پیپلزپارٹی سول نافرمانی میں مولانا کی حمایت نہیں کرے گی، بلاول بھٹو

Bilawal Bhutto

Bilawal Bhutto

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کامیاب رہا، سلیکٹڈ وزیراعظم کے ہٹنے کے امکانات بڑھے ہیں، کم نہیں ہوئے۔

اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بلاول نے کہا کہ ’یقین سے کہتا ہوں کہ وزیر اعظم نہیں رہے گا، اگلے سال تک وزیراعظم کو جانا ہوگا‘۔

بلاول کا یہ بھی کہنا تھا کہا مولانا فضل الرحمن ق لیگ سے رابطے میں ہیں، انہوں نے پلان بی اور سی سے متعلق ہمیں نہیں بتایا، تفصیلات جانے بغیر ان کی حمایت پر بات نہیں کرسکتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے ارکان نے بریفنگ دی، کور کمیٹی نے رہبر کمیٹی کی آزادی مارچ کی کوآرڈینیشن کو سراہا، ہم مولانا کے ساتھ اپنے وعدوں پر پورا اترے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سول نافرمانی میں مولانا کی حمایت نہیں کرے گی، جے یو آئی ف کے پلان بی پر رہبر کمیٹی کو تفصیل سے نہیں بتایا گیا، جے یو آئی ف نے چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی سے ملاقاتوں سے متعلق بھی نہیں بتایا۔

انہوں نے کہا کہ تفصیل بتانے تک پلان بی اور سی پر حمایت کے بارے میں کوئی بات نہیں کر سکتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آصف زرداری ضمانت کے لیے درخواست نہیں دے رہے، چھ مہینے سے آصف زرداری کو اپنے ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی، ایک سابق صدر جس کا ٹرائل بھی شروع نہیں ہوا ان کی قید میں ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف زرداری کہتے ہیں میں ضمانت کے لیے بھی درخواست نہیں دوں گا، انہیں 6 ماہ بعد اسپتال منتقل کیا گیا، ہمارا اس انتظامیہ پر کوئی اعتماد نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم احتساب چاہتے ہیں، انصاف چاہتے ہیں، ہم کوئی فیور نہیں چاہتے انصاف چاہتے ہیں، پیپلزپارٹی یوم تاسیس پر اپنا آئندہ کا لائحہ عمل رکھے گی، پیپلزپارٹی ملک کے تمام مسائل کا حل جمہوریت میں سمجھتی ہے۔