علاقائی تنازعات میں ترکی کی مداخلت باعث تشویش ہے: یورپی پارلیمنٹ

Recep Tayyip Erdogan

Recep Tayyip Erdogan

یورپ (اصل میڈیا ڈیسک) یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ ایردوآن حکومت ترکی کی قومی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے،جمہوریت کا بوریا بستر گول کررہی ہے اور آزاد عدلیہ کو تباہ کررہی ہے۔ اس کے اس طرح کے اقدامات سے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

یورپی یونین کے انتظامی ادارے یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ ’’اختیارات کو صدارتی منصب میں مرتکز کیا جارہا ہے ،تقریر کی آزادی پر قدغنیں لگائی جارہی ہیں،جیلوں اور مرکزی بنک کی صورت حال ابتر ہورہی ہے۔اس کے باوجود ترک حکومت تیزی سے اس طرح کی تبدیلیوں کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔‘‘

کمیشن نے ترکی کے بارے میں منگل کے روز اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’ یو رپی یونین کو قانون کی حکمرانی ، بنیادی حقوق اور عدلیہ میں ہونے والی مسلسل منفی تبدیلیوں پر گہری تشویش لاحق ہے اور ترکی نے اس کی تشویش کو دور نہیں کیا ہے۔‘‘

اس نے مزید کہا ہے کہ ’’ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے مذاکرات مسلسل تعطل کا شکار ہیں۔‘‘

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو میں شامل ترکی 2005ء سے یورپی یونین کی رکنیت کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔ تب اس نے دور رس نتائج کی حامل سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کی تھیں جن کے نتیجے میں وہ منڈی کی معیشت اور کاروباری شراکت داری کے شعبوں میں ایک اہم ملک کے طور پر ابھرا تھا۔

لیکن ترکی کے قبرص پر ملکیت کے دعوے اور 2016ء میں ناکام فوجی بغاوت کے ردِّعمل میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد طرفین میں یورپی یونین میں شمولیت کے لیے مذاکرات کا سلسلہ قریب قریب ختم ہوچکا ہے۔

کمیشن نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ ترکی میں 2016ء میں ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد سے رجعت قہقری کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘

ترکی کی جانب سے فوری طور پر یورپی کمیشن کی اس نئی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔تاہم ماضی میں ترک حکومت یورپی یونین کی تنقید کو غیر منصفانہ اور غیر متناسب قرار دے کر مسترد کرچکی ہے۔

یورپی کمیشن ماضی میں بھی ترکی کو اپنی سالانہ رپورٹوں میں تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔بالخصوص وہ ترک حکومت کی مالیاتی پالیسی ، سرکاری نظم ونسق اور بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کو ناکامی قراردیتا ہے۔

یورپی یونین ترکی میں سب سے زیادہ سرمایہ لگانے والی تنظیم ہے۔وہ ترکی میں قریباً 40 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کو سراہتی ہے کیونکہ دوسری صورت میں یہ شامی مہاجرین ترکی سے یورپی ممالک کا رُخ کرسکتے ہیں

دوسری جانب یورپی یونین نے ترکی پر مشرقی بحرمتوسط میں توانائی کے تنازع پر اقتصادی پابندیاں نافذ کرنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔یورپی یونین کے لیڈروں نے گذشتہ ہفتے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ اگر ترکی یونان اور قبرص کے دعویٰ کیے گئے پانیوں میں تیل اور گیس کی دریافت کا کام جاری رکھتا ہے تو اس کے خلاف پابندیوں کے نفاذ پر غور کیا جاسکتا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’یک طرفہ نئے اقدامات یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل اور گیس کی تلاش جاری رکھی تو اس کے خلاف تمام حربے آزمائے جائیں گے۔‘‘