سچ یہاں ناپید ہے ذراد ھیرے بولیئے

Inflation

Inflation

تحریر : محمد طیب

ملک پاکستان کی غیور عوام جو ہے غربت، افلاس، بھوک، قتل و غارت، ناانصافی ناجانے اس طرح کے کتنے روگ ہیں جو پاکستانی کو فقر وفاقے کی دل دل میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ہیں عمران خان دوسری جانب ہے عدلیہ کی دکان۔ لیکن سودا خریدنے والے تذبذب کا شکار ہیں۔ وجہ ڈھونڈنے نکلا تو ایک کہانی سامنے آئی ۔وہ کہانی تھی ایک بستی کی جسے لوگ شہر ناپرسان کے نام سے پکارتے تھے ۔ وہاں ایک سادہ لوح شخص اپنے شاگرد کے ساتھ آنکلا ۔شاگرد تھوڑاہوشیار تھا ۔ وہاں کی خاصیت یہ تھی کہاس شہر میں سونے اور پیتل کا ریٹ برابر تھا۔

آلو اور ٹماٹر کا ریٹ برابر تھا ۔ ایک جگہ سرائے میں قیام کیا ۔ تو شاگرد نے استاد سے کہا کہ یہاں سے نکل چلیں ۔ استاد نے کہا کہ یار ایک رات کی تو بات ہے کچھ نہیں ہوتا سو جائو ۔ صبح ہوئی تو پتہ چلا کہ کہ ایک گھر میں چوری ہو گئی ہے۔ چور بھاگنے لگے تو دیوار گر گئی اور ایک چور کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔بادشاہ کو پتہ چلا اس نے گھر والے کو پکڑ لیا ۔تم نے دیوار کیوں کچی بنائی ۔چور کی چوری کرتے ہوئے ٹانگ ٹوٹ گئی ہے ۔بادشاہ نے گھر کے مالک کو پھانسی کی سزا سنا دی ۔

گھر والے نے کہا یہ قصور میرا نہیں دیوار بنانے والے کا ہے ۔ اس نے اسے چھوڑ کر دیوار بنانے والے کو پکڑ لیا ۔ مستری نے کہا جناب یہ میرا قصور نہیں ہے یہ مزدور کا قصور ہے ۔ جس نے مال صحیح نہیں بنایا ۔ اسے چھوڑ کر مزدور کو پکڑ لیا گیااور اسے پھانسی کا پروانا جاری کر دیا ۔ مزدور نے کہا یہ قصور میرا نہیں پانی ڈالنے والے کا ہے ۔ جس نے مال میں پانی زیادہ ڈالا تھا ۔ مزدور کو چھوڑ کر پانی ڈالنے والے کو پکڑ لیا تم نے پانی کیوں زیادہ ڈالا ۔ دیوار کچی بنی اور چور کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔ اس نے کہا یہ قصور میرا نہیں یہ قصور ایک لڑکی کا ہے۔جب میں پانی ڈال رہا تھا تو وہ سامنے آگئی ۔ جس کی طرف دھیان کی وجہ سے پانی زیادہ ہوگیا اور دیوار کمزور بنی اور ابھی یہ واقعہ پیش آگیا ۔اس کو چھوڑ کر اس لڑکی کو پکڑلیا گیا ۔ اس سے پوچھا تم سامنے کیوں آئی ۔ تمہاری وجہ سے پانی زیادہ ہوا تمہیں پھانسی کا فرمان سنایا جاتا ہے ۔ لڑکی سے کوئی بات نہ بنی تو اسے پھانسی دینے کے لئے تخت دار پر لایا گیا ۔ تو ایک نئی کہانی رونما ہوئی ۔اس کا گلہ چھوٹا تھا اور پھندا بہت بڑا تھا ۔

جلاد نے بادشاہ سے کہا کہ پھندہ بڑا اور گلہ چھوٹا ہے اب کیا کریں ۔ تو بادشاہ نے کہا کہ ایسے بندے کو تلاش کرو جس کی گردن میں یہ فٹ آجائے ۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس بندے کے پاس آنکلے ۔جو سرائے میں تھا اور ہوا وہی کہ جس کا ڈرتھا ۔ وہ پھندااستاد کے گلے پر پورا آگیا اور اسے تخت دار پر لے جایا جا رہا تھا کہ استاد نے شاگرد سے کہا کہ کچھ کرو ورنہ ہم تو چلے۔ شاگرد نے کہا آپ مجھ پر چھوڑ دو ۔ جب تختہ دار پر لایا گیا تو استاد کو پیچھے کر شاگرد آگے ہو گیا اور کہنے لگا ۔مجھے پھانسی لگائو استاد نے کہا مجھے پھانسی لگائو ۔ جھگڑا بڑہا ۔ تو بادشاہ نے پوچھا تم لڑتے کیوں ہو ۔ شاگرد کہنے لگا کہ یہ پھندا جنتی پھندا ہے ۔ جو اس سولی چڑھے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا ۔ جس پر ایک کہرام مچ گیا اور بالآخر بادشاہ نے کہا کہ اس کا حقدار میں ہوں ۔ اس کہانی کے کرداروں کو دیکھ مجھے آج کا نیا پاکستان یاد آرہا ہے کہ جہاں عجب رسم چلی ہے کہ کوئی نہ خوش ہو کہ جئیے ۔ کہیں تو باپ اپنی بیٹیوں کو اس وجہ سے قتل کر رہا ہے کہ بے روزگاری ہے کھلائوں کہاں سے ۔ کہیں باپ اپنی بیٹی کی عزت کی بھیک مانگتا دردر کی ٹھوکریں کھاتا انصاف کا متلاشی ہے ۔

کہیں چودہ معصوم لوگوں کو انصاف دلوانے کے لئے سڑکوں پر آنے والے جیل کی سلاخوں سے بستر مرگ پر ہتھکڑیوں میں پہنچائے جا رہے ہیں ۔ کہیں غربت اور افلاس کے ہاتھوں لوگ خود کشی کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔دوسری جانب تبدیلی کے نام لیوا کہیں اپنی راتوں کو رنگین بنانے کے لیئے مختلف اداروں سے بچیوں کو زبردستی اٹھاتے نظر آتے ہیں ۔ تو کہیں عاشقی کے نام پر لوگوں نے بازار گرم کر رکھے ہیں ۔ کہیں چوروں اور قاتلوں کو کلین چٹ دے کر پچاس روپے کے عوض ملک سے باہر روانہ کر دیا جاتا ہے اور وہ انہی اداروں کی تضحیک کرتے انگوٹھے دکھاتے اور تمسخر اڑاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ عدلیہ کہیں ذمہ داروں کو چھوڑ کر ڈرائیور اور گیٹ کیپر کو فارغ اور سزا سنا دیتی ہے ۔

کہیں وردی میں ملبوس کالی بھیڑیں حوا کی بیٹی کی عزت کو تارتار کرتے نظر آتے ہیں اور انصاف دینے والے ادارے آنکھوں پہ سیاہ پٹی باندھے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔ڈرگز مافیاکے کارندے قرآن اٹھا اٹھا کر اس پاک ایوان کی عزت کوطمانچہ مارتے ہیں کہ کر لو جو کرنا ہے ۔ دوسری جانب ایوان کی مسندصدارت پر براجمان یہ کہہ کر خاموش کرواتے ہیں کہ یہ عدالت کا کام ہے ۔ یہاں اس کو ڈسکس ہی نہ کیا جائے ۔یاد رہے کہ یہ وہ ایوان ہے جہاں اکیس کروڑ عوام کی تقدیر لکھی جاتی ہے ۔ الغرض جس گوشے، جس جانب، جس نگر میں نظر ڈالیں ہمیں وہی نگر، وہی بستی، وہی شہر، شہر ناپرسان لگتا ہے ۔ جہاں ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر کرپشن ،لوٹ مار،بدعنوانی کی اعلیٰ مثال ہے ۔ فرسودہ اور بدبو دار نظام ہر سمت اپنی جڑٰیں گاڑھے ایک تماش بین کی طرح کھڑا ہے۔ نام نہادتبدیلی کے دعویدار آج اسی کرپٹ مافیہ کے پردہ دار بنے نظر آرہے ہیں ۔یوں لگتا ہے جیسے ایک طوائف کو اپنی مجبوریاں کوٹھے کی زینت بنا چکی ہوں۔

جھوٹ زرا سستا ہے تھوڑا اور دیجئے
سچ یہاں ناپید ہے زرادھیرے بولیئے

Muhammad Tayab

Muhammad Tayab

تحریر : محمد طیب
،جامعہ اردو،شعبہ ابلاغِ عامہ
ای میل:tayabmustafavi@gmail.com موبائل نمبر03334392394
N.I.C: 42201-6276108-7