fbpx

سماج کیسے بدل سکتا ہے

Society

Society

تحریر : لقمان اسد

دریائے سندھ کے کنارے آباد ایک گائوں” بستی سوئیہ “میں میرے بچپن کا دوست حافظ غلام سرور رہتا ہے۔ میں جب بھی اُس سے ملنے جاتا ہوں وہ اپنے گائوں میں مقیم ایک بوڑھی اماں کاذکر ضرور کرتا ہے اور کہتا ہے تم جب بھی آتے ہومیں سوچتا ہوں کہ تمھیں ان سے ملوائوں لیکن ہر بار میرے ذہن سے یہ بات اتر جاتی ہے۔ میں نے پوچھا آپ مجھے اس بوڑھی ماں سے کیوں ملوانا چاہتے ہووہ کہنے لگا کہ یہ بہت ذہین عورت ہے ،بہت پتے کی باتیں سناتی ہے ۔ تم چونکہ ایک لکھاری ہو اس لئے بہت عر صہ سے یہ بات میرے ذہن میں ہے کہ کبھی تمھاری ملاقات ان سے کرائوں گا۔کل اچانک مجھے ایک کام کے سلسلہ میں علاقہ نشیب کی طرف جانا پڑا تو میں اپنے دوست کے ہاں چلاگیااور ہم دونوں بوڑھی اماں سے ملنے ان کے گھر چلے گئے۔

کچا گھر ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے گھر کو ایسے صاف ستھرا رکھا ہوا تھا کہ وہاں بیٹھ کر یہ ہر گز محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ ہم کسی مٹی کے بنے گھر کے اندر بیٹھے ہو ئے ہیں ۔گھر میں موجود تمام چیزیں برتن وغیرہ بہت خوبصورتی اور ترتیب سے رکھے ہو ئے تھے۔سب سے پہلے بوڑھی اماں ہمارے لئے چائے بنا کر لائی اور پھر ہمارے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں “بیٹا! بہت خوشی ہو ئی کہ آپ مجھ سے ملنے کے لئے میرے گھر آئے کیوں کہ ہم نفسا نفسی کے ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں کہ جس میں پیار محبت اور رشتہ داریاں برائے نام ہی رہ گئی ہیں۔ بتانے لگیں کہ جوانی کے ہی ایام میں اسے بیوہ ہو نے کی اذیت نے آلیا۔میرے چار بچے تھے میں نے فیصلہ کیا کہ میں نے ہی اب ان بچوں کے سر پر باپ کا دستِ شفقت بھی رکھنا ہے میں نے اپنے چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کو لوگوں کے گھروں میں کام کاج اور محنت مزدوری کر کے پالا پوسا ۔بیٹیاں پرائی امانت ہوتی ہیں دونوں بیٹیوں کے جواں ہوتے ہی میں نے امانتیں مالکوں کو لوٹا دیں یعنی ان کی شادی کر دی۔

پھر کچھ برس بعد دونوں بیٹے بھی جو ان ہو گئے۔ ان میں سے ایک کو غربت کے باوجود میں نے میٹرک تک پڑھایا جب کہ دوسرے بیٹے نے گائوں میں محنت مزدوری کر کے میرا ہاتھ بٹانا شروع کیا اور میںاسے تعلیم نہ دلا سکی البتہ گھر میں ہی اسے میں نے قرآن مجید حفظ کرایا ۔اب میں چاہتی تھی کہ میرے بیٹوں کی بھی کہیں شادی ہو جائے ان کے رشتوں کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتی اور ماری ماری پھر تی رہی۔ خاوند سر پر ہو تو عورت کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ،وہ حالات کی ستم ظریفیوں پر نہیں کڑھتی ،اسے کسی دکھ کااحساس گھیر بھی لے تو وہ اسے مستقل روگ میں نہیں بدلنے دیتی ۔لیکن جواں عمری میں ہی یہ رفاقت اگر ٹوٹ جائے اور خاوند اللہ کو پیارا ہو جائے تو پھر کئی بکھیڑے اور دُکھٹرے سر درد بن جاتے ہیں۔ میاںبیوی کا رشتہ بھی بہت عجیب اور کیا بے نظیر وبے مثل ہے۔ بیوی دنیا سے رخصت ہو جائے تو خاوند کے لئے بھی زندگی بسر کرنامشکل ہو جاتا ہے لیکن خاوند کے دنیا سے چلے جانے سے تو بیوہ عورت کی ہر خواہش حسرت میں بدل جاتی ہے ۔

میں ایک بے سہارا اور بیوہ عورت تھی نہ مال نہ جائیداد،بس اللہ ہی کا سہارا تھا،جس کسی سے بھی بیٹوں کے رشتوں کی بات چلاتی وہ سنی ان سنی کر دیتے پھر ایک اللہ والے کے پاس گئی اس نے دعا کے ساتھ دوا بھی کی اور میرے دونوں بیٹے آج شادی شدہ ہیں اور اللہ کے فضل و کر م سے خوش باش زندگی گزار رہے ہیں ۔ کہنے لگیں کہ اب ہزار میں سے کوئی ایک آدمی ایسا مل جائے تو بہت بڑی غنیمت ہے جو کسی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے حالانکہ پرانے وقتوں کے لوگ اس بات میں عظمت و بڑائی سمجھتے تھے کہ کسی ضرورت مند اور حاجت مند کے کام آتے، اس کی امداد کرتے تو انھیں بڑی خوشی محسوس ہو تی اور ان کا ضمیر ایسے عمل سے مطمئن ہوتا تھا مگر آج کل کسی لا چار اور بے بس کی فریاد کو سن کر مذاق اڑانے اور ٹال دینے میں ہی لوگوں کی اکثریت بڑائی اور عظمت تصور کرتی ہے ۔اگر ایک چھوٹی سی بات انسان سمجھ لے تو یہی دنیاجنت میں تبدیل ہو سکتی ہے ،وہ بات یہ ہے کہ بڑے ،بڑے محلات مٹی کاڈھیر بن جائیں گے،

صدیاں بیت چکی ہیں انسان آتا ہے اور اس فانی دنیاسے خالی ہاتھ ہی رختِ سفر باندھ کر اگلے جہان سدھار جاتا ہے۔نہ سرمایہ دار اپناسرمایہ ساتھ لے کر جاتا ہے اور نہ ہی جاگیر دار اپنے رقبے اور زمینیں۔ ہم بوڑھی اماں کی باتیں بہت توجہ سے سن رہے تھے اور وہ مسلسل روانگی کے ساتھ گفتگو کر رہی تھی ۔اس کی ایک ایک بات مفکرانہ ،پر مغز اور مبنی برحقیت تھی۔ بہت سا وقت پلک جھپکتے میں ہی گزر گیا ۔ یہ احساس بھی نہ ہوا کہ ہم بہت دیر سے یہاںان کے پاس بیٹھے ہیں جب ہم بوڑھی اماں سے اجازت لینے لگے تو وہ گویا ہوئیں کہ میں سوچتی رہتی ہوں کہ معاشرے کو بااخلاق،باصلاحیت ،باشعوراور ہونہار نوجوان دینے والی وہ مائیں نہ جانے کہاں گم ہو گئیں۔ آج بھی اگر سب مائیں یہ سوچ لیں کہ ہم نے اپنے بچوں کی پروش اور تربیت بہتر سے بہتر طریقے سے کرنی ہے اور اُنھیں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ہے تو ہمارا معاشرہ خوبصورت معاشرہ بن سکتا ہے کیوں کہ بچوں کی تربیت کے حوالے سے “ماں”سب سے بڑے مدرسے اور یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے ۔

سبھی مائیں اپنا تربیتی کورس اور نصاب تبدیل کر لیں تو ہمارے سماج میں مثبت تبدیلی کو آنے سے کو ئی نہیں روک سکتا ۔شام ڈھلنے لگی اور ہم بوڑھی اماں کے گھر سے باہر نکل رہے تھے میں نے پیچھے مڑکر دیکھا ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک رہے تھے اور وہ یہ دعائیہ کلمات بار بار دھرا رہی تھیں “بیٹا اللہ کی امان ہو”
تب مجھے معروف شاعر احمد سلمان یا آئے۔

یہ شہر سارا تو روشنی میں کھلا پڑا ہے سو کیا لکھوں میں
وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اِک دیا ہے وہ شاعری ہے
تما م دریا جو اِک سمند ر میں گر رہے ہیں تو کیا عجب ہے
وہ ایک دریاجو راستے میں رہ گیا ہے وہ شاعری ہے

Luqman Asad

Luqman Asad

تحریر : لقمان اسد