fbpx

قرنطینہ

 Quarantine

Quarantine

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

وہ ایک دم سے بوڑھا ہو گیا تھا چند ماہ پہلے جب میرے پاس آتا تھا ہمیشہ کی طرح طاقت اور زندگی کے رنگوں سے بھر پور تھا میرے کالج دور کا دوست ایتھلیٹ کبڈی دوڑوں کا پھر تیلا کھلاڑی جو طاقت جوانی کو ہی سب کچھ سمجھتا تھا ہم لوگ مذاق میں اُس کوانوکی پہلوا ن کہا کر تے تھے کہ تم جاپان کے انوکی پہلوان کی طرح پھر تیلے چاک و چوبند اُس کے انگ انگ سے جوانی لہروں کی طرح نشر ہو تی تھی وہ اپنی خوراک اور لائف سٹائل کا بہت خیال رکھتا تھا اُس نے زندگی میں برائلر مرغی نہیں کھائی تھی ڈالڈے گھی کو تو کبھی سونگھا بھی نہیں تھا ساری زندگی ٹھنڈے پانی سے نہایا خالص گھی خالص گندم ہر چیز خالص اپنی صحت کا خیال رکھتا تھا سردیوں میں دیسی گھی اور مغزیات ڈال کر پنجیری بنا کر دودھ میں گھی ڈال کر کھاتا تھا سردی کی راتوں میں دیسی گھی کی جلیبیاں بنوا کر دودھ میں ڈال کر پی جاتا تھا خالص دودھ مکھن گھی کے لیے بھینس پال رکھی تھی دیسی انڈوں اور دیسی مرغی کے گوشت کے لیے دیسی مرغیاں پال رکھی تھی اُس کے لیے زندگی کی سب سے اہم قیمتی شے صحت تھی اپنی صحت کو قائم رکھنے کے لیے خوب ورزش کر تا تھا گائوں میں زندگی گزارنا پسند کر تا تھا شہر کی زندگی اور شہر کی غذائوں سے دور بھاگتا تھا گھر کا خالص کھانا پسند کر تا تھا ہوٹلوں کا کھانا سونگھتا بھی نہیں تھا۔

صحت کے ساتھ اُس میں ایک اور بھی بات تھی کیونکہ قابل رشک صحت تھی زندگی اور طاقت سے بھر پور تھا پچاس سال کی عمر تک ایک ڈسپرین بھی نہیں لی تھی کبھی بیمار ہی نہیں ہوا تھا کبھی انجیکشن بھی نہیں لگواتا تھا جسمانی صحت کے ساتھ وہ زندگی کو جوشیلے انداز میں جیتا تھا جوش ولولہ اُس کے مزاج کا حصہ تھا لڑائی مار کٹائی اور غصے میں بہت تیز تھا قابل رشک صحت کی وجہ سے اُس کے چہرے پر لالی رقص کر تی تھی ہم سب دوست اُس کی صحت کی تعریفیں کر تے تو وہ اوربھی خوش ہو تا وہ جس سے مصافحہ کر تا تو زور سے ہاتھ دبا کر اپنی طاقت کا اظہار کرتا اگر کسی دوست سے ملتا تو زورسے گلے لگا کر اپنی طاقت کا اظہار کر تا کسی دور میں جب ایتھلیٹ تھا تو جوڈو کراٹے بھی سیکھے تھے کیونکہ جوشیلہ تھا غصے سے بھرا ہوا تھا بیوی بچے سے بھی نرمی سے بات نہیں بلکہ غصے سے بات کرتا ۔شادی کے شروع دنوں میں بیوی کو خوب مارتا تھا پھر اُس بیچاری نے خود کو اِس کے رنگ میں رنگ لیا جو یہ کہتا وہ فوری مان جاتی دوبیٹے دوبیٹیاں تھیں وہ بھی باپ کے غصے سے بہت ڈرتے تھے اِس کو ساری دنیا میں اپنے بڑے بیٹے سے بہت پیار تھا جس کو یہ انٹرنیشنل کھلاڑی بنانا چاہتا تھا اِس نے زندگی اپنے ہی انداز سے گزاری تھی یہ زندگی کے نازک حساس ترین مسائل کو بھی عقل و دانش فہم و فراست سے نہیں بلکہ طاقت جوش سے حل کرنا جانتا تھا شکست کمزوری یا پیچھے ہٹنا اِس کے مزاج میں نہیں تھا بلکہ طاقت زور سے مسائل کر نا اِس کا مشغلہ تھا۔

کبھی کبھار لاہور آتا تو مجھ سے ملنے آجاتا جب بھی آتا میں اِس کی جوانی قابل رشک صحت کی باتیں کرتا تو وہ بہت خوش ہو تا جوش غروراحساس تفاخر اِس کے چہرے پر ہر وقت نظر آتا تھا آج جب مُجھ سے ملنے آیا تو نہ چہرے پر لالہ نہ جوش نہ ہی چال میں اکڑ بلکہ سر جھکائے دھیمے انداز میں آکر میرے سامنے بیٹھ گیا اور بولا یار انوکی ہار گیا میں پہلے والا نہیں رہا میں ساری زندگی طاقت جوانی کے نشے میں سوار ہر چیز کو ٹھوکروں میں اڑا دیتا تھا آخر کا میں بھی شکست کھا گیا جب انوکی نے اپنی شکست اور تبدیلی کا ذکر کیا تو میں ایک دم الرٹ ہو گیا کیونکہ جس انوکی کو میں جانتا تھا وہ ہار ماننے والا نہیں تھاپیچھے ہٹنا شکست ماننا یہ تو اُس کی جبلت میں ہی نہیں تھا اور نہ ہی ایسے کمزور شکست خوردہ الفاظ کبھی میں نے اِس کے منہ سے نہ سنے تھے اُس کی یہ تبدیلی میرے لیے نہایت حیراں کن تھی میں نے چائے بسکٹ وغیرہ منگوائے تاکہ اُس سے کھل کر بات ہو سکے اب چائے پینے کے ساتھ ساتھ اُس نے بولنا شروع کیا ۔یار تم جانتے ہو کمزوری پیچھے ہٹنا ہار ماننا میری فطرت میں نہیں تھا لیکن یار اب میں ہار گیا ہوں بد ل گیا ہوں زندگی کے مسئلے کا حل جوش لڑائی جھگڑا نہیں ہو تا بلکہ حالات کو دیکھ کر پیچھے ہٹ جانا بھی عقل مندی ہے جو میں ساری زندگی کبھی بیمار نہیں ہو ا میرے چاچے کو کرونا ہوا جس کو میں والد کے وفات پانے کے بعد اپنا باپ سمجھتا تھا۔

جب کرونا کا شکار ہو اتو اپنے کمرے تک محدود ہو گیا سب نے اُس سے ملنا چھو ڑ دیا مجھے پتا چلا تو میں اُن سے ملنے چلا گیا گھر والوں رشتہ داروں نے بہت سمجھایا کہ یہ وبائی مرض ہے ایک سے دوسرے کو لگ جاتا ہے تم چچا کے قریب نہ جائو تم بھی بیمار ہو جائو گے لیکن میں ازل کا ضدی سرکش کہ یہ سب باتیں ہیں کرونا کوئی بیماری نہیں ہے سب باتیں ہیں یہ یہودی سازش ہے چین کی سازش ہے ایسی کوئی بیماری نہیں ہے زبردستی چچا کے کمرے میں داخل ہو گیا پھر لگا تار تین دن ان کے کمرے میں جاتا رہا ان کو دباتا رہا ان کی خدمت کر تا رہا پھر اچانک مجھے زندگی میں پہلی بار بخار ہوا پیٹ خراب اور کمزوری نے میرے اوپر حملہ کر دیا کھانسی یہاں تک کہ پانچ دن میں سانس اکھڑنا شروع ہو گئی کمزوری اتنی زیادہ کہ دو قدم چلنا مشکل میں نے شروع میں تو انکار کیا لیکن جب کرونا نے میرے طاقت ور جسم کو جکڑ لیا اور طاقت میرے جسم سے نچوڑ لی گئی تو میں مانا کہ یہ واقعی کو ئی بیماری ہے۔

اب مجھے اپنے بیٹے کو انٹرنیشنل کھلاڑی بنانا تھا وہ بیمار نہ ہو میںایک کمرے میںقید ہو گیا اور گھر میں اعلان کر دیا کہ کوئی میرے پاس نہیں آئے گا گھر والے صبح شام کھانا میرے دروازے پر رکھ جاتے میں اٹھا کر کھا لیتا میں پندرہ دن قرنطینہ میں قید رہا یہ قرنطینہ مجھے بدل گیا میں ساری زندگی نماز نہیں ٹکریں ہی مارتا رہا زندگی میں پہلی بار دل سے نماز پڑھی میری بیگم اور بیٹیاں جس طرح دن رات میرے لیے دعائیں مانگتیں انہوں نے مجھے بد ل کر رکھ دیا میری بیٹیاں جن کو میں زیادہ اہمیت نہیں دیتاتھا انہوں نے جس طرح میری تیمارداری کی میرے دل میںان کے لیے محبت شفقت کے چشمے پھوٹ پڑے ایک کمرے میں پندرہ دن کی قید نے میرے باطن میں غرور طاقت انا کے سارے سانپ کچل ڈالے غصہ نفرت تکبر غرور ختم ہو گیا پندرہ دن کی تنہائی نے مجھے میری اوقات یاد دلا دی زندی کی حقیقت کیا ہے رشتے کیا ہیں بیگم بچے بیٹیاں کیا ہیں انسان کی اوقات کیا ہے کس طرح طاقت ختم ہو جاتی ہے مجھے پہلی بار احساس ہوا میرے اندر نرمی آگئی پیار محبت اخوت میں بدل گیا اب میں مسائل کو طاقت سے نہیں پیار نرمی سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں پھرانوکی چلا گیا اور میںسوچنے لگا کہ کرہ ارضی پر پھیلی بیماری کرونا اور قرنطینہ نے کس طرح انسانوں کے طرز معاشرت کو بد ل کر انسانوں کو ان کی اوقات یاد دلا دی ہے قرنطینہ میں گزارے ہوئے لمحات کس طرح انسان کو پانے بارے میں سوچھنے اور اپنی ذات کی ٹرمنگ کا موقع دیتے ہیں اور انسان بدل جاتا ہے۔

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل: help@noorekhuda.org
فون: 03004352956
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org
فیس بک آفیشل پیج: www.fb.com/noorekhuda.org