سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیکڑیوں پر ڈرون حملے

Saudi Arabia - Oil Factories Drone Attack

Saudi Arabia – Oil Factories Drone Attack

ریاض (اصل میڈیا ڈیسک) سعودی عرب کی دو آئل فیکڑیوں پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ جدید ہتھیاروں سے لیس سعودی عرب ایسے چھوٹے حملے روکنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے سعودی عرب کے خلاف ہونے والے حملوں کی شدت اور تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی آئل کمپنی کی دو فیکٹریوں پر ڈرون سے کیے گئے حملوں کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ حملے کا نشانہ بننے والی سعودی آئل کمپنی آرامکو کی فیکٹریاں بقیق اور خریض ملکی مشرقی صوبے میں واقع ہیں۔ خام تیل کی پیداوار کے حوالے سے بقیق سعودی عرب کی سب سے بڑی فیکڑی ہے۔

دوسری جانب یمن میں سعودی عسکری اتحاد کے خلاف لڑنے والے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے ان ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس حملے کے لیے دس ڈرون استعمال کیے گئے تھے اور ریاض حکومت کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں عسکری اتحاد کے حملوں کے بعد سے ایران نواز یمنی حوثی باغی سعودی عرب کے تیل کے ذخائر پر حملے کرتے رہے ہیں۔

ریاض حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان حملوں سے آرامکو کی فیکٹریوں کو کس حد تک نقصان پہنچا۔ سن 2006 میں القاعدہ نے بقیق میں حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جسے سعودی سکیورٹی حکام نے ناکام بنا دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس حملے بعد خلیج فارس میں مزید کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق یمنی جنگ کے آغاز سے ہی حوثی باغی ڈرونز کا استعمال کرتے آئے ہیں۔ شروع شروع میں یہ ڈرون عام نوعیت کے تھے، جو عام مارکیٹیوں سے بھی مل سکتے ہیں لیکن اب ایرانی طرز کے ‘جدید ڈرونز‘ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ، مغرب اور خلیجی عرب ممالک کے مطابق ایران حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے لیکن تہران حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔

‘کنفلیکٹ آرمیمنٹ ریسرچ‘ نامی ادارے کے مطابق حوثی باغیوں نے ڈرونز کا ہی استعمال کرتے ہوئے سعودی پیٹریاٹ میزائل بیٹریز کے ریڈار سسٹم کو ناکام بناتے ہوئے سعودی عرب پر بیلیسٹک میزائل داغا تھا۔ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق انہیں حال ہی میں یمن میں حوثی باغیوں کے قبضے سے نیو UAV-X نامی ڈرون ملا تھا اور اس کی رینج تقریبا پندرہ سو کلومیٹر تک ہے۔ ایسے ڈرون طیاروں سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ متحدہ عرب امارات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔