fbpx

خنزیروں کے وائرس سے ایک نئی وبا کا شدید خطرہ، سائنسدان

Pigs

Pigs

سائنسدانوں نے خنزیروں میں ایک نئی قسم کا وائرس دریافت کیا ہے۔ جی فور نامی یہ وائرس دنیا میں ایک نئی وبا کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پیر کے روز امریکی جریدے ‘پی این اے ایس‘ میں ایک نئی تحقیق شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق سوائن فلو کی ایک نئی قسم جی فور دنیا میں ایک نئی وبا کا باعث بن سکتی ہے۔ جینیاتی لحاظ سے یہ نیا وائرس سن دو ہزار نو میں منظر عام پر آنے والے ‘ایچ ون این ون‘ وائرس سے مشابہت رکھتا ہے۔ اُس وقت بھی یہ وائرس وبا کا باعث بنا تھا۔

بیماریوں پر قابو پانے اور ان کی روک تھام کے کام کرنے والے چینی ادارے کے محققین کا کہنا ہے، ”ابتدائی طور پر ایسے تمام شواہد موجود ہیں کہ یہ وائرس انسانوں کو منتقل ہو سکتا ہے۔‘‘ سائنسدانوں کے مطابق اس وائرس کا انتہائی قریب سے جائزہ لینا اور اس پر نگاہ رکھنا ضروری ہو گیا ہے کیوں کہ یہ نیا وائرس ‘وبائی وائرس‘ بن سکتا ہے۔

جاری ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے سن دو ہزار گیارہ سے سن دو ہزار اٹھارہ تک چین کے دس صوبوں میں واقع قصاب خانوں سے تیس ہزار سے زائد ایسے خنزیروں کی رطوبات حاصل کیں، جن میں انفلوئنزا وائرس تھا جبکہ وہاں کام کرنے والے ملازمین کے خون میں جی فور وائرس کی سطح زیادہ تھی۔

سائنسدانوں کے مطابق خنزیر انفلوئنزا وائرس کی نسل کے لئے انتہائی سازگار جانور ہے اور یہ وائرس خنزیروں کے جسم میں انتہائی اچھی طرح پرورش پاتا ہے۔ جن اداروں نے مل کر یہ تحقیق کی ہے، ان میں چائنا ایگری کلچرل یونیورسٹی، شانڈونگ ایگری کلچرل یونیورسٹی، چائینیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور یونیورسٹی آف نوٹینگھم شامل ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ جی فور وائرس انتہائی تیزی سے پھیلنے اور انسانی خلیات میں سرایت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ نیولوں پر کیے گئے تجربات سے یہ بات واضح ہوئی کہ دیگر وائرسوں کی نسبت اس کی علامات زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہیں۔

تجربات سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ انسانوں میں موسمی زکام وغیرہ کے خلاف موجود قوت مدافعت اس کے خلاف غیرموثر ثابت ہوتی ہے۔ قصاب خانوں میں کام کرنے والے ملازمین کے خون کے نمونوں سے پتا چلا ہے کہ تقریبا دس فیصد ملازمین اس سے متاثر ہو چکے ہیں اور ان کے جسموں میں اینٹی باڈیز موجود تھیں۔

سائنسدانوں کے مطابق اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ یہ وائرس خنزیروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے لیکن یہ ابھی تک کسی کو معلوم نہیں کہ یہ وائرس انسان سے انسان کو بھی منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سائنسدانوں کے بقول یہی بات پریشان کن بھی ہے کیوں کہ اس طرح اس کے پھیلاو کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خنزیر کے گوشت کا کاروبار کرنے والوں کو فوری طور پر زیرنگرانی رکھا جائے۔