فلسطینی لڑکی کا محبت سے موت تک کا سفر

Israa

Israa

فلسطین (اصل میڈیا ڈیسک) گھر والوں نے رشتہ دینے کے لیے ہاں بھی کر دی تھی لیکن باقاعدہ منگنی سے پہلے ہی انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر کی وجہ سے اکیس سالہ اسراء غريب سے جینے کا حق چھین لیا گیا۔

ایک نوجوان فلسطینی لڑکی کے ‘غیرت کے نام پر ہونے والے قتل‘ کی وجہ سے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ سڑکوں پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مغربی کنارے میں گزشتہ کئی دنوں سے خواتین اسراء غريب کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسراء غريب کی ہلاکت کی وجہ انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی وہ تصویر بنی، جو اس نے اپنے ہونے والے منگیتر کے ساتھ پوسٹ کی تھی۔ دونوں خاندان منگنی کے لیے تیار تھے۔ اسراء کے والدین نے رشتے کے لیے ہاں بھی کر دی تھی لیکن ابھی باقاعدہ منگنی نہیں ہوئی تھی۔

اسراء ایک میک اپ آرٹسٹ تھی اور اس فیشن بلاگر کے انسٹاگرام پر بارہ ہزار سے زائد فالورز بھی تھے۔ لڑکی کی دوستوں کا کہنا ہے کہ تصویر پوسٹ کیے جانے کے بعد اس کے بھائیوں اور کزنوں نے والدین کو بتایا کہ ان کے خاندان کی ‘عزت مٹی میں ملا‘ دی گئی ہے۔ گھر والوں کے کہنے پر ایک بھائی نے اسراء کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ بھاگنے کی کوشش کرتے ہوئے گھر کی دوسری منزل سے نیچے گر گئی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس سے اسراء کی ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچا۔

اسراء نے ہسپتال سے بھی اپنے زخموں کی تصاویر انسٹاگرام پر پوسٹ کر دیں اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ وہ ہمت نہیں ہارے گی، ”اگر مجھ میں ہمت نہ ہوتی تو میں کل ہی مر چکی ہوتی۔ اللہ قیامت کے دن ان سے پوچھے گا، جنہوں نے مجھ پر ظلم کیا۔‘‘

اسراء کے رشتہ داروں اور گھر والوں کو اس پر بھی غصہ آیا اور انہوں نے ہسپتال میں ہی اسے دوبارہ مارا پیٹا۔ بعدازاں اسے والدین کے گھر منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ بائیس اگست کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موت کے منہ میں چلی گئی۔ اسراء کے والدین کا کہنا ہے کی وہ اس کی موت دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی لیکن انسانی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس موقف پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اسراء کے خاندان کے تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطین میں ‘غیرت کے نام پر قتل‘ کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔ نہ صرف فلسطین بلکہ عرب دنیا میں غیرت کے نام پر قتل جیسے اقدامات کو روکنے کے لیے مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ ایسے ہی احتجاجی سلسلے کے بعد لبنان نے سن دو ہزار گیارہ میں اس قانون کو ختم کر دیا تھا، جو ایسے کیسز میں نرمی پیدا کرتا تھا۔ اس کے بعد سن دو ہزار سترہ میں تیونس اور اردن نے بھی قوانین میں تبدیلی لاتے ہوئے ‘غیرت کے نام پر قتل‘ کو جرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب ایسے کیسز کی تفتیش قتل کی واردات کے قانون کے تحت کی جائے گی۔