fbpx

شہید وفا قسط نمبر۱

Playing Violin

Playing Violin

تحریر : مسکان احزم
وہ آواز کی سمت مسلسل چل رہی تھی۔آواز قریب تر ہو رہی تھی۔کوئی تو تھا وہاں پر جو وائلن کی اتنی خوبصورت دھن کو ہوا کے سپرد کر رہا تھا۔دھیرے دھیرے اس کے قدم آگے کی جانب بڑھ رہے تھے۔بالآخر وہ وہاں پہنچ ہی چکی تھی۔وہاں کا منظر کسی خواب سے الگ نہ تھا۔پہاڑوں کے درمیان گھری وہ جگہ جنت کا ٹکڑا لگ رہی تھی۔ایک طرف بہتا دریا جیسے وائلن کی دھن میں مگن منزل کی جانب گامزن ہو۔دوسری طرف آٹھ سے نو سال کی بچیاں سفید رنگ کی پوشاکیں پہنیے محوِ رقصاں تھیں اردگرد سے بے خبر۔وہ کبھی ایک پاوْں اوپر اٹھاتیں تو کبھی دوسرا۔کبھی ایک دوسرے کے قریب آکر دائرے کوتنگ کرتیں تو کبھی گھول گھول گھوم کر ایک دوسرے سے دور چلی جاتیں۔کتنا خوبصورت منظر تھا۔وہ تو اپنی بصیرت پر یقین ہی نہیں کر پا رہی تھی۔

کچھ ہی فاصلے پر کوئی وائلن بجارہا تھا۔وہ اس اجنبی کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی کیونکہ اس کی پشت اس کی جانب تھی۔وہ اجنبی کمال کا وائلن بجا رہا تھا۔جیسے وہ اس دھن سے فضا میں کوئی سحر بکھیر رہا ہو۔وہ تو اس سحر میں جکڑتی جارہی تھی کہ سامنے پہاڑ کے پیچھے سے اسے کالی گھٹا اٹھتی نظر آئی۔

سماں بدلنے لگا۔۔۔

اندھیرا چارسو بڑھنے لگا۔۔۔

اداسی کے بادل چھانے لگے۔۔۔

وائلن کی دھن ماتم میں بدلنے لگی۔۔۔

بچیاں جو پہلے رقص سے لطف اٹھارہی تھیں۔اب چہرے پر پریشانی کے آثار لیے ایک دوسرے کا چہرہ تکنے لگیں۔جیسے وہ جانتی ہوں کہ اگلے ہی پل کچھ ہونے والا ہے۔کچھ بہت ہی برا۔اور ۔اور۔پھر انہوں نے بلند آواز میں رونا شروع کردیا۔

اففف خدایا۔۔۔یہ کیا ہورہا ہے؟؟ وہ خود بھی پریشان ہوگئی۔دریا کا پانی خون کے مشابہ نظر آنے لگا۔سفید لباس میں ملبوس وہ اجنبی ابھی بھی وائلن بجانے میں مصروف تھا۔جیسے اسے کوئی فرق نہ پڑا ہو۔ہاں مگر فرق پڑا تھا تو صرف اس کی دھن کو جو اب اداس ہوتی جارہی تھی۔

وہ بچیوں کو چپ ہونے کو کہہ رہی تھی۔وہ چلا رہی تھی ۔مگر اسے وہاں سن کون رہا تھا۔اس شور میں اس کی آواز دب گئی تھی۔کیا انہونی ہونے جارہی ہے اس سے پہلے کہ وہ اس بات کا اندازہ لگاتی کہ گھٹا اجنبی کے بالکل سر پر پہنچ گئی۔اور اگلے ہی لمحے وہاں سرخی مائل اندھیرا چھا گیا۔تاحدِ نگاہ کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا ماسوائے آسمان تک پھیلے اندھیرے کے۔وائلن کی آواز آنا بند ہوچکی تھی۔دورسے بہت دور سے چھوٹی بچیوں کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ان آوازوں کے سوا وہاں اور کچھ بھی نہ تھا۔

او خدایا۔۔۔۔

یہ کیا ہورہا تھا؟

پل بھر میں وہ جنت کا ٹکڑا کربلا میں کیسے بدل گیا؟

آسمان پر جھومتے سفید بادل کالی گھٹا میں کب بدلے؟

اپنی موج میں بہتا دریا خون کی ندی کب بنا؟

ایک لمحہ ہی تو لگا تھا اس قیامت کے آنے میں ۔۔۔۔ہاں صرف ایک ہی لمحہ۔۔۔۔وہ اب خوف وہراس سے بے سمت بھاگنے لگی تھی۔اس نے کدھر جانا تھا وہ یہ بات خود بھی نہیں جانتی تھی۔اچانک کسی پتھرسے ٹھوکر لگنے سے وہ گہری کھائی میں چلاتی ہوئی گرنے لگی۔

بچاوْ۔۔۔

بچاوْ۔۔۔

وادی میں اس کی آواز گونجنے لگی۔وہ اب بھی چلا رہی تھی تبھی اس کی ماں نے اسے کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔اس نے نیند سے آنکھیں کھول دیں۔وہ پسینے سے شرابور سہمی ہوئی اپنی ماں کی بانہوں میں چھپ گئی۔

“میرا خیال ہے بیٹا کہ تم نے پھر وہی سپنہ دیکھا ہے۔”اس کی ماں نے اس کی کمر سہلاتے ہوئے کہا۔اور وہ بس روئے جا رہی تھی۔

یہ خواب اسے ہمیشہ پریشان کردیتا تھا۔وہ آج تک یہ بات سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ یہ خواب اتنے برسوں سے کیوں دیکھ رہی تھی؟آخر اس خواب کا مقصد کیا تھا؟یہ خواب کس انہونی کی طرف اشارہ کرتا تھا؟وہ اجنبی کون تھا؟وہ اتنی خوبصورت جگہ کہاں تھی؟ایسے بہت سے سوال اسے تنگ کرتے تھے۔مگر کون جانے ان کے جوابات۔

Dream

Dream

اس کی ماں نے اس کا سر اپنی گود میں لے لیا۔اور اس کے بال سہلانے لگی۔ناجانے کب وہ نیند کی آغوش میں دوبارہ چلی گئی۔اس کی ماں نے وال کلاک پر نظر ڈالی تو کلاک نے ایک بجنے کی خبر دی۔اس نے اس پر کمبل اوڑھایا اور آہستگی سے دروازہ بند کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی۔نیند اس کی ماں سے روٹھ چکی تھی اب۔وہ بھی اپنی بیٹی کی وجہ سے پریشان رہنے لگی تھی کیونکہ اس کی بیٹی اب گم سم سی رہنے لگی تھی۔

{۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔}

صبح اس کی آنکھ قریب قریب ساڑھے گیارہ بجے کے قریب کھلی۔آج سنڈے تھا اس لیے اسے یونیورسٹی سے آف تھا۔اور وہ اسی وجہ سے آج لیٹ اٹھی تھی۔نائٹ ڈریس میں ملبوس وہ موبائل کو جس پر اس کی فرینڈز کے کچھ میسجز تھے چیک کرتے ہوئے بیڈ سے اٹھی ۔سستی سے چلتے ہوئے اس نے کھڑکیوں پر پہرہ لگائے بڑے بڑے ریشمی پردوں کو سرکایا تو سورج کی کرنیں چھن سے آتی اس کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔کھڑکی کے اس پار بیشک ایک سنہری صبح اس کی منتظر تھی۔وہ کچھ دیروہاں کھڑی کے پار جھانکتی رہی۔شائد وہ چہرے پر سورج کی کرنوں کی شدت محسوس کرنے کی کوشش کررہی تھی۔سورج کی کرنیں اس کے سفیدسرخی مائل چہرے کو گدگدانے لگیں۔اسی لیے وہ مسکرا دی تھی۔سلیپرز کو پہنتے ہوئے وہ واش روم کی جانب شاور لینے چلی گئی ۔کچھ دیر شاور لینے کے بعد وہ جینز کے ساتھ ڈھیلی سی شرٹ پہنے باہر نکلی۔وہ بالوں کو جلدی جلدی جوڑے کی شکل میں قید کرنے لگی۔

اففف۔۔۔وہ اتنے خوبصورت بالوں پر کتنا ظلم کرتی تھی کہ انہیں آزاد نہیں رکھتی تھی۔ڈھیلا سا جوڑا کئے جس میں سے آدھے بال آزادی حاصل کر کے خوشی سے ادھر ادھر جھومنے لگے تھے،وہ سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے کیچن میں چلی گئی۔وہاں اس نے اپنے لیے ٹوسٹ بنایا اور ایک چائے کا کپ۔وہاں اس نے بے دردی سے ٹوسٹ کھایا اور چائے کا بھاپ اڑاتا مگ ہاتھ میں لیے باہر لان میں آگئی۔اس کی ماں اس وقت سورہی تھی ۔

واقعی وہ ایک سہانی صبح تھی۔لندن میں راج سے اترتی کرنیں ہر چیز کو اپنے سحر میں جکڑ رہی تھیں۔اور فطرت تو ویسے ہی اسے بہت زیادہ اٹریکٹ کرتی تھی۔اس نے وقفے وقفے سے چائے کے گھونٹ بھرے اور موسم سرما کی راج کماری دھوپ سے لطف اٹھانے لگی۔پھر کچھ یاد آنے پر وہ واپس کمرے میں چلی گئی اور وہاں سے اپنا بیگ لیکر باہر چلی گئی۔شائد وہ کہیں باہر جارہی تھی۔

{۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔}

وہ ہسٹری کی اسٹوڈنٹ تھی۔اس لیے اسے ہسٹاریکل جگہیں زیادہ اٹریکٹ کرتی تھیں۔اسی لیے وہ آج پھر سٹون ہینگ آئی تھی۔وہ اکثر یہاں آیا کرتی تھی۔کیونکہ یہ اس کی پسندیدہ ترین جگہوں میں سے ایک تھی۔وہ یہاں بار بار کیوں آتی تھی اس کی وجہ بھی اسے معلوم نہیں تھی۔۶۲ ٹن یہ بڑے بڑے اور بھاری پتھر یہاں کیوں پڑے ہیں اس کے بارے میں وہ بہت سی کہانیاں بچپن سے سنتی آئی ہے۔

سٹون ہینگ۔۔۔۔دنیا کے ساتھ عجوبوں میں سے چوتھا عجوبہ۔گولائی میں کھڑے ان پتھروں کو خدا کی طرح پوجا جاتا تھا۔مگر کیوں؟

لیکن جو بھی تھا وہ جگہ بہت خوبصورت تھی۔وہ پتھر اپنے اندر عجب کشش رکھتے تھے۔وہ اکثر یہاں تنہائی کے کچھ لمحے گزارنے یہاں آتی تھی۔اگرچہ یہاں بہت سے وزٹرز آتے تھے مگر وہ اجنبی تھے گویا ایک دوسرے سے بے خبر۔

وہ خاص طور پر تب یہاں آتی تھی جب گزری رات اس کی تاریخ میں ایک دفعہ پھر اسی خواب کو دہراتی تھی۔

اس کا خواب بھی ان پتھروں کی طرح ایک معمہ ہی تھا۔

الجھا ہوا۔۔۔

مبہم سا۔۔۔

حیران کردینے والا۔۔۔

اور بعض دفعہ پریشان کردینے والا۔۔۔

وہ دو متوازی پڑے ہوئے پتھروں میں سے ایک پر بیٹھی تھی کہ تبھی اسے ایک مردانہ آواز سنائی دی۔

“ہیلو۔۔۔ “اس نے حیران ہوکر گردن اوپر اٹھائی تو وہاں ایک نیلی آنکھوں والا لڑکا کھڑا تھا ۔آنکھوں میں لندن میں اترتی سنہری کرنوں کی سی چمک لیے۔جس نے وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیو جینز پہن رکھی تھی اور سر پر ریڈ کیپ۔

“ہیلو۔۔۔۔”وہ دھیرے سے مسکرائی تھی۔

“کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ “لڑکے نے اس کے پہلو میں خالی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“آہاں۔۔۔شیور۔”اس نے مسکراتے ہوئے اس بیٹھنے کے لیے جگہ دی۔

“میرا نام آسٹن ہے۔میں آپ کو یہاں اکثر آتے ہوئے دیکھتا ہوں۔”آسٹن نے اپنی کیپ اتارتے ہوئے کہا۔

“اچھا۔۔مگر میں نے آپ کو کبھی بھی یہاں نہیں دیکھا۔”اس کی دلچسپی کا مرکز ابھی بھی وہی پتھر تھے۔

“ہاہاہاہاہا۔۔۔”آسٹن کا کانوں میں رس گھولتا قہقہہ فضا کی نذر ہوا۔

اب کی بار اسے حیرانی ہوئی تھی کہ وہ ایسے کیوں ہنس رہا تھا۔

“ارے تم تو ان بے جان پتھروں میں ہی اتنی کھوئی ہوتی ہو کہ اردگرد کے چلتے پھرتے لوگ کہاں نظر آئیں گے۔”آسٹن بھی انہیں پتھروں کو نگاہوں کے حصار میں لیے ہوا تھا۔

مگر یہ بات اس سبز آنکھوں والی لڑکی کو ناگوار گزری تھی۔وہ اس کے چہرے پر ناگواریت کے آثار دیکھ چکا تھا۔

آئی ایم سوری۔آئی تھنک آپ کو میری بات ناگوار گزری ہے۔”اب وہ پھر تم سے آپ پر آگیا تھا۔

“نہیں ۔۔۔ایسی بات نہیں ۔بس مجھے لوگوں سے زیادہ فرینک ہونا پسند نہیں۔”آسٹن کی شرمندگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس نے اپنے لہجے کی تلخی کو بہت حد تک کم رکھا تھا۔

کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔

اب اس کی توجہ کا مرکز سامنے کھڑا اسکیچ آرٹسٹ بن چکا تھا جو بڑی مہارت سیسٹون ہینگ کو اپنے قرطاس پر اتا ررہا تھا۔

“ویسے آپ کا نام کیا ہے؟”سکوت کا توڑا گیا

مگر وہ اب اس کی جانب متوجہ نہیں تھی۔اس کی نظریں اور دھیان ابھی بھی اس آرٹسٹ کے تیز چلتے ہوئے ہاتھوں پر تھا۔

“ہیلو۔۔۔۔”آسٹن نے اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔

“اح۔۔۔جی۔آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟”وہ اب اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی،

“مِادام میں نے پوچھا ہے کہ آپ کا نام کیا ہے؟”وہ اب چلا چلا کر پوچھ رہا تھا۔اور اس کی ہنسی خود بخود ہی چھوٹ پڑی۔

ہاہاہاہاہا۔۔۔

ماریہ

ماریہ جارج نام ہے میرا۔

وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت آواز کی بھی مالک تھی۔

ہممم ۔۔۔۔نائس نیم۔”نام کو سراہا گیا تھا۔

شکریہ۔”وہ اب دوبارہ آرٹسٹ کی جانب متوجہ ہوچکی تھی ۔شائد وہ مزید آسٹن سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔یہ بات آسٹن بھی محسوس کرچکا تھا۔اس لیے وہ اس کے چہرے پر الوداعی نظر ڈالے بغیر کچھ کہے وہاں سے چلا گیا۔مگر وہ بے خبر رہی۔اسے ارد گرد کی کوئی خبر نہیں تھی ۔خبر تھی تو بس اس بات کی وہ آرٹسٹ کس انداز میں کام کر رہا تھا۔

وہ بھی مگن تھا ان پتھروں میں اور ماریہ بھی۔

اور بڑے بڑے پتھر بھی مگن تھے اپنی ہی طرح گم سم سی اس لڑکی میں۔

وقت نے بھی دونوں پر کیا کیا نقش چھوڑے تھے۔

کبھی نہ مٹنے والے۔

بڑے واضح۔

ّ {۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔}

اب تو خواہش ہے یہ

درد ایسا ملے

سانس لینے کی حسرت میں

مر جائیں ہم۔۔۔۔

اب تو خواہش ہے یہ

ایسی آندھی چلے

جس میں پتوں کی مانند

بکھر جائیں ہم

ایسی ٹھوکر لے کہ

جی نہ سکیں

ایسے الجھیں یہ سینے میں

سانسیں کہ پھر۔۔۔

ہم دوا پینا چاہیں

تو پی نہ سکیں۔۔۔

کوئی ہمدم،نہ راہی

نہ راحت ملے

ایک پل کا سہارا

نہ چاہت ملے

اب تو خواہش ہے یہ

دشت ہی دشت ہو

ننگے پاوْں چلیں

ہم سر بزم۔۔

شمع کی مانند جلیں

جس کو چاہیں۔۔۔

اسے پھر نہ پائیں کبھی

چھوڑ جائیں یوں چپ چاپ

دنیا کو ہم۔۔۔۔

دل یہ چاہے تو

پھر نہ آئیں کبھی۔۔۔۔

اب تو خواہش ہے یہ

کہ سزا وہ ملے

کوئی صحرا

قلعہ

یا بیابان ہو

جس میں سالوں تلک

قید ہی قید ہو۔۔۔۔

اپنے خالق و مالک سے

میں نے جو کی بے وفائی

وہاں یہ وہ ناپید ہو

ابنِ آدم کی چاہ کے کڑے جرم میں

اپنی ہی ذات کے کھوکھلے بھرم میں

اب تو خواہش ہے یہ

کہ سزا وہ ملے

روئے جاوْں تو

چپ نہ کرائے کوئی

دور جنگل میں

یا پھر۔۔۔

کسی دشت میں

ہاتھ پکڑے میرا

چھوڑ آئے کوئی۔۔

حالات کی تلخی کو وہ یونہی اپنی ڈائری کے اوراق پر اتا را کرتی تھی۔یہ الفاظ ہی تو تھے جنہیں کاغذوں پر اتا ر کر وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا کرتی تھی۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس پر کبھی اتنی بڑی قیامت ٹوٹے گی۔ساتوں آسمان اس پر یوں گریں گے۔یہ زندگی بھی بڑی عجیب چیز ہے کبھی کبھی تو ایسے امتحان لیتی ہے کہ اس امتحان گاہ میں بیٹھا انسان اپنی سب سے قیمتی چیز کھو بیٹھتا ہے۔مگر اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ یونہی چلتی رہتی ہے ۔۔مسلسل۔۔کبھی دبے پاوْں تو کبھی پلک جھپکنے میں ہی کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔اور انسان کو بھی چلنا پڑتا ہے اس کے ساتھ ۔بے شک زبردستی ہی سہی۔

 Life

Life

آنکھ سے ٹپکے آنسووْں کو پونچھ کر اس نے اپنی ڈائری کو بند کیا۔بالکل اسی طرح جس طرح موت نے اس کے پیارے کی زندگی کی کتاب کو بند کیا تھا۔

وہ خالی ہاتھ تھی۔اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا سوائے بچھڑنے والے کی یادوں کے۔

ہماری زندگی میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ان کے صفحات اپنی زندگی کی کتاب سے اکھاڑنا بھی چاہے تو اکھاڑ نہیں سکتا۔ان کی یادیں کسی پکی سیاہی سے لکھی تحریر کی طرح ہوتی ہیں۔انسان لاکھ کوششوں کے باوجود انہیں مٹا نہیں سکتا۔یہ یادیں کسی زہریلے سانپ کی طرح ہر وقت اسے ڈستی رہتی ہیں۔ہرپل اسے اذیت سے دوچار کرتی رہتی ہیں۔یہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔نہ جلوت میں اور نہ خلوت میں۔

زندگی کی برف یادوں کے پانی میں گھلتی رہتی ہے۔انسان ان کا وجود ختم کرتے کرتے اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے۔

آخر زندگی کی یہ کتاب بند ہوجاتی ہے اور اس میں تحریر یادیں بھی اپنا دم توڑ جاتی ہیں۔

وہ لوگ تو بے وفا ہوتے ہیں لیکن ان کی یادیں بے وفائی نہیں کرتیں۔جب تک سانس رہتی ہے تب تک پاس رہتی ہیں۔۔۔۔۔مرنے کے بعد انسان مٹی میں دفن ہوجاتا ہے اور یہ یادیں اس کے دل میں۔۔۔

اسی لیے وہ بھی اس کی یادوں سے آج تک پیچھا نہیں چھڑا پائی تھی اور شائد کبھی بھی اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے۔کیونکہ یہ تو وقت کے ستم ہوتے ہیں اور وقت کے چھوڑے نقوش مٹانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔۔۔(جاری ہے)

تحریر : مسکان احزم