کیا ادلب میں ترکی ۔ روس اختلافات’ ایس 400′ نظام کو متاثر کریں گے؟

S400 system

S400 system

انقرہ (اصل میڈیا ڈیسک) ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوگلو نے کل ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے علاقے ادلب میں انقرہ اور ماسکو کے درمیان پائے جانے والے اختلافات سے دونوں ملکوں‌کے درمیان طے پائی دفاعی ڈیل’ایس 400′ کے لیے نقصان دہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایس 400′ دفاعی ڈیل دونوں‌ملکوں‌ کے درمیان ایک اہم معاہدہ ہے اور شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے اس میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔

خیال رہے کہ ترکی نے گذشتہ برس روس سے اس کا مشہور فضائی دفاعی سسٹم’ایس 400’ خرید کیا۔ امریکا نے اس ڈیل کی بھرپور مخالفت کی حتیٰ کہ ترکی کے ساتھ ‘ایف 17′ طیاروں کی ایک ڈیل منسوخ کی اور ترکی پرپابندیاں‌بھی عاید کیں مگر اس کے باوجود ترکی روس سے اس دفاعی نظام کی خریداری سے باز نہیں آیا۔

ترک وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ شام میں جاری لڑائی کے معاملے پر روس اور ترکی کے درمیان اختلافات موجود ہیں مگر وہ توقع رکھتے ہیں کہ روس کے ساتھ یہ اختلافات دونوں ملکوں‌ کےدرمیان دفاعی ڈیل’ایس 400’ پر منفی اثرات نہیں ڈالیں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام میں جاری کشیدگی میں ترکی اور روس ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ دونوں میں شدید اختلاف رائے ہے مگر دونوں ملکوں‌میں ‘ایس 400’ دفاعی ڈایل کو متاثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ترکی نے یہ ڈیل امریکا کی سخت مخالفت کے باوجود ماسکو کے ساتھ کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ‘ٹاس’ کے مطابق میونخ میں منعقدہ سلامتی کانفرنس میں‌ شرکت کے بعد روسی وزیر خارجہ نے اپنے ترک ہم منصب سیرگئی لافروف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں‌نے کہا کہ شام میں دونوں‌ملکوں میں اختلاف رائے کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی اصولوں اور پالیسیوں پر کوئی اختلاف نہیں۔ شام میں درپیش مسائل کو ہمارے باہمی تعاون کے لیے ضرور رساں نہیں ہونا چاہیے۔

چاووش اوگلو کا کہنا تھا کہ کل سوموار کے روز ترک اور روسی حکام شام کے علاقے ادلب میں جاری کشیدگی پر بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ادلب کی صورت حال کو کسی انسانی المیے تک پہنچنے سے قبل اس پر کنٹرول کیا جائے۔

خیال رہے کہ شام کے علاقے ادلب میں ترک فوج کی مداخلت کے بعد ایک طرف شام اور روس کھڑے ہیں اور دوسری طرف ترک صدر رجب طیب ایردوآن شامی اپوزیشن گروپوں‌می مدد کر رہے ہیں۔ ادلب کے محاذ نے روس اور ترکی کو ایک دوسرے کے مقابل میں لا کھڑا کیا ہے۔