پنجاب ٹیچر یونین جہلم نے ری ایلوکیشن پالیسی مسترد کر دی

Jhelum

Jhelum

جہلم (ڈاکٹر تصور مرزا پوران) پنجاب ٹیچر یونین جہلم نے ری ایلوکیشن پالیسی مسترد کر دی۔ماضی کے فرسودہ نظام تعلیم کی یہ ایک تعلیم کش اور استاد دشمن پالیسی ہے جس سے تعلیم و تدریس کے عمل میں کئی مسائل اور مشکلات نے جنم لیا۔چوہدری راشد محمود صدر پنجاب ٹیچر یونین جہلم نے 1 ٹیچر 40 طلباء کے فارمولے کے تحت اساتذہ کی ری ایلوکشن کو تعلیم دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایک اندازے کے مطابق صوبہ پنجاب کے 21 ہزار اساتذہ متاثر ہوں گے۔انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ طلباء کی تعداد کی بجائے سکولوں میں پڑھائے جانے والے مضامین کو پیش نظر رکھا جائے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت پنجاب یقینی طور پر کوالٹی آف ایجو کیشن اور بہتر نتائج کے حق میں مخلص ہے تو پھر پرائمری ‘ ایلیمینٹری اور سکنڈری کلاسز کے تمام مضامین کو مد نظر رکھنا از بس ضروری ہو گا۔

انھںوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو چائیے تھا کہ نئے پاکستان میں پرانی اور فرسودہ قسم کی ری ایلوکشن پالیسی کا خاتمہ کرتی۔جس طرح رشوت”سفارش”کرپشن اور سیاسی مداخلت سے آلودہ تبادلوں کے نظام کو ختم کیا گیا ہے۔انھںوں نے یہ بھی کہا کہ اساتذہ کی ری ایلوکشن مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے کئی پچیدہ مشکلات اور مسائل جنم لیں گے۔حکومت وقت اس پر عمل درآمد کرنے سے پہلے اساتذہ تنظیموں کو اعتماد میں لے انھوں یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ای ٹرانسفر سسٹم کی طرح ای ریٹائرمنٹ اور ای پنشن سسٹم بھی لاگو کیا جائے کیونکہ پوری دنیا کے تمام سرکاری دفتر میں کمپیوٹر سسٹم متعارف ہو چکا ہے اور ہر شعبہ جات میں کمپیوٹرائزیشن کا دور دورہ ہے۔اساتذہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد 2 سے 3 سال تک دفاتر کے چکر کاٹنا پڑتے ہیں۔دفتری مافیا پینشن کے جائز حقوق اور واجبات کے حصول میں رکاوٹ بن کر اساتذہ کو رشوت کے لے مجبور کرتا ہے۔چوہدری راشدمحمود نے بر ملا کہا کہ Eـ Transfer System کے تحت اساتذہ کے حالیہ فول پروف تبادلہ جات کو تمام اساتذہ تنظیموں اور تعلیمی حلقوں میں سراہا گیا ہے جو حکومت پنجاب کا ایک احسن اقدام ہے بالخصوص وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس کا اس میں کلیدی کردار ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب شعبہ تعلیم میں جو مثبت’تعلیم دوست اور استاد دوست اقدام اٹھائے گی اس کی تایید کی جائیے گی اور تعلیم کش پالیسیوں کی بھر پور مخالفت کی جائیے گی۔ *