fbpx

جذبہ عشق

 Jazba Ishq

Jazba Ishq

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

مری کی خوبصورت بہشت نظر وادی ‘آسمان زمین پر بادلوں کے آوارہ غول در غول ‘شبنمی پھوار سے مامور ہوا کے مست جھونکے ، خوشبوئوں میں مہکے ہوئے بادلوں کے غول در غول ‘میرے جسم و جاں کو فرحت آسودگی خمار آلو د احساس دیتے ہو ئے میرے چاروں طرف جنت نظیروادی اور اُس کے ہو شر با قدرتی مناظر چاروں طرف قدرتی مناظر ٹوٹ کر برسے تھے آبشاروں جھرنوں کا مترنم شور میرے جسم و روح کا پور پور خمار نشاطگی کی آخری حدوں پر تھے میر ا انگ انگ سرشاری کی برسات میں نہا رہاتھا ایسے خوبصورت مناظر میں اگر کوئی آپ کے مزاج جیسا انسان بھی ساتھ دینے کو ہو تو پھر زمین پر ہی گوشہ جنت آباد ہو جاتا ہے اگر آپ کا ساتھی آپ کا مزاج آشنا نہ ہو آپ کے مزاج کی باریکیوں کو نہ جانتا ہو غیر ضروری طور پر آپ کے مزاج میں تلاطم پیدا کر کے آپ کے موڈبے نیازی سر شاری کو خراب کر تا ہو تو پھر ایسے ساتھی کی بجائے تنہائی خلوت گرینی ہی بہتر ہے اور اگر ساتھی آپ کے مزاج میں غیر ضروری دخل اندازی نہ کر تا ہو آپ کے مزاج کے مطابق ری ایکٹ کر تا ہوتو پھر قدرتی مناظر کا وہ گو شہ زندگی کے صد رنگ جلوئوں سے بھر جاتا ہے۔

میں مری کی جنت نظیر وادی میں فطرت کے ہو شر با مناظر موسم بادلوں جھرنوں آبشاروں مترنم آوازوں کو خوب انجوائے کر رہا تھا میرے اعصاب دماغ قلب و جان مہک آلود تھے کہ میرا دیوانہ مستانہ میرے پیٹ کی پو جا کے لیے کو ہ مری کے قدرتی پھلوں کے باغات کے شہد جیسی مٹھاس سے لبریز قدرتی پھل لے کر پہاڑی راستہ اوپر چڑھتا نظر آیا اب مجھے اُسی کا انتظار تھا ۔ میں مری کے قدرتی مناظر خوشگوار ٹھنڈے مو سم آسمان کے اُس پار خالق کائنات کا دیوانہ تھا ہر وقت حق تعالی کا ذکر زبان پر جاری تھا پھر حق تعالی کے جلوئوں کی برسات تھی اور میں عالم جیر شیں اُن نظاروں میں تجلیات الٰہی میں مستغرق رہتا تھا استغراق جذب و سکر مدہوشی کا عجیب عالم کہ کسی کی دخل اندازی ناگوار گزرتی لیکن ناصر کشمیری میرا حقیقی عاشق تھا میرے مزاج کو سمجھتا تھا میرے مزاج کی لطافتوں باریکیوں کو جان گیا تھا میری پسند و ناپسند کو جان چکا تھا یہ سب کچھ جاننے کے بعد وہ پیا ر و محبت عشق و ادب کے ہمالیے پر تھا اُس کی صبح شام میرے نام کی مالا جپتے ہو تی تھی ہر وقت اِس ٹوہ میں رہتا کہ میں کن باتوں پر خوش کن باتوں پر ناراض ہو تا ہوں۔

میری پسندیدہ چیزوں کا اُسے بہت اچھی طرح پتہ تھا پھر اُن چیزوں کا پہاڑا اُس نے خوب رٹ لیاتھا وہ میری نظروں میںسرخرو ہونے مجھے خوش کر نے میرے لیے آسانیاں پیدا کر نے کے بہانے تلاش کر تا رہتا تھا جذب و سکر کے عالم میں جب میںکو ہ مری اور گلیات کی وادیوں میں جنگل گر دی کرتا تھا کبھی کبھی وہ بھی میرے ساتھ ہو تا تھا ایک دن میرے پاس ایک ریٹائرڈ فوجی آیا جن کو دوران نوکری کسی کامل درویش کی صحبت نصیب ہو ئی تو وہ بھی تصوف کا طالب علم بن گیا مرشد کی صحبت میں رہا فیض بھی پایا پھر مرشد خاک نشین ہو گیا تو یہ بھی ریٹائرڈ ہو کر گھر آگیا اِس فوجی کا مرشد قدرت اور قدرتی چیزوں کو بہت پسند کر تا تھا اِس نے بھی آکر اپنی زمینوں پر قدرتی سبزیوں اورپھلوں کی کاشت کا ری شروع کر دی ایک دن مری آیا میرے اردگرد ہزاروں کا مجمع دیکھا تو بہت خوش ہوا پہلی ملاقات میں ہی بو لا دنیا کی کو ئی خواہش باقی نہیں صرف اللہ کے عشق کے لیے آیا ہو ں تو اِسی بات پر میرا اُس کا محبت بھر رشتہ قائم ہو گیا اُس نے جب بہت اصرار کیا کہ میرے گھر دعوت پر آئیں تو ایک دن میںاور ناصر کشمیری باڑیاں کی طرف گلباب جاتے ہو ئے اُس کے گائوں میں گئے تو اُس کے شیریں میٹھے پھلوں کے چھوٹے سے باغ کو دیکھنے کا موقع ملا اُس نے مختلف قسموں کے بہت سارے پھلوں کے درخت لگا رکھے تھے اِن درختوں کے درمیان سبزیوں کی کاشت کر رکھی تھی۔

اِس کے گائوں کے پاس ہی دنیا کی نادر نایاب مچھلی ٹرائوٹ کے فارم تھے جو انتہائی مہنگے داموں فروخت ہوتی تھی دنیا بھر میںاِس نایاب مچھلی کے دیوانے موجود ہیں اُس دن اُس نے ہماری دعوت ٹرائوٹ مچھلی کالی مرچ ادرک لیموں کے ساتھ کی تو میں بھی فین ہو گیا ایسی لذیذ مزے دار نایاب توانائی سے بھر پور مچھلی میں نے زندگی میں پہلی بار کھائی تھی مچھلی کے قدرتی ذائقے کے ساتھ غیر ضروری چھیڑ خانی نہیں کی گئی تھی قدرتی کوئلوں پر ہلکے نمک کالی مرچ میں روسٹ کی ہو ئی ٹرائوٹ مچھلی کہ جسم و جان باغ باغ ہو گئے گر ما گرم تازی چپاتیوں کے ساتھ ٹرائوٹ مچھلی پھر قدرتی باغ کے قدرتی سیب آلو بخارے ناشپاتی آڑو کہ جسم و روح پھلوں کے قدرتی ذائقے اور خوشبو سے مہکنے لگے ‘میں نے وہاں جب سب چیزوں کو بہت پسند کیا تو ناصر میری پسندیدگی شوق کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ میں نے مچھلی اور پھلوںکو خوب انجوائے کیا ہے اب ناصر نے اُس فوجی سے دوستی لگا لی تھی فوجی پہلے ہی مجھے پسند کر تا تھا دونوں کا جزبہ مشترک تھا اب میں جب فری ہو تا تو اگلے دن چھٹی ہو تی تو ناصر شرماتے جھجکتے نظریں زمین میں گاڑے مجھے ترغیب دلاتا فوجی سرکار آپ کو بہت یاد کر رہا ہے اُس نے خاص طور پر قدرتی رسیلے پھل آپ کے لیے روکے ہو ئے ہیں حکم کریں میں کسی دن لے کر آئوں میں رش سے لبا لب بھرا ہو ا اگر موقع ملتا تو گھر میں کوئی مہمان نہ ہو تا تو ناصر کو گرین سگنل دیتا میرا گرین سگنل ناصر کے لیے خوشیوں کا ہمالیہ ہو تا وہ تیاری شروع کر دیتا تیاری میں چھٹی کے دن صبح سویرے گلیات مری کی طرف جا کر باغ کے سب سے اچھے پھل اکٹھے کر نا اُن کو اچھی طرح دھو کو صاف کر نا فوجی بھی عشق میں پیش پیش ہو تا وہ قدرتی میٹھے لذیذپھلوں کے ساتھ ٹماٹر کدو آلو پیٹھا کدو وغیرہ بھی بھیج کر اپنی الفت کا بھر پور مظاہرہ کر تا۔

اگر اُس کا بس چلتا تو قریبی ٹرائوٹ مچھلی فارم سے مچھلی حاصل کر کے ناصر کو فون کر دیتا آج بھی ناصر اُسی کارروائی پر گیا ہو اتھا اب وہ تازہ قدرتی شیریں پھلوں اور ٹرائوٹ مچھلی کے ساتھ پہاڑی سڑک پر آہستہ آہستہ میری طرف آرہا تھا میں ناصر اور فوجی جذبہ عشق کی ریشمی تار سے بندے تھے اِس جذبے کی روح حق تعالی کی ذات تھی ۔ پھر جب وہ کامیاب دورے کے بعد سڑک سے میرے گھر والے راستے پر آتا میری نظر اُس پر پڑی تو ادب عشق پیار دیوانگی مستانگی سے دوہرا ہو ا جاتا زمین میں گڑھ جاتا پھر میرے قریب آکر میری ٹانگوں سے لپٹ جاتا تازہ رسیلے پھلوں کی ٹوکری کو میرے پاس رکھ دیتا تو میں قدرتی اجزا سے بھر پور پہاڑی چشمے کے پانی کی بڑی بوتل بھی ایک دفعہ میں نے کہا تو بضد کر دی کہ ناصر یہ پانی بہت اچھا ہے کھایا پیا منٹوں میں ہضم ہو جاتا ہے تو اُس نے شاید قسم ہی کھا لی تھی کہ روزانہ میلوں چل کر اُس چشمے تک جاتا۔

ٹھنڈا شیریں پانی بھر کر لا کر میرے پاس رکھ دیتا سائیڈ ٹیبل پر پھلوں کی ٹوکری رکھ کر سامنے والی کرسی پر میری ٹانگیں رکھ کر بیٹھ جاتا پھر میرے پائوں کو اچھی طرح صاف کر تا ناخن اتارتا دبا تا آج بھی اُس کا یہی موڈ تھا اُس نے میرے پائوں اپنی گود میں رکھے اور میری نظر پھلوں کی ٹوکری پر پڑی جس میں صحت مند شیرینی رس سے بھرے سیب ناشپاتی آلو بخارے آڑو دعوت طعام دے رہے تھے خاص بات لبنانی کالا سیب تھا جو فوجی نے دو درخت لگا رکھے تھے میراہاتھ اُس کی طرف بڑھ گیا اُس کی خاص بات رس سے لبا لب بھرا ہوا جیسے ہی انسان اُس کالے سیب پر دانت رکھتا ہے شیریں خوشبو دار رسیلا رس اچھلتا ہوا آبشار کی طرح آپ کے گلے کو تر کر دیتا ہے پھر آپ کے گلے میں شہد جیسے رس کی نہریں بہنے لگتی ہیں میں اپنی رگوں کو سیب کے رس سے سیراب کر نے لگا سیب کے بعد ناشپاتی کا روئی جیسا احساس حلق سے اترنے لگا پھر سفید آلو بخاراآلوچہ پہاڑی علاقوں میں ہی ہوتا ہے میرے حلق میں آلو بخاروں کے رس کی بارش ہو نے لگی آخر میں آڑو نے اپنی نرمی خوشبو چاشنی سے اپنے وجود کا شدت سے احساس دلایا ناصر میرے ناخن اتارنے سر میں مالش کر نے کے عمل سے فارغ ہو کر ٹرائوٹ مچھلی کو روسٹ کر نے کے لیے انگھیٹی میں کوئلے دھکا چکاتھا میرے پاس آکر نظریں جھکا کر کھڑا ہو گیا اور بولا ہم دونوں ہی ہیں یا کسی اور نے بھی آنا ہے تو میں نے شرارتی نظروں سے اُسے دیکھا اور بولا تمہاری سوتن نے آنا ہے۔

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل: help@noorekhuda.org
فون: 03004352956
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org
فیس بک آفیشل پیج: www.fb.com/noorekhuda.org