fbpx

شاہ سلمان کا شاہ عبداللہ سے فون پرمکمل اظہار یکجہتی، سعودی عرب کی حمایت کی یقین دہانی

King Salman bin Abdul Aziz

King Salman bin Abdul Aziz

سعودی عرب (اصل میڈیا ڈیسک) خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے فون پر بات چیت میں مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے اور انھیں سعودی عرب کی جانب سے بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اردن کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے شاہ عبداللہ کے تمام اقدامات اور فیصلوں کی حمایت کرتا ہے۔

انھوں نے شاہ عبداللہ دوم کے زیر قیادت اردن میں سلامتی ، استحکام اور خوش حالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی اردنی شاہ اور ان کے ولی عہد شہزادہ الحسین بن عبداللہ دوم سے آج فون پر گفتگو کی ہے اور ان کے ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

شاہ عبداللہ نے جواب میں شاہ سلمان اور ولی عہد کی حمایت پر ان کا مخلصانہ انداز میں شکریہ ادا کیا اور ہر قسم کے حالات میں اردن کا ساتھ دینے پر سعودی عرب کے مؤقف کی تعریف کی۔

اردن کے ولی عہد شہزادہ حسین نے بھی سعودی قیادت کی جانب سے ہاشمی مملکت کی حمایت پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں اردن کے نائب وزیراعظم ایمن الصفدی نے ایک نیوزکانفرنس میں بتایا تھا کہ ملک کو عدم استحکام سے دوچارکرنے کے لیے ایک ’’مذموم سازش‘‘ تیار کی گئی تھی۔اس کے ایک مرکزی کردار سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ بن حسین تھے اور ان کے غیرملکی پارٹیوں سے روابط استوار تھے۔

اردن میں سکیورٹی حکام نے گذشتہ روز سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ کو شاہ عبداللہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں ان کے محل میں نظربند کردیا تھا اور شاہی دیوان کے سابق سربراہ اور سابق وزیرخزانہ باسم عوض اللہ سمیت بیس افراد کو گرفتارکرلیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد ملکی استحکام وسلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے،اس لیے انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف اب تحقیقات کی جائے گی۔

اردن میں سابق ولی عہد کی نظربندی اور حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں بعض شخصیات کی گرفتاریوں کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد سعودی عرب کے شاہی دیوان نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا تھا۔اس میں سعودی عرب کی جانب سے شاہ عبداللہ دوم اوران کے ولی عہد شہزادہ الحسین بن عبداللہ دوم کے ملک میں سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام فیصلوں اور اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔