fbpx

سپریم کورٹ کا فیصلہ: مختلف حلقوں کا خیرمقدم

Police

Police

پشاور (اصل میڈیا ڈیسک) ضلع کرک میں منہدم کیے مندر کی تعمیر نو کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پورے پاکستان میں پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ ملک کے سیاست دان اور ہندو برادری اس فیصلے کو تاریخی قرار دے رہے ہیں۔

کچھ دنوں پہلے صوبہ خیبر پختنونخوا کے ضلع کرک کے ایک گاؤں میں سینکڑوں مشتعل افراد نے ایک قدیم مندر اور ایک بزرگ کی سمادھی کو آگ لگا دی تھی۔مقامی پولیس کے مطابق اس واقعے میں جے یو آئی ایف کے کچھ کارکنان اور مقامی افراد ملوث تھے، جن میں مولانا محمد شریف بھی تھے، جن کا تعلق بھی فضل الرحمن گروپ سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے سو سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جس میں جے یو آئی ایف کے کارکنان بھی شامل ہیں۔

اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ایم این اے رمیش کمار نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے ایک ملاقات میں اس واقعے کا نوٹس لینے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے آج اس ازخود نوٹس میں فیصلہ سناتے ہوئے متروک املاک بورڈ کو مندر کی تعمیر کا دوبارہ سےحکم دیا، غیر فعال اور فعال مندروں اور گوردواروں کی فہرست عدالت کو مہیا کرنے کی ہدایت کی اور پورے پاکستان میں مندروں یا ان کی زمینیوں پر تجاوزات کو ختم کرنے کا بھی حکم دیا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ مندر کی تعمیر کے لیے پیسے اشتعال انگیزی پھیلانے والوں سے بھی لیے جائیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا، ”جنہوں نے یہ کام کیا ہے، آپ لوگوں کو ان سے پیسے ریکور کرنے ہیں۔ اس مولوی اور اس کے پیروکاروں سے۔‘‘

اس فیصلے سے ملک کے کئی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس فیصلے کو قابل ستائش قرار دے رہے ہیں۔

سیاست دانوں نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے تاریخی قرار دیا ہے۔ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”یہ بہت قابل ستائش فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ویژن کا صحیح عکاس ہے، جنہوں نے فرمایا تھا کہ پاکستان میں رہنے والے سارے شہری چاہے ان کا مذہب یا فرقہ کچھ بھی ہو، وہ ریاست اور قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ اس شاندار فیصلے سے ہمارے غیر مسلم پاکستانیوں میں احساس تحفظ بڑھے گا اور جو نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں اور اشتعال انگیزی پھیلاتے ہیں، ان کے دل میں قانون کا خوف بیٹھے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کو فورا قانون کی گرفت میں لایا جائے تاکہ ایسے عناصر کا قلع قمع ہو سکے۔‘‘

ملک کی ہندو برادری بھی اس اقدام پر بہت خوش ہے۔ تاہم کمیونٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو مزید اقدامات کرنا چاہیے۔ پاکستان ہندو فورم کے صدر ڈاکٹر جے پال چھابڑیا نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس فیصلے کی جتنی بھی تعریف کی جائے یہ کم ہے۔ اس سے قانون کی حکمرانی کو فروغ ملے گا اور اشتعال انگیزی دلانے والوں کے دل میں قانون کا خوف بیٹھے گا۔ معرزعدالت نے فعال اور غیرفعال مندروں اور گوردواروں کی تفصیلات طلب کر کے بھی غیر مسلم پاکستانیوں کے دل جیت لیے ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو ہندو برادری کی جائیدادیں بھی واگزار کرانا چاہیے۔”کراچی میں ہندو جم خانہ کو ہماری برادری کے حوالے کیا جانا چاہیے اور اس کے علاوہ جن مندروں یا جائیدادوں پر قبضے ہوئے ہیں، انہیں بھی آزاد کرانا چاہیے۔ متروکہ بورڈ کا سربراہ کسی ہندو کو بنانا چاہیے کیونکہ ایسی زیادہ تر جائیدادیں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہیں۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کی قانونی مدد کے لیے ایس ایچ اوز کو بھی سول سروس امتحان کے ذریعے تعین کرنا چاہیے کیونکہ کم پڑھے لکھے پولیس والے ہمارے مسائل نہ ہی سمجھتے ہیں اور نہ تعاون کرتے ہیں۔‘‘

مولانا محمد شریف کی فیملی کا کہنا ہے کہ وہ غریب ہیں اور پیسے ادا نہیں کرسکتے اور یہ کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ مولانا محمد صدیق، مولانا محمد شریف کے بیٹے، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ میرے والد گاؤں کی جامع مسجد میں مفت نماز پڑھاتے ہیں۔ میں بھی امامت کرتا ہوں اور میری تنخواہ صرف دوہزار روپے ہے اور میرا بھائی جو کسی دوسرے علاقے میں امامت کرتا ہے، اس کی تنخواہ آٹھ ہزار کے قریب ہے۔ تو ہم کہاں سے پیسے لائیں گے۔ ان تنخواہوں سے بمشکل ہم اپنا گھر چلا پاتے ہیں۔ ہم سات بہن بھائی ہیں اور ہم ان پیسوں کا بندوبست نہیں کر سکتے، جو سپریم کورٹ نے دینے کا کہنا ہے۔ ہم مشورہ کر کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کو مندر کے حوالے سے کوئی پشیمانی نہیں ہے، ”میرے والد نے مندر کی مخالفت نہیں کی بلکہ جب انہوں نے معاہدے کے بر خلاف مزید زمینیں لینی شروع کی تو میرے والد نے مخالفت شروع کی کیونکہ ماضی میں سپریم کورٹ نے صرف دس بائی آٹھ کی جگہ کا حکم دیا تھا لیکن ہندو برادری نے ایک کینال سے بھی زیادہ جگہ لے لی تھی۔‘‘