fbpx

پی ایم ڈی اے اور خوامخواہ کی مخالفت

Journalism

Journalism

تحریر : روہیل اکبر

جب اخباارات کا دور عروج پر تھا تو اس وقت ڈیکلریشن اتنے عام ہو گئے کہ ایک وقت آیا اخبار نکالنے کیلیے نام ملنا مشکل ہوگیا سنگل نام تو درکنار ڈبل نام بھی لوگوں نے لے لیے ان میں سے اکثر اخبارات آج تک نکل نہ سکے تعلیم اور تجربے کے بغیراخبارات کے چیف ایڈیٹر بننے والوں نے بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے بلیک میلنگ والی بڑی بڑی خبریں لگا کر صحافت کے مقدس پیشہ کو بدنام کردیابڑے شہروں سے اخبارات نکالنے والوں نے اضلاع،تحصیل اور قصبہ جات میں اپنے نمائندے مقرر کرنے کے لیے فیس مقرر کردی جو لاکھوں روپے تک وصول کی جاتی ہے اور ان علاقائی نامہ نگاروں کو آج تک کسی اخبار کی طرف سے ایک روپیہ نہیں دیا گیا بلکہ ہر ماہ ان بیوروچیفس، ڈسٹرکٹ رپورٹرز اور نامہ نگاروں سے لاکھوں روپے سپلیمنٹ کی مد میں بٹور لیے جاتے ہیں اسلام آباد، لاہور، کراچی، ملتان، کوئٹہ، پشاور اور فیصل آباد کے چند ایک صحافیوں کے علاوہ پورے ملک میں صحافت کے نام پر بلیک میلنگ عام ہے علاقائی رپورٹر اپنا اور اپنے اور گھر والوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پیسے کہاں سے لاتے ہونگے یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اور ایک لمبی بحث ہے ہم واپس آتے ہیں اخبارات کے عام ہونے والے ڈیکلریشن کی طرف مشرف دور میں اس پر قانون سازی ہوئی 2002 میں پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس آیا جس میں نئے اخبارات کے این او سی کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا۔

ڈی جی پی آر کی پریس لاز برانچ سے اختیارات لیکر پریس رجسٹرار کو دیدیے گئے جسکی بدولت اخبارات کا جو ایک طوفان آیا ہوا تھا وہ کسی حد تک تھم گیاجسکے بعد اخبارات کے اشتہارات کی تقسیم کا مسئلہ درپیش ہوا تو اس میں بھی پسند اور ناپسند سر فہرست رہی وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تبدیلی آئی پی آئی ڈی نے اشتہارات کا طریقہ تبدیل کرکے ہر میڈیا ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنا شروع کردیا اس طرح ڈمی اخبارات سائڈ لائن ہونا شروع ہوگئے اور وہ اخبارات سامنے آئے جو ہر روز چھپتے ہیں اس طرح مارکیٹ میں بکنے والے اخبارات کو اشتہارات پہلے سے بڑھ کر ملنا شروع ہوگئے جسکی وجہ سے انکے ورکر بھی خوشحال ہو ئے پھر ایک وقت آیاحکومت نے اشتہارات کی رقم ورکروں کی تنخواہ سے مشروط کرنے کے لیے مشاورت شروع کی تو اخباری مالکان نے اشتہارات کی رقم کو جواز بنا کر اپنے اپنے ہم نوا قسم کے صحافیوں کو میدان میں اتارا جنہوں نے اپنے اپنے مالکان کے حق میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کردیے آخر کار حکومت نے ہتھیارر ڈال دیے اور پھر وہی ہوا جو پہلے ہوتے آیا رپورٹرز کی خبروں پر اخباری مالکان نے خوب مال بنایا۔

بعض اخباری مالکان نے سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے دوستی اور تعلقات کی بنا پر پالیسی بنا دی گئی کہ انکے خلاف کوئی خبر نہ لگے اور مخالفین کو رگڑا لگا کر رکھا جائے اخبارات بھی چونکہ بزنس کا ایک زریعہ ہیں مالکان اسی سے پیسہ کما کر اپنے اخراجات پورے کرنے کے بعد ورکروں کو بھی کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں اس وقت ملک میں لاکھوں نہیں توہزاروں اخبارات ہونگے جن میں سے گنتی کے چند ایک اخبارات اپنے ورکروں کو بہتر معاوضہ دے رہے ہیں جن سے انکا باعزت گذر بسر ہورہا ہے اور باقی کے لاکھوں صحافی حضرات اس وقت مشکل ترین حالات میں اپنی زندگی کا سانسوں سے رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں اب ایک بار پھر حکومت نے ورکر صحافیوں کی فلاح بہبود کے لیے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے مجوزہ قانون کا ڈرافت تیار کر لیا ہے جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جلد ہی نافذ کیا جائے گا لیکن میڈیا کے کچھ حلقے بالخصوص جانبدار میڈیا کے حلقوں میں اس بِل کی وجہ سے کھلبلی مچی ہوئی ہے کیونکہ اس بل کے آنے سے بعد مفاد پرست صحافیوں اور چینل مالکان کی دکانیں بند ہونے کا خدشہ ہے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پریس کونسل آرڈیننس اور موشن پکچرز آرڈیننس منسوخ ہو جائیں گے اور ملک میں کام کرنے والے اخبارات ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز اس نئی اتھارٹی یعنی پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت کام کریں گے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا مجوزہ آرڈیننس کے حوالے سے کہنا ہے کہ میڈیا کے نئے قانون سے صرف فائدہ میڈیا ورکرز کو ہے، جو تنخواہیں نہ ملنے پر اپنے اداروں کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکیں گے۔آج تک میڈیا ورکرز کا یہ سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے کوئی ایساقانون موجود ہی نہیں تھا کہ میڈیا کا ورکر تنخواہیں نہ ملنے پر کہیں آواز اٹھا سکیں اگر وہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں توپھر انہیں نوکری سے ہاتھ دھونے پڑتے، حالیہ برسوں میں ہم نے سینکڑوں میڈیا ورکرز کو دیکھا جو تنخواہیں نہ ملنے پر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں پی ایم ڈی اے کے مجوزہ قانون کے مطابق پاکستان میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور ویب ٹی وی چینلز کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی لائسنس اور این او سی حاصل کرنا اور انکی تجدید لازمی ہوگی۔

نئے مجوزہ قانون کے مطابق کوئی بھی مواد یا معلومات تحریری، آواز، ویڈیو یا گرافکس کے طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے دی جائے وہ ڈیجیٹل میڈیا کے زمرے میں ہی آئے گی پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے تحت لائسنس یافتہ یا رجسٹرڈ میڈیا پلیٹ فارمز پر اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کی صورت میں یعنی اینکرز یا میڈیا ہاؤس کی جانب سے جعلی خبریں شائع کرنے پر تین سال تک قید اور 2.5 کروڑ روپے سے 25 کروڑ تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں یہ سزا پانچ سال تک بڑھائی جا سکے گی قانون کے مسودے کے مطابق وفاقی حکومت پی ایم ڈی اے کو کسی بھی معاملے پر ہدایات جاری کر سکتی ہے جبکہ پی ایم ڈی اے حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کروانے کی پابند ہوگی.پی ایم ڈی اے کے تحت الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کا علیحدہ علیحدہ ڈائریکٹریٹ قائم کیا جائے گا جو کہ متعلقہ شعبوں کی مانیٹرنگ، لائسنس کے اجرا اور تجدید کو ریگولیٹ کرے گا جبکہ اتھارٹی کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ ضرورت کے مطابق ذیلی ونگز تشکیل دے سکے جبکہ نئے لائسنس شدہ ادارے ایک سال تک حکومتی اشتہاروں کے لیے اہل نہیں ہونگے ڈیجیٹل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا لائسنس یا رجسٹریشن کا حامل ادارہ پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور سیکیورٹی کی پابندی یقینی بنائے گا۔

لائسنس یافتہ میڈیا پلیٹ فارم وفاقی حکومت یا اتھارٹی کی ہدایت کے مطابق عوامی مفاد یا معلوماتی پراگرامز نشر کرے گا جس کا کم از کم دورانیہ روزمرہ کی نشریات کے دورانیے کے پانچ فیصد پر مشتمل ہوگا کسی بھی پروگرام کے دوران اینکرز یا میزبان نظریہ پاکستان، ملکی سلامتی، خودمختاری یا سکیورٹی سے متعلق کسی بھی پراپیگنڈے یا عمل کی تشہیر نہیں کرے گا جبکہ ایسی خبر کی صورت میں خبر کا سورس بھی بتانا پڑے گا مسودے کے مطابق کوئی ایسا مواد نشر کرنے یا آن لائن کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو ریاست کے سربراہ، آرمڈ فورسز یا عدلیہ کی بدنامی کا باعث بنے، جبکہ اس وقت پاکستان میں اس حوالے سے کام کرنے والا پیمرا کسی بھی پروپگنڈہ اور جعلی خبروں کو روکنے میں ناکام ہو چکا ہے آرڈیننس کے تحت میڈیا کمپلینٹ کونسل بھی تشکیل بھی دی جائے گی جو کہ پراگرامز، خبروں اور میڈیا پر جاری تجزیوں کے حوالے سے شکایات کا فیصلہ کرے گا تاہم نئے آرڈیننس کے ذریعے کمپلینٹ کونسل کو بااختیار بناتے ہوئے سول کورٹس کے اختیارات دیے جائیں گے جس کے تحت کونسل کو کسی کی حاضری کے لیے سمن جاری کرنے یا معلومات طلب کرنے کا اختیار ہوگا یہ کمپلینٹ کونسل 20 روز کے اندر کسی بھی شکایات کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔

آرڈیننس کے تحت ایسے کسی مواد کو نشر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو عوام میں نفرت پھیلانے یا سیکیورٹی کی صورتحال خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہو جسے کہ اب تک ہوتا آ رہا ہے کہ میڈیا دہشتگردی اور فرقہ ورانہ واقعات تک ہی غیر جانبدار رپورٹنگ کرتا آیا ہے پاکستان میڈیا ڈویلمپنٹ اتھارٹی کے تحت میڈیا ٹریبونل کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا دس رکنی ٹریبونل کا چیئرمین ہائی کورٹ کے سابق جج کو تعینات کیا جائے گا۔ میڈیا کمپلینٹ کونسل کے فیصلہ کے خلاف اپیلیں سننے کے علاوہ ٹریبونل میڈیا ورکرز کے ویجز پر عملدرآمد کرے گا جبکہ میڈیا ہاوسز کے میڈیا ورکرز کے ساتھ پیشہ ورانہ امور کی نگرانی بھی کرے گا اس قانون سے مسلہ صرف چینل مالکان اور بڑے بڑے جانبدار صحافیوں اور انکے آقاؤں کو ہے جن کی افواہ ساز فیکٹری سے انکی سیاست چل رہی ہے اور بدلے میں بڑے بڑے مفادات حاصل کیے جاتے ہیں جبکہ زیادہ وفاداروں کو وزیر،مشیر،سفیر سمیت بڑے بڑے عہدوں سے بھی نوازا گیایہی وجہ ہے کہ کوئی غیر جانبدار صحافی اس بل کے خلاف نہیں میڈیا ورکز نے بھی اس بِل کو خوش آئند قرار دیا ہے جس سے انہیں اپنی تنخواہوں کے لیے اواز اٹھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا ہوگاامید ہے مخالفت کرنے والے صحافی بھی بہت جلد اپنے فیصلہ پر نظر ثانی ضرور کرینگے۔

Rohail Akbar

Rohail Akbar

تحریر : روہیل اکبر