fbpx

سعودی عرب کا خطے کو تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مطالبے کا اعادہ

King Salman bin Abdulaziz

King Salman bin Abdulaziz

سعودی عرب (اصل میڈیا ڈیسک) کل منگل کو سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کے علاقے کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک بنانے سے متعلق اپنے اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے۔

منگل کو سعودی عرب کی وزارتی کونسل (کابینہ) کا ورچوئل اجلاس خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت منعقد ہوا۔

اجلاس کے آغاز میں وزراء کونسل کو حالیہ ایام میں عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے الریاض کی طرف سے ہونے والے مذاکرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کی رپورٹ کے مطابق کونسل نے اقوام متحدہ ،مختلف بین الاقوامی تنظیموں اور جی ٹوئنٹی کے ذریعے بین الاقوامی فورمز میں مملکت کے موثر کردار پر بات کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سعودی عرب خطے اور پوری دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے ، ترقی ، امن اور خوش حالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہےگا۔

اس سلسلے میں وزرا کونسل کو G20 کے رکن ممالک کے پارلیمنٹ کے اسپیکروں کے ساتویں سربراہ اجلاس کے نتائج کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ یہ اجلاس اطالوی دارالحکومت روم میں منعقد ہوا۔

سعودی عرب کےقائم مقام وزیر اطلاعات ڈاکٹر عصام بن سعد بن سعید نے وضاحت کی کہ اجلاس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں سیشن کے کام کے فریم ورک کے اندر ہونے والی میٹنگوں میں مملکت کی شرکت کے نتائج اور اس کے عزم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جنرل اسمبلی کے ساتھ مشترکہ تعاون ، انسانی ہمدردی اور ترقیاتی کوششوں کی حمایت ، عالمی تیل منڈیوں کے استحکام اور قیمتوں میں توازن کو فروغ دینے کے ساتھ موثر اقدامات کے ذریعے ماحولیات تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے مملکت کی طرف سے گرین سعودی عرب اور گرین مڈل ایسٹ پروجیکٹ متعارف کرائے گئے ہیں۔

سعودی عرب کی کابینہ کے اجلاس میں ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے کے موقف کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں خطے کی صورت حال ، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یمن میں حوثی ملیشیا کی طرف سے کیے جانے والے حملوں اور سعودی عرب کی طرف سے یمنی عوام کے دفاع کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی بات کی گئی۔