ پریشرشوٹ کر کے 200/120ہوجاتا ہے۔پھر نیاایوں اور پولیسیوں کی بھی دوڑین لگ جاتی ہیں ۔

ساہیول میں2019میں ہونے ولا سانحہ پولیس اور اداروں کی سوچی سمجھی کاروائی تھی۔جس پر وزیرِ اعظم بڑے بڑ ے دعوے کرتے رہے تھے۔مگر کلپرٹس کو کلین چٹ دے کر چین کی بنسی بجاتے دیکھا جارہا ہے۔معصوم بچوں کے والدین کو بمعہ ایک نوجوان بچی کے پولیس نے دہشت گردی سے جوڑ کران بے گناہ لوگوں کو قتل کر دیا ۔ انہیں دہشت گردی کے نیٹ ورک سے جوڑا گیا مگر ثبوت کہیں سے بھی نہیں دیا گیا۔مگر ان معصوم بچوں کو انصاف نہیں دیا گیا۔کیا یہ ہے ریاست مدینہ ؟ان لوگوں کی غیرت کہاں مر گئی ہے؟یہ حکومت عوام کے لئے بہت بڑا رسک ہے مگر ایک خاص مائنڈ سیٹ یہ سب کچھ میرے وطن میں کروا رہا ہے

پنجاب کے نا اہل پولیس کے افسرِ اعلیٰ کاتقرر بھی اسی مائنڈ سیٹ کا حصہ ہے اسی طرح موجودہ سی سی پی او لاہورعمر شیخ جو مالی اور اخلاقی طورپر کرپٹ ترین ہونے کی اداروں کی طرف سے خبر دی گئی تھی۔سی پی او لاہور کو آئی بی نے نا اہل قرار دیدیا تھا ۔جس پر وزیرِ اعظم نے اس کا پروموشن بھی روک دیا تھا۔مبینہ طور پر یہ موصوف بے حد کرپٹ افسر ہے۔مگر بد قسمتی سے اس کو بھی ریکوائرمنٹ فُل فِل نہ ہونے کے باوجود وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ان تمام باتوں کے باوجود سی سی پی ا ولاہور لگا دیا ۔ جو کسی کو خاطر میں ہی نہیں لا رہا ہے۔اس نے خاتون کے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر سفر کو مذاق بنا کر الُٹے خاتون سے لایعنی سوالات شروع کر دئے۔پھر اس سے بھی زیادہ خطر ناک بیان عوام کے لئے داغ دیا۔جس سے اس کی ذہنیت کا ہر کوئی آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتا ہے۔سی سی پی او اور حکومتی وزراءسمیت پاکستان کے ہر طبقے کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔مگر بعض ضمیر فروش وزیراءو مشیر اس کے باوجودعجیب عجیب بڈ کھیان بک رہے ہیں۔

لاہور موٹروے کا افتتاح مارچ 2020 میں ہواتھامگر اس پرعومی حفاظتی اقدامات نہیں کئے گئے۔جس پر مسلسل کرائمز ہوتے رپورٹ بھی ہوتے رہے ہیں۔مگر کرائمز کی ان خبروں کے باوجود اس موٹر وے پر پولیس کی تعیناتی نہیں کی گئی حالانکہ بعض افسران اس موٹر وے کے متلق موٹر وے پولیس کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کرت رہے ہیں۔حکو متی اداروں میںایک مخصوص مائنڈ سیت کام کر رہا ہے۔جو نیازی اوربزدار کے ہیرو ہیں جو مسلسل ایکسپوز ہورہے ہیں۔

Shabbir Ahmed

Shabbir Ahmed

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
shabbirahmedkarachi@gmail.co