شام میں ایک عشرے کے بعد بحرین کے سفیر کا تقرر

Bashar al-Assad

Bashar al-Assad

دمشق (اصل میڈیا ڈیسک) بحرین نے کوئی ایک عشرے کے بعد شام کے دارالحکومت دمشق میں اپنے پہلے سفیر کاتقرر کیا ہے۔بحرین نے 2011ء میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے خلاف صدر بشارالاسد کی حکومت کے خونیں کریک ڈاؤن کے ردعمل میں شام سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی بی این اے کی رپورٹ کے مطابق وحیدمبارک سیّار کو دمشق میں نیا سفیر مقرر کیا گیا ہے اور ان کا تقرر مشرقِ اوسط میں سفارتی تبدیلی کا آئینہ دارہے کیونکہ بیشترعرب ممالک اب شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ سفارتی اور سیاسی تعلقات بحال کررہے ہیں۔بحرین کا کہنا ہے کہ اس کا دمشق میں سفارت خانہ اورمنامہ میں شام کا سفارتی مشن کام کررہے ہیں۔

یادرہے کہ شامی حکومت نے 2011ء میں عوامی احتجاجی مظاہروں کوکچلنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا اور اس کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں شام میں خانہ جنگی چھڑگئی تھی۔اس کے بعد خلیجی عرب ریاستوں نے دمشق میں اپنے سفارتی عملہ کوکم کردیا تھا یا سفارت خانوں کو سرے سے بند کردیا تھا۔

گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے اپنے وزیرخارجہ کو دمشق کے دورے پربھیجا تھاجہاں انھوں نے صدربشارالاسد سے ملاقات کی تھی۔اس کے بعد یواے ای نے شام کو عرب لیگ میں دوبارہ شامل کرنے کامطالبہ کیا تھا۔اس نے 2018ء کے آخرمیں دمشق میں اپنا مشن دوبارہ کھولا تھا۔

ابوظبی نے شام میں اسدنواز قوتوں کی فیصلہ کن برتری کے بعد دمشق کے ساتھ ازسرنوتعلقات استوار کرلیے ہیں اور امید ظاہر کی کہ بشارالاسد کی حمایت کرنے والے غیر عرب ایران کے مقابلے میں شام میں عربوں کا اثرورسوخ بڑھ جائے گا۔

متحدہ عرب امارات شام میں باغی گروہوں کی پشت پناہی کرنے والی متعدد علاقائی ریاستوں میں سے ایک تھا۔اگرچہ اس کا کردار سعودی عرب اور قطرکے مقابلے میں کم نمایاں تھا۔ان دونوں ممالک نے ابھی تک دمشق کے ساتھ دوبارہ سفارتی تعلقات بحال نہیں کیے ہیں۔عمان گذشتہ سال شام میں سفیر کا تقررکرنے والا پہلا خلیجی عرب ملک تھا۔