پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک، اردو ادب اور اکادمی ادبیات پاکستان

Prof. Dr. Yusuf

Prof. Dr. Yusuf

تحریر : لقمان اسد

قدرت کے خزانے یقیناً لامحدود ہیں ان خزانوں میں کسی چیز یا شے کی کوئی کمی ہر گز نہیں ہے۔ان خزانوں کی کوئی گنتی نہیں ۔نہ انھیں کسی طرح شمار کیا جا سکتا ہے ۔قدرت کے عطا کردہ ان خزانوں میں سب سے بڑھ کر قیمتی اور نایاب خزانہ علم کا خزانہ ہے۔ علم تلاش کرنے والوں کا حاصل ہے اور کیا عظیم ہیں وہ متلاشی جو اس عظیم خزانے کو پا لیتے ہیں۔عشق و آرزو کا سلسلہ بھی کیا ارفع ہے مگر سب سے جدا تو حوصلہ ہے ۔بلاشبہ یہ خزانہ تو محض ان کا مقدر ٹھہرتا ہے جو اس کی طلب میں جنون کی حدوں کو چھوتے ہیں اور عشق کی سرحدوں کو پار کرتے ہیں یہ بھی سچ ہے کہ علم کسی مخصوص طبقے یا خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ یہ تو ان لوگوں کا نصیب ہے جو اس کیلئے سفر کرتے ہیں تنگدستی اور جلا وطنی میں اپنے شب و روز کاٹتے ہیں، جن کی عمریں اس کے حصول میں بیت جاتی ہیں۔

شاید ۔۔۔۔۔ ادراک کے اسی نقطے کا در امریطس پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک پر وا ہوا تو وہ علم کے سمندر سے گہر ڈھونڈنے کا حوصلہ کہیں سے در لائے۔ آرزو، جستجو اور امتحان انسان کو کامیابی کی راہ دکھلاتے ، سرفراز اور سرخرو کرتے ہیں۔طلب کرنے والوں کا دامن قدرت کبھی خالی نہیں چھوڑتی، مالا مال کر دیتی ہے تاریخ و تحقیق اور اردوزبان و ادب کا فروغ ڈاکٹریوسف خشک کی علمی و ادبی جدوجہد کا عملی میدان ہے ۔اردو ادب کے حوالے سے وطن عزیز کی بات کی جائے تو بہت سی نابغہ ئِ روزگار اور ممتاز علمی شخصیات نے اپنی صلاحیتوں کا نہ صرف لوہا منوایا بلکہ اپنے عملی کردار سے کارہائے نمایاں انجام دے کر دنیا ئے علم و ادب میں پاکستان کا نام سر بلند کیا ۔ان مایہ ناز قدآور علمی شخصیات کی فہرست میں ایک نام اکادمی ادبیات پاکستان کے موجودہ صدر نشین (چئیر مین)پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کا بھی ہے۔ڈاکٹر یوسف خشک 1968 کو صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو کی تحصیل سیہون شریف میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم آبائی علاقے میں حاصل کی۔ انٹرمیڈیٹ ماڈل کالج حیدرآباد سے کیا۔

اردو میں ماسٹر کی ڈگری 1989سندھ یونیورسٹی جامشورو سے حاصل کی جبکہ اردو میںہی ڈاکٹریٹ کی ڈگری 2002 میں شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور سے حاصل کی۔ اسی طرح شعبہ اردو میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اسکالر ہونے کا منفرد اعزازبھی انھیں حاصل ہے ۔ڈاکٹر یوسف خشک نے2007 میں جرمنی کی یونیورسٹی ہائیڈل برگ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ اردو ادب کے مختلف موضوعات پر ان کے پچاس سے زائد ریسرچ پیپرز مختلف جنرلز میں پبلش ہو چکے ہیں ۔ وہ اردو ادب میںمختلف علمی ،فکری،تحقیقی اور ادبی موضوعات پرمبنی سات بہترین اورنمایاں کتب کا اضافہ کر چکے ہیں۔ڈاکٹر یوسف خشک نے1992 میں بطور اردو لیکچرار شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پو ر سے اپنے کیرئیرکا آغاز کیا۔ 2003میں وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر پروموٹ ہوئے 2009۔ میں پروفیسر پروموٹ ہو گئے۔ 2018میں انھیں پرووائس چانسلر شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور مقرر کیا گیا۔ اس عہدہ پر تعیناتی سے قبل وہ ڈین فیکلٹی آرٹس اینڈ لینگوئجز کے عہد ہ پر فائز رہے۔

اس عہدہ پر خدمات انجام دیتے ہوئے انھوں نے جس لگن ، دلجمعی اور محنت سے کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس دورانیے میں انہوں نے نہ صرف اردو ادب پرمتعدد بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد کرایا بلکہ سندھی، اردو، انگریزی،چینی اور دیگر زبانوں کے فروغ کیلئے بھی بہت عمدہ اور مثالی کام کیا۔H-E-Cنے انھیں2002 اور 2010 میں بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے بھی نوازا۔سال 2020 کے آغاز سے حکومت نے انھیںاکادمی ادبیات پاکستان کا صدر نشین (چئیرمین) مقرر کیا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت کے اس فیصلے کو پاکستان کے تمام ادبی حلقوں کی تائید و حمایت حاصل ہے ۔ملک بھر کے علمی و ادبی حلقوں نے اس حکومتی فیصلے کو سراہا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان وطن عزیز کا وہ واحد وفاقی ادارہ ہے جو مالی طور پر کمزور اور نادار ادباء اور شعراء کی مالی معاونت کرتا ہے۔

یقینی طور پر ایسے ادارے کی سربراہی کا فیصلہ میرٹ پر کرنے اور ایک مدبر سکارلر او رمعروف محقق شخصیت کی اس اہم عہدہ پر تعیناتی سے پاکستان کے ادب پر دور رس اثرات مرتب ہونگے۔ امید کی جانی چاہیے ڈاکٹر یوسف خشک ادیبوں اور شاعروں کے مسائل حل کرنے اورعلم و ادب کے فروغ کیلئے حکومت وقت کو اپنے ادارہ کیلئے پہلے سے زیادہ اور مناسب فنڈز کا حصہ لینے کیلئے قائل کریں گے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں کتاب کی اشاعت ایک ادیب شاعر اورلکھاری کیلئے گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

جبکہ ڈاکٹر یوسف خشک کی خدمت میں یہ عرض کرتا چلوں کہ وہ اکادمی ادبیات کے ریجنل ہیڈ کوارٹرز کے ریجنل ڈائریکٹرزکو خصوصی طور پر یہ ہدایات دیں کہ دور دراز کے قصبوں ، مضافاتی علاقوں اور چھوٹے چھوٹے پسماندہ شہروں میں بھی خوبصورت افسانہ لکھنے والے، عمدہ شعر کہنے والے اور ہر زبان میں خوبصورت نثر اور ادب تخلیق کرنے والے ادیب، لکھاری اور شاعر موجود ہیں ان کی حوصلہ افزائی کیلئے بھی تقریبات کا انعقاد کیا جانا لازم ہے تاکہ چھوٹے چھوٹے قصبوں ، دیہاتوں اور پسماندہ شہروں میں رہنا والا تخلیق کار بھی قومی دھارے میں شامل ہو سکے اس سے جہاں ملک میں نیا اور نوجوان ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آئے گا وہاں ایسے اقدامات سے علم و ادب سے بے نظیر محبت کا سامان بھی پیدا ہو گااور یقیناً یہ عمل پاکستان میں مختلف زبانوں اور ادب کے فروغ کیلئے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔جب پسماندہ علاقوں میں رہنے والے تخلیق کاروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تورفتہ رفتہ ان کا ٹیلنٹ بے قدری کی نظر ہو کر تباہ ہو جاتا ہے جو کہ نہایت ہی افسوس ناک پہلو ہے۔

luqman Asad

luqman Asad

تحریر : لقمان اسد